ہوم » نیوز » Explained

Explained: کیوں نائجیریا جیسا غریب ملک بٹکوائن میں دنیا میں لیڈر ہے؟

بٹکوائن سمیت سبھی طرح کی کرپٹوکرنسی پرماہر معاشیات اپنا خدشہ ظاہرکر رہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ کسی روز بٹکوائن کا غبارہ پھوٹ سکتا ہے۔

  • Share this:
Explained: کیوں نائجیریا جیسا غریب ملک بٹکوائن میں دنیا میں لیڈر ہے؟
Explained: کیوں نائجیریا جیسا غریب ملک بٹکائن میں دنیا میں لیڈر ہے؟

بٹکوائن کا نام آج کل آئے دن سرخیوں میں رہتا ہے۔ انوسٹمنٹ کی دنیا میں کافی مشہور بٹکوائن کے بارے میں سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ نائجیریا جیسا اقتصادی طور پر بدحال ملک اس معاملے میں سب سے آگے ہے۔ وہاں پر سرمایہ کاری کے دوسرے روایتی طریقوں کے بجائے اسی پر سب سے زیادہ بھروسہ کیا جا رہا ہے، جبکہ دنیا کے کئی ملک اپنے یہاں بٹکوائن پر پابندی لگانے کی کوشش میں ہیں۔


نائجیریا سے بٹکوائن کا تعلق سمجھنے سے پہلے ایک بار یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ آخر یہ ہے کیا۔ بٹکوائن ایک طرح کی کرپٹوکرنسی ہے۔ یعنی وہ پیسے جو خفیہ ہیں، یعنی یہ پیسے ایک طرح کی ڈیجیٹل کرنسی ہیں، جو کرپٹوگرافی کی مدد سے بنتے ہیں۔ یہاں کرپٹو گرافی کا مطلب ہے کوڈنگ کو سلجھانے کا فن۔


بٹکوائن ایک طرح کی ڈیجیٹل منی ہے، جس کی تلاش سال 2009 میں ستوشی ناکا موٹو نام کے کسی شخص نے کی تھی۔ حالانکہ موجد کے نام پر کئی تنازعہ ہیں۔ کئی لوگ اسے جاپان کا نہیں مانتے ہیں، بلکہ مانتے ہیں کہ شناخت چھپاکر کسی نے یہ کام کیا۔ جو بھی ہو، سال 2009 میں کرپٹو کرنسی کے آنے کے بعد سے اس کی مقبولیت بڑھتی چلی گئی۔


نائجیریا میں کرپٹو کرنسی پر بھروسہ میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ علامتی تصویر (pixabay)
نائجیریا میں کرپٹو کرنسی پر بھروسہ میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ علامتی تصویر (pixabay)


اگر کسی کے پاس کرپٹو کرنسی ہے جو اس کے پاس پیسے ہیں، بھلے ہی وہ نظر نہ آ رہے ہوں۔ اس سے آن لائن خریداری بھی ہوتی ہے اور سرمایہ کاری کی طرح بھی رکھا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ یہ ای والیٹ میں بھی ہوتے ہیں، جو ٹرانسفر بھی ہوسکتے ہیں۔

نائجیریا میں کرپٹو کرنسی پر بھروسہ تیزی سے بڑھا۔ سال 2020 میں ہوا ایک سروے بتاتا ہے کہ تقریباً 32 فیصد نائجیرین کرپٹوکرنسی کا استعمال کرتے ہیں۔ یہ آبادی کے لحاظ سے کسی بھی ملک سے کہیں زیادہ ہے۔ دنیا کے 10 ٹاپ ممالک، جو بٹکوائن پر یقین کرتے ہیں، ان میں امریکہ اور روس کے بعد تیسرا نمبر نائجیریا کا ہے۔

ویسے یہ جاننے کی بات ہے کہ نائجیریا اقتصادی بدحالی کے دور سے گزر رہا ہے۔ گزشتہ پانچ سالوں میں اس ملک نے دوسری مندی دیکھی۔ سینٹرل بینک آف نائجیریا نے سال 2020 میں وہاں کی کرنسی نائیرا کی قیمت 24 فیصد کم ہونے کا اعلان کیا۔ اب ڈر بتایا جارہا ہے کہ کرنسی کی تشخیص ہوسکتی ہے۔ اس درمیان کھانے پینے کے سامان کی قیمت میں تیزی سے اضافہ ہوا۔

مندی کے دور میں پیسوں کے متبادل نظام کے طور پر کرپٹو کرنسی لبھا رہی ہے۔ (Photo- news18 via Reuters)
مندی کے دور میں پیسوں کے متبادل نظام کے طور پر کرپٹو کرنسی لبھا رہی ہے۔ (Photo- news18 via Reuters)


حالانکہ اسی مندی کے دور میں پیسوں کے متبادل نظام کے طور پر کرپٹوکرنسی لبھا رہی ہے۔ اس ڈیجیٹل کرنسی پر پیسے لگانے سے پیسے تیزی سے بڑھتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ بٹکائن کے ریٹرن غیر معمولی ہیں اور اس میں پیسے لگانے پر کم وقت میں ریٹر نظر آجاتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ اقتصادی عدم استحکام سے جدوجہد کر رہے نائیجیرین کم وقت میں زیادہ پیسے کمانے کے لئے کرپٹو کرنسی کی طرف متوجہ ہوئے۔ کچھ لوگوں کے لئے یہ ملک سے بینک اکاونٹ سے دوسرے اکاونٹ میں ٹرانسفر کرنے کے دوران چارجز کم کرنے کا طریقہ ہے۔

حالانکہ بٹکائن سمیت سبھی طرح کی کرپٹوکرنسی پر ماہر معاشیات اپنا خوف ظاہر کر رہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ جیسے اس میں سرمایہ کاری پر تیزی سے بڑھتے ہوئے نظر آتے ہیں، ویسے ہی کسی روز غبارہ پھوٹ بھی سکتا ہے۔ تب وہ اقتصادی بدحالی آئے گی، جس کا کوئی اندازہ بھی نہیں لگا سکتا۔ اس میں کئی تکنیکی پریشانیاں ہیں، جس کے سبب ملک کے بینک اسے چاہتے ہوئے بھی ریگولیٹ نہیں کر پا رہے ہیں۔

بکٹائن سمیت سبھی طرح کی کرپٹو کرنسی پر ماہر معاشیات اپنا خدشہ ظاہر کر رہے ہیں۔ (Photo- news18 via AFP)
بکٹائن سمیت سبھی طرح کی کرپٹو کرنسی پر ماہر معاشیات اپنا خدشہ ظاہر کر رہے ہیں۔ (Photo- news18 via AFP)


نائجیریا میں اسی سال کرپٹو کرنسی پر پابندی کی بات ہو رہی ہے، تاکہ آنے والے وقت میں ملک کسی بڑے اقتصادی نقصان سے بچا رہ سکے۔ حالانکہ کئی ملک ایسے بھی ہیں، جنہوں نے اپنے یہاں اسے ریگولیٹ کر رہے ہیں تاکہ یہ بنے بھی رہیں اور صاف ستھری سرمایہ کاری بھی رہے۔ ان میں امریکہ، چین، جاپان، جرمنی، جنوبی کوریا اور آسٹریلیا جیسے بڑے ملک شامل ہیں۔

کچھ وقت پہلے ہی ہندوستان میں کرپٹو کرنسی پر پابندی عائد کرنے کی بات ہوئی اور یہ بھی کہا گیا کہ متبادل کے طور پر ریزرو بینک آف انڈیا اپنی ڈیجیٹل کرنسی لا سکتا ہے۔ حالانکہ اس کی پروگریس یہاں تک ہوئی، اس بارے میں فی الحال کوئی اطلاع نہیں ہے۔ دوسری طرف بٹکوائن پر پابندی عائد کرنے کی بھنک ملتے ہی ہندوستان میں کئی بڑے تاجر اسے روکنے کی مہم چلا رہے ہیں۔ اسے #IndiaWantsBitcoin نام دیا گیا ہے۔ تاجروں اور سرمایہ کاروں کا ماننا ہے کہ حکومت کو سبھی فریق سے بات کرکے کوئی درمیانی راستہ نکالنا چاہئے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Mar 31, 2021 11:55 PM IST