ہوم » نیوز » Explained

Explained: کیا ہے سزائے موت اور کیوں مسلسل تنازعہ میں رہا؟

حقوق انسانی کے ادارے دلیل دیتی رہی ہیں کہ سزائے موت (capital punishment) سے مجرم کے سدھرنے کی گنجائش ختم ہوجاتی ہے۔ ساتھ ہی اس سے مجرم کی ذہنیت کے لوگ متاثرہ کا قتل بھی کر سکتے ہیں تاکہ ان کا راز نہ کھل جائے۔

  • Share this:
Explained: کیا ہے سزائے موت اور کیوں مسلسل تنازعہ میں رہا؟
Explained: کیا ہے سزائے موت اور کیوں مسلسل تنازعہ میں رہا؟

اترپردیش کے امروہہ میں اپریل 2008 میں ایک قتل معاملے کو لے کر زبردست ہنگامہ ہوا تھا، جس میں شبنم نام کی لڑکی نے اپنے عاشق کے ساتھ مل کر اپنے ہی اہل خانہ کا قتل کردیا تھا۔ مہلوکین میں تقریباً 11 ماہ کا بچہ بھی تھا۔ اس معاملے میں سپریم کورٹ نے شبنم کو پھانسی کی سزا سنائی، حالانکہ پھانسی روکنے کے لئے قصوروار نے رحم کی عرضی بھیجی، جس کے سبب سزا کچھ وقت کے لئے ملتوی ہوگئی، اس درمیان سزائے موت یعنی کیپٹل پنشمنٹ پر بحث ایک بار پھر گرم ہوگئی ہے۔


کیوں ہو رہی ہے چرچا


شبنم معاملے کے ساتھ مسلسل سزائے موت پر بحث ہو رہی ہے کہ کیا اسے ہمیشہ کے لئے ختم کردینا چاہئے۔ اس سزا کے خلاف بولنے والوں کی دلیل ہے کہ موت کے ساتھ ہی مجرم کے سدھرنے کی گنجائش ختم ہوجاتی ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ موت کے خوف سے مجرم متاثرہ کو جان سے مار دے، ایسا خدشہ بڑھتا ہے۔ اس بارے میں انگریز اخبار انڈین ایکسپریس میں ماہر قانون ڈاکٹر فیضان مصطفیٰ کا اداریہ تفصیل سے بات کرتا ہے۔


شبنم نام کی لڑکی نے اپنے عاشق کے ساتھ مل کر اپنے ہی اہل خانہ کا قتل کردیا تھا۔
شبنم نام کی لڑکی نے اپنے عاشق کے ساتھ مل کر اپنے ہی اہل خانہ کا قتل کردیا تھا۔


کون ہیں ڈاکٹر فیضان مصطفیٰ

سزائے موت کے بارے میں جاننے سے پہلے ایک بار ڈاکٹر فیضان مصطفیٰ کے بارے میں جانتے ہیں۔ وہ ماہر تعلیم کے ساتھ ساتھ قانون کے جانکار بھی ہیں۔ فی الحال وہ حیدرآباد کی NALSAR یونیورسٹی آف لا کے وائس چانسلر ہیں۔ ڈاکٹر فیضان مصطفیٰ نے علی گڑوھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور قانون میں گریجویشن کے بعد یہیں سے ایل ایل ایم بھی کیا۔ اس کے علاوہ وہ کاپی رائٹ لا میں ڈاکٹریٹ ہیں۔ حالانکہ ڈاکٹر فیضان مصطفیٰ صرف پڑھنے پڑھانے سے نہیں جڑے، بلکہ وہ مسلسل نئے نئے موضوعات پر عام لوگوں سے اداریے کے ذریعہ بات کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ خاص طور پر قانون پر وہ عام زبان میں مسلسل لکھتے ہیں تاکہ لوگوں میں بیداری آئے۔

اب باری آتی ہے کہ کیا ہے سزائے موت، جو مسلسل سرخیوں میں رہا۔ کسی شخص کو قانونی طور پر عدالتی عمل کے تحت کسی جرم کے لئے موت دینا ہی کیپٹلس پنشمنٹ ہے۔ ہمارے ملک میں یہ سزا سخت سے سخت معاملوں میں ہی دی جاتی ہے۔

کسی شخص کو قانونی طور پر عدالتی عمل کے تحت کسی جرم کے لئے موت دینا ہی سزائے موت ہے۔ علامتی تصویر: (pixabay)
کسی شخص کو قانونی طور پر عدالتی عمل کے تحت کسی جرم کے لئے موت دینا ہی سزائے موت ہے۔ علامتی تصویر: (pixabay)


نربھیا معاملے سے آیا موڑ

دسمبر، 2012 کے دہلی کے نربھیا اجتماعی آبروریزی اور قتل معاملے کے بعد آئینی ترمیم کے ذریعہ آئی پی سی کی دفعہ -376 (ای) کے تحت بار بار آبروریزی کے قصورواروں کو عمر قید یا موت کی سزا کا التزام کیا گیا تھا۔ بامبے ہائی کورٹ نے بار بار آبروریزی کے قصوروار کو عمر قید یا موت کی سزا دینے کے لئےآئی پی سی ایکٹ میں کی گئی اس ترمیم کی آئینی اقدار کو برقرار رکھا۔ آبروریزی ہندوستانی قانون کے تحت سنگین زمرے میں آتا ہے۔ اس جرم کے لئے تعزیرات ہند میں دفعہ 376 مصد 375 کے تحت سزا کا التزام ہے۔ وہیں، مرکزی حکومت نے 12 سال سے کم عمر کی بچیوں سے آبروریزی کے معاملوں میں قصوروار ٹھہرائے گئے اشخاص کو سزائے موت سمیت سخت سزا دینے کا آرڈیننس جاری کیا تھا۔

حکومت کی مخالفت میں لڑائی چھیڑنے پر سزا

حکومت کے خلاف جنگ چھیڑنے یا ایسی کوشش کرنے والے کو آئی پی سی کی دفعہ-121 کے تحت موت کی سزا کا التزام کیا گیا ہے۔ اس جرم میں اگر پھانسی کی سزا نہیں دی جاتی ہے، تو تاحیات قید اور جرمانہ بھی لگایا جاسکتا ہے۔ وہیں، اگر فوج، ہندوستانی فضائیہ یا بحریہ کا کوئی افسر یا فوجی حکومت کے خلاف اپنے ساتھیوں یا عام لوگوں کو حکومت کے خلاف بغاوت کے لئے اکساتا ہے اور بغاوت بھڑک جاتا ہے تو قصوروار کو دفعہ-132 کے تحت موت کی سزا کا التزام ہے۔ اس جرم میں بھی تاحیات عمر قید یا 10 سال تک کی سخت قید اور جرمانے کی سزا بھی دی جاسکتی ہے۔

کچھ زمرے کے لوگوں کو موت کی سزا نہیں دی جاتی ہے۔ علامتی تصویر: (pixabay)
کچھ زمرے کے لوگوں کو موت کی سزا نہیں دی جاتی ہے۔ علامتی تصویر: (pixabay)


خودکشی کے لئے اکسانا

اگرکوئی یشخص بچوں یا 18 سال سے کم عمرکے بچوں اور نوجوانوں کو خود کشی کے لئے اکساتا ہے اور اس کی ایسی کوشش میں موت ہوجاتی ہے تو قصورواروں کو آئی پی سی کی دفعہ 305 کے تحت سزائے موت کا نظم کیا گیا ہے۔ اسی دفعہ کے تحت پاگل شخص کو بھی خود کشی کے لئے اکسانے کے بعد کی گئی کوشش میں موت ہوجانے پر سزائے موت  کا التزام ہے۔ اس دفعہ کے تھت موت کی سزا نہیں دیئے جانے پر 10 سال لے کر عمر قید تک کا التزام ہے۔ وہیں، عدالت سزا کے ساتھ جرمانہ بھی عائد کرسکتی ہے۔

ریلوے میں بھی موت کی سزا

آئی پی سی کے علاوہ ہندوستانی ریلوے ایکٹ کا سیکشن-124 کے تحت بھی موت کی سزا کا التزام ہے۔ اگر کوئی شخص یہ جانتے ہوئے بھی ٹرین کو نقصان پہنچاتا ہے کہ اس سے مسافروں کی جان جاسکتی ہے تو اس سیکشن کے تحت اسے موت کی سزا دی جاسکتی ہے۔ ایمرجنسی میں موثر ہونے والے ڈیفنس آف انڈیا ایکٹ کے سیکشن 18-2 کے تحت خصوصی عدالت کو پھانسی کی سزا دینے کا اختیار ہوتا ہے۔ وہیں، نشیلی دوا ایکٹ میں بھی موت کی سزا کا التزام کیا گیا ہے۔ ان سبھی دفعات میں تب تک پھانسی نہیں دی جاسکتی، جب تک کہ آئی پی سی کی دفعہ-433 کے تحت عدالت منظوری نہیں دے دیتا۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Mar 29, 2021 09:37 PM IST