ہوم » نیوز » Explained

Explained: کیوں ہندوستان کورونا ویکسین کو پیٹنٹ ضابطہ سے باہر لانے میں مصروف ہے ؟

سودیشی کورونا ویکسین بنانے کے بعد ہندوستان دیگر ممالک کو نہ صرف مفت ٹیکہ تقسیم کرنے میں نہیں لگا ہوا ہے بلکہ ساتھ ہی ساتھ وہ دنیا بھر میں تیار کورونا ویکسین کو پیٹنٹ سے آزاد کرانے کی مہم بھی چلا رہا ہے ۔

  • Share this:
Explained: کیوں ہندوستان کورونا ویکسین کو پیٹنٹ ضابطہ سے باہر لانے میں مصروف ہے ؟
کیوں ہندوستان کورونا ویکسین کو پیٹنٹ ضابطہ سے باہر لانے میں مصروف ہے ؟ ۔ علامتی تصویر ۔ (pixabay)

سودیشی کورونا ویکسین بنانے کے بعد ہندوستان دیگر ممالک کو نہ صرف مفت ٹیکہ تقسیم کرنے میں نہیں لگا ہوا ہے بلکہ ساتھ ہی ساتھ وہ دنیا بھر میں تیار کورونا ویکسین کو پیٹنٹ سے آزاد کرانے کی مہم بھی چلا رہا ہے ۔ اس سے فائدہ یہ ہوگا کہ چھوٹے اور اقتصادی طور پر کمزور ممالک بھی کم قیمت پر ٹیکہ خرید سکیں گے ۔ ہندوستان کی اس کوشش میں 57 ممالک بھی ساتھ آچکے ہیں ۔ حالانکہ ان میں امریکہ ، یوروپ اور چین شامل نہیں ہیں ۔


کورونا وائرس کو پھیلے ہوئے سال بھر سے زیادہ ہوچکا ہے ۔ اس دوران دنیا کے سبھی ممالک کی معیشت بری طرح سے متاثر ہوئی ہے ۔ اب سائنسدانوں سے لے کر اعلی عہدوں پر فائز سبھی لوگ مان رہے ہیں کہ دنیا کو واپس پٹری پر لانے کیلئے ٹیکہ کاری ضروری ہے ۔ ویکسین تیار بھی ہوچکی ہیں ، لیکن ملک اس کو خرید نہیں پارہے ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جلدبازی میں تیار ہوئی ویکسین کی قیمت پہلے سے ہی زیادہ ہے اور ساتھ میں پیٹنٹ کی وجہ سے اس کے دام مزید بڑھے ہوئے ہیں ۔


اسی کے پیش نظر ہندوستانی حکومت نے حال ہی میں ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن سے کورونا کی ویکسین کو انٹلیکچوئل پراپرٹی کے زمرہ سے باہر نکالنے کی اپیل کی ۔ اگر پیٹنٹ ہٹا لیا جائے تو قیمت کافی کم ہوسکے گی ۔


سائنسدانوں سے لے کر اعلی عہدوں پر فائز سبھی لوگ مان رہے ہیں کہ دنیا کو واپس پٹری پر لانے کیلئے ٹیکہ کاری ضروری ہے ۔ علامتی تصویر ۔ (pixabay)
سائنسدانوں سے لے کر اعلی عہدوں پر فائز سبھی لوگ مان رہے ہیں کہ دنیا کو واپس پٹری پر لانے کیلئے ٹیکہ کاری ضروری ہے ۔ علامتی تصویر ۔ (pixabay)


کیا ہے پیٹنٹ

یہ وہ قانونی اختیار ہے ، جو کسی ادارہ یا پھر کسی شخص یا ٹیم کو کسی پروڈکٹ ، ڈیزائن ، ریسرچ اور کسی خاص سروس کا اختیار فراہم کرتا ہے ۔ ایک مرتبہ کسی نئی چیز کا کوئی پیٹنٹ حاصل کرلے تو اس کے بعد کوئی دوسرا شخص ، ملک یا ادارہ اجازت کے بغیر اس چیز کا استعمال نہیں کرسکتا ہے ۔ اگر وہ ایسا کرتا ہے تو اس کو انٹلیکچوئل پراپرٹی کی چوری مانا جاتا ہے اور قانونی کارروائی ہوتی ہے ۔ کل ملاکر پیٹنٹ جس کے نام پر ہے ، اس کی ریسرچ یا پروڈکٹ کے استعمال پر اس کو ہی پورا فائدہ مل سکے ، اس کیلئے یہ قانون بنایا گیا ہے ۔

پیٹنٹ پر ملتی ہے رایلٹی

خاص طور پر ریسرچ یا پروڈکٹ کو نقل سے بچانے کیلئے پیٹنٹ کا قانون بنایا گیا ہے ۔ ریسرچ کرنے والوں کو اپنے پروڈکٹ کا اختیار مل جاتا ہے ۔ اس کے بعد اجازت کے بغر اگر کوئی دوسرا اس کی نقل کرتا ہے تو حوالات سے لے کر بڑا جرمانہ بھرنا پڑسکتا ہے ۔ وہیں اجازت لینے کیلئے دوسری کمپنی یا شخص کو ریسرچ کرنے والوں کو بڑی رقم ادا کرنی ہوتی ہے ۔ یہ رقم رایلٹی کے طور پر اس تک پہنچتی ہے ۔

پیٹنٹ دو طرح کے ہوتے ہیں

پہلا پیٹنٹ تو پروڈکٹ پر لیا جاتا ہے ۔ اس سے یہ ہوتا ہے کہ کوئی بھی کمپنی ایک قسم کا پروڈکٹ تو بناسکتی ہے ، لیکن وہ بازار میں پہلے سے موجود پروڈکٹ سے پوری طرح مساوی نہیں ہوسکتا ۔ مثال کے طور پر چپس کو ہی لے لیں ، تو مارکیٹ میں درجنوں قسم کے چپس موجود ہیں ، لیکن سب میں کمپنی کے مطابق کچھ نہ کچھ فرق ہوتا ہے ۔ یہ فرق پیٹنٹ کی وجہ سے ہوتا ہے اور ایک کمپنی دوسری کمپنی کا پروڈکٹ چوری نہیں کرپاتی ہے ۔ وہیں دوسرا پیٹنٹ پروسیس یا عمل سے وابستہ ہوتا ہے ۔ یہ کسی نئی تکنیک پر لیا جاتا ہے ۔ اس سے ہوتا یہ ہے کہ کوئی ادارہ پروڈکٹ تیار کرنے کی وہ خاص تکنیک چوری نہیں کرپاتا ہے ۔

ویکسین کی قیمت پہلے سے ہی زیادہ ہے اور ساتھ میں پیٹنٹ کی وجہ سے اس کے دام مزید بڑھے ہوئے ہیں ۔علامتی تصویر۔ (pixabay)
ویکسین کی قیمت پہلے سے ہی زیادہ ہے اور ساتھ میں پیٹنٹ کی وجہ سے اس کے دام مزید بڑھے ہوئے ہیں ۔علامتی تصویر۔ (pixabay)


کیا ہے پروسیس؟

آج کل تقریبا سبھی پروڈکٹ پر پیٹنٹ لیا جاتا ہے ۔ یہ اپنی ریسرچ کو چوری سے بچانے کیلئے ضروری ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ پیٹنٹ کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے سبھی ممالک پیٹنٹ سے وابستہ محکمہ رکھتے ہیں ۔ جس کو بھی اپنی کسی ریسرچ یا پروڈکٹ کے پروسیس پر اپنے نام کی مہر لگانی ہوتی ہے تو وہ پیٹنٹ دفتر جاکر اس کیلئے درخواست دیتا ہے ۔ اس کے بعد آگے کی کارروائی شروع ہوتی ہے ۔ جانچ ہوتی ہے کہ فلاں چیز کیا واقعتا نئی ہے یا پھر کسی کی نقل ہے ۔ اگر نئی ہے تو اس کو ایک متعینہ مدت کے اندر پیٹنٹ دیدیا جاتا ہے ۔

مختلف ممالک میں پیٹنٹ کے مختلف قوانین

یہاں یہ بھی جاننا ضروری ہے کہ اگر ہندوستان میں کوئی شخص کسی پروڈکٹ یا ریسرچ کیلئے پیٹنٹ کراتا ہے ، تو یہ چین یا روس میں لاگو نہیں ہوگا ۔ دنیا کے الگ الگ ممالک میں اپنے پروڈکٹ کا پیٹنٹ پانے کیلئے الگ الگ درخواست دیتی ہوتی ہے ۔ اگر ایسا نہ کیا جائے تو دوسرے ملکوں میں بھی اس کی نقل تیار ہوسکتی ہے اور اس پر کوئی قانونی کارروائی بھی نہیں ہوسکتی ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Mar 07, 2021 01:50 PM IST