ہوم » نیوز » Explained

Explained: کیا ہوتا ہے انتخابات کے دوران مثالی ضابطہ اخلاق ؟

اسمبلی انتخابات کا اعلان ہونے کے ساتھ ہی پانچ ریاستوں میں مثالی ضابطہ اخلاق (assembly elections and code of conduct) بھی نافذ ہوگیا ہے ۔ اس کے نفاذ ہوتے ہی حکومت اور انتظامیہ میں کئی اہم تبدیلیاں ہوجاتی ہیں ۔

  • Share this:
Explained: کیا ہوتا ہے انتخابات کے دوران مثالی ضابطہ اخلاق ؟
Explained: کیا ہوتا ہے انتخابات کے دوران مثالی ضابطہ اخلاق ؟

مغربی بنگال سمیت تمل ناڈو ، کیرالہ ، آسام اور پڈوچیری میں اسمبلی انتخابات ہونے جارہے ہیں ۔ ان انتخابات کیلئے الیکشن کمیشن میں سرگرمیاں تیز ہیں ۔ ساتھ ہی ساتھ مثالی ضابطہ اخلاق بھی نافذ ہوچکا ہے ۔ ملک میں آزادانہ انتخابات کرانے کیلئے الیکشن کمیشن کے بنائے گئے ان ضابطوں یعنی مثالی ضابطہ اخلاق پر عمل کرنا سبھی سیاسی پارٹیوں کی ذمہ داری ہوتی ہے ۔


پانچ ریاستوں میں الیکشن کی تاریخ کے اعلان کے ساتھ ہی مثالی ضابطہ اخلاق بھی نافذ ہوگیا ہے ۔ اس کے تحت کئی ضابطے ہیں ، جن پر عمل آوری ضروری ہوتی ہے ۔ ساتھ ہی ان ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والوں کیلئے سزا کا بھی بندوبست ہے ۔ مثالی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر تعزیراتی کارروائی کی جاسکتی ہے ، جو کئی طرح کی ہوسکتی ہے ۔


مثالی ضابطہ اخلاق کی وجہ سے ان کاموں پر پابندی ہوتی ہے ، جن سے کسی بھی طرح سے ووٹر متاثر ہوسکیں ۔ جیسے :


عوامی افتتاح ، سنگ بنیاد۔

نئے کاموں کی منظوری بند ہوگی۔

سرکار کی حصولیابیوں والے ہورڈنگس نہیں لگیں گے ۔

متعلقہ اسمبلی انتخابی حلقہ میں حکومتی دورے نہیں ہوں گے ۔

سرکاری گاڑیوں میں سائرن نہیں لگے گا ۔

سرکار کی حصولیابی والے لگے ہوئے ہورڈنگس ہٹائے جائیں گے ۔

سرکاری محکموں میں پی ایم ، سی ایم ، وزرا اور سیاسی شخصیات کی تصاویر پر پابندی ہوگی ۔

سرکار کی حصولیابی والے پرنٹ ، الیکٹرانک اور دیگر میڈیا اشتہارات نہیں دے سکیں گے ۔

کسی طرح کی رشوت یا لالچ سے بچیں ، نہ دیں ، نہ لیں ۔

سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے پر خاص خیال رکھیں ۔ آپ کی ایک پوسٹ آپ کو جیل بھیجنے کیلئے کافی ہے ۔ اس لئے کسی طرح کے میسیج کو شیئر کرنے یا لکھنے سے پہلے مثالی ضابطہ اخلاق کے قوانین کو دھیان سے پڑھ لیں ۔

ملک میں آزادانہ انتخابات کرانے کیلئے الیکشن کمیشن کے بنائے گئے ان ضابطوں یعنی مثالی ضابطہ اخلاق پر عمل کرنا سبھی سیاسی پارٹیوں کی ذمہ داری ہوتی ہے ۔
ملک میں آزادانہ انتخابات کرانے کیلئے الیکشن کمیشن کے بنائے گئے ان ضابطوں یعنی مثالی ضابطہ اخلاق پر عمل کرنا سبھی سیاسی پارٹیوں کی ذمہ داری ہوتی ہے ۔


عام آدمی پر بھی لاگو

کوئی عام آدمی بھی ان ضوابط کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس پر بھی مثالی ضابطہ اخلاق کے تحت سخت کارروائی کی جاسکتی ہے ۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ اگر آپ اپنے کسی لیڈر کی تشہیر میں مصروف ہیں تب بھی آپ کو ان ضوابط کے تئیں بیدار ہونا ہوگا ۔ اگر کوئی سیاستداں آپ کو ان ضوابط کے خلاف کام کرنے کیلئے کہتا ہے تو آپ اس کو مثالی ضابطہ اخلاق کے بارے میں بتاکر ایسا کرنے سے منع کرسکتے ہیں کیونکہ ایسا کرتے پائے جانے پر فوری کارروائی ہوگی ۔ زیادہ تر معاملات میں آپ کو حراست میں لیا جاسکتا ہے ۔

ووٹروں کو لبھانے والا اعلان نہیں کرسکتی حکومت

ریاستوں میں الیکشن کی تاریخ کے اعلان کے ساتھ ہی سرکاری ملازمین انتخابی عمل پورا ہونے تک الیکشن کمیشن کے ملازم بن جاتے ہیں ۔ انتخابی مثالی ضابطہ اخلاق الیکشن کمیشن کے بنائے گئے وہ ضوابط ہیں ، جن پر عمل کرنا ہر پارٹی اور ہر امیدوار کیلئے ضروری ہے ۔ ان کی خلاف ورزی کرنے پر سخت سزا ہوسکتی ہے ۔ الیکشن لڑنے پر پابندی لگ سکتی ہے ، ایف آئی آر درج ہوسکتی ہے اور امیدوار کو جیل بھی جانا پڑسکتا ہے ۔

کوئی عام آدمی بھی ان ضوابط کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس پر بھی مثالی ضابطہ اخلاق کے تحت سخت کارروائی کی جاسکتی ہے ۔ (Photo- pixabay)


یہ کام ہیں ممنوع

الیکشن کے دوران کوئی بھی وزیر سرکاری دوے کا الیکشن کیلئے استعمال نہیں کرسکتا ہے ۔ سرکاری وسائل کا کسی بھی طرح الیکشن کیلئے استعمال نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ یہاں تک کہ کوئی بھی برسراقتدار لیڈر سرکاری گاڑیوں اور بھونوں کا الیکشن کیلئے استعمال نہیں کرسکتا ۔ مرکزی حکومت ہو یا پھر کسی بھی ریاست کی حکومت ، نہ تو کوئی اعلان کرسکتی ہے ، نہ افتتاح اور نہ ہی سنگ بنیاد رکھ سکتی ہے ۔

سرکاری اخراجات سے ایسا پروگرام بھی نہیں کیا جاسکتا ہے ، جس سے کسی بھی پارٹی خاص کو فائدہ پہنچتا ہوا ۔ اس پر نظر رکھنے کیلئے الیکشن کمیشن مبصر تعینات کرتا ہے ۔

تھانے میں دینی ہوتی ہے جانکاری

امیدوار اور پارٹی کو جلوس نکالنے یا ریلی اور میٹنگ کرنے کیلئے الیکشن کمیشن سے اجازت لینی ہوتی ہے ۔ اس کی جانکاری نزدیکی تھانوں میں بھی دینی ہوتی ہے ۔ پروگرام کی جگہ اور وقت کی پیشگی اطلاع پولیس افسران کو دینی ہوتی ہے ۔

ووٹ حاصل کرنے کیلئے رشوت دینا ، ووٹروں کو پریشان کرنا مہنگا پڑسکتا ہے ۔ (Photo- news18 creative)


تب ہوسکتی ہے کارروائی

کوئی بھی پارٹی یا امیدوار ایسا کام نہیں کرسکتا ہے ، جس سے ذات ، مذہب یا لسانی برادریوں کے درمیان اختلافات پیدا ہوں اور نفرت پھیلے ۔ ووٹ حاصل کرنے کیلئے رشوت دینا ، ووٹروں کو پریشان کرنا مہنگا پڑسکتا ہے ۔ ذاتی تبصرہ کرنے پر  بھی الیکشن کمیشن کارروائی کرسکتا ہے ۔

شراب یا پیسہ دینے پر روک

کسی کی اجازت کے بغیر اس کی دیوار یا زمین کا استعمال نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ ووٹنگ کے دن ووٹنگ مراکز سے سو میٹر کے دائرے میں انتخابی تشہیر پرروک اور ووٹنگ سے ایک دن پہلے کسی بھی جلسہ جلوس پر روک لگ جاتی ہے ۔ پورے انتخابی عمل کے دوران کوئی سرکاری بھرتی نہیں کی جائے گی ۔ الیکشن کے دوران یہ مانا جاتا ہے کہ کئی مرتبہ امیدوار شراب تقسیم کرتے ہیں ، اس لئے امیدوار کے ذریعہ ووٹرس میں شراب کی تقسیم پر مثالی ضابطہ اخلاق میں پوری طرح سے روک ہے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Mar 08, 2021 10:04 AM IST