ہوم » نیوز » Explained

Explained: اسٹکی بم ، جس کے ذریعہ جموں و کشمیر میں سازش رچنے میں لگا ہے پاکستان

کشمیر میں تعینات فوج نے گزشتہ کچھ دنوں کے اندر کئی سارے اسٹکی بم (Sticky bomb in Kashmir) برآمد کئے ہیں ۔ اس کے پیچھے پاکستان کا ہاتھ ہونے کا اندیشہ ہے ۔

  • Share this:
Explained: اسٹکی بم ، جس کے ذریعہ جموں و کشمیر میں سازش رچنے میں لگا ہے پاکستان
Explained: اسٹکی بم ، جس کے ذریعہ جموں و کشمیر میں سازش رچنے میں لگا ہے پاکستان

پاکستان کے ساتھ لائن آف کنٹرول پر نئے سیزفائر سمجھوتہ کے بعد بھی اس کی حرکتیں بند ہونے کا نام لیتی نظر نہیں آرہی ہیں ۔ اب خبر آرہی ہے کہ پاکستان سے کشمیر میں ڈرون کے سہارے اسٹکی بم گرائے جارہے ہیں ۔ یہ اسٹکی بم کئی معنوں میں زیادہ خطرناک ہیں ، کیونکہ یہ مقناطیس کی مدد سے گاڑیوں میں لگائے جاسکتے ہیں اور دہشت گرد اپنے مشن کو ریموٹ کے ذریعہ بھی انجام دے سکتے ہیں ۔


اسٹکی بم کے بارے میں سمجھنے سے پہلے ایک مرتبہ ہندوستان اور پاکستان کے تازہ حالات پر نظر ڈالتے ہیں ۔ سال 2019 میں پلوامہ حملے کے بعد سے دونوں کے درمیان کشیدگی بڑھی ہوئی ہے ۔ دونوں ہی ممالک نے اپنے اپنے ہائی کمیشن سے افسران کو واپس بلا لیا تھا ۔ اس درمیان چین سے پاکستان کی قربت بڑھی ہے اور چین سے ہی ہندوستان کی کشیدگی بھی گہرائی ہے ۔ مانا جانے لگا کہ چین ہندوستان کی ترقی سے ڈرا ہوا ہے اور اسی وجہ سے پاکستان سے ہندوستان کی کشیدگی کو مہرے کی طرح استعمال کررہا ہے ۔


اب جاکر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی ہوتی نظر آرہی ہے ۔ گزشتہ 25 فروری کو دونوں ممالک نے ایل او سی پر سمجھوتے پر سختی سے عمل کرنے کی بات کہی ۔ حالانکہ پاکستان اس سے متفق ہونے کے بعد بھی وہ باز نہیں آرہا ہے ۔ گزشتہ دنوں جموں و کشمیر میں ایک نئے قسم کا بم برآمد ہوا ۔ یہ اسٹکی بم کہلاتا ہے ۔ بتادیں کہ افغانستان میں بھی اسٹکی بم کی مدد سے دہشت گروں نے کافی دہشت پھیلائی تھی ۔


یہ دیکھنے میں آئی ای ڈی کی طرح ہوتا ہے ، لیکن تھوڑا چھوٹا ہوتا ہے ۔
یہ دیکھنے میں آئی ای ڈی کی طرح ہوتا ہے ، لیکن تھوڑا چھوٹا ہوتا ہے ۔


یہ دیکھنے میں آئی ای ڈی کی طرح ہوتا ہے ، لیکن تھوڑا چھوٹا ہوتا ہے ۔ آئیے آئی ای ڈی کو بھی ایک مرتبہ سمجھتے ہیں ۔ اس کا پورا مطلب ہے امپرووائزڈ ایکسپلوزیو ڈیوائس ۔ یہ سڑک کنارے یا کسی چیز میں رکھ دئے جاتا ہے اور پھر دھماکہ ہوتا ہے ۔ یہ اس طرح سے تیار ہوتا ہے کہ جیسے ہی کسی کا اس پر پاوں یا وزن پڑے ، دھماکہ ہوجائے ۔ یعنی ان بموں کیلئے انتظار کرنا ہوتا ہے ۔

وہیں اسٹکی بم زیادہ خطرناک ہے ۔ کیونکہ یہ ریموٹ سے کام کرتا ہے ۔ یہ بم مقررہ جگہ پر لگا دیا جاتا ہے اور اپنے مطابق وقت پر ریموٹ کنٹرول دبا دیا جاتا ہے ۔ فروری مہینے میں کشمیر میں چھاپہ ماری کے دوران کئی مقامات پر یہ بم برآمد ہوئے ۔ اس سے پہلے افغانستان بھی اسٹکی بم کی وجہ سے کافی سرخیوں میں رہا تھا ۔ طالبانی دہشت گرد دہشت پھیلا رہے تھے ۔

ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی ہوتی نظر آرہی ہے ۔ گزشتہ 25 فروری کو دونوں ممالک نے ایل او سی پر سمجھوتے پر سختی سے عمل کرنے کی بات کہی ۔
ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی ہوتی نظر آرہی ہے ۔ گزشتہ 25 فروری کو دونوں ممالک نے ایل او سی پر سمجھوتے پر سختی سے عمل کرنے کی بات کہی ۔


اب اندیشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ کیا افغانستان کے دہشت گرد ہی اس کیلئے ذمہ دار ہیں یا پھر پاکستانی دہشت گرد ، افغانسان کی مدد سے کشمیر میں ایسا کررہے ہیں ۔ اس سے پہلے بھی افغانستان شک کے دائرے میں رہا ہے ۔ حالانکہ اس کا کہنا ہے کہ وہ صرف کشمیر کو اخلاقی حمایت دیتا ہے اور کسی بھی طرح کی دہشت گردانہ سرگرمیوں میں اس کا کبھی کوئی تعاون نہیں رہا ۔ بہر حال جو بھی ہو ، فی الحال اسٹکی بموں کے پائے جانے سے کشمیر میں تعینات سیکورٹی دستے محتاط ہوگئے ہیں ۔

سال 2019 میں جموں و کشمیر سے آرٹیکل 370 ہٹائے جانے کے بعد سے وہاں دہشت گردانہ واقعات تو کم ہوئے ہیں ، لیکن ہوسکتا ہے کہ اس کی وجہ کثیر تعداد میں سیکورٹی فورسیز کی موجودگی ہو ۔ تو کیا دہشت گرد اپنے مطابق وقت کا یا پھر سیکورٹی میں کمی آنے کا انتظار کررہے ہیں ؟ اس طرح کے کئی سوالات فی الحال خود سیکورٹی ایجنسیوں کے پاس ہیں ۔

جموں و کشمیر میں کثیر تعداد میں سیکورٹی اہلکار تعینات ہیں ۔ (Photo- news18 English )
جموں و کشمیر میں کثیر تعداد میں سیکورٹی اہلکار تعینات ہیں ۔ (Photo- news18 English )


ریموٹ سے چلنے والے اسٹکی بموں کی برآمدگی کے بعد سے یہ سمجھنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ آخر کشمیر میں یہ کیسے پہنچے ۔ رائٹرس کی رپورٹ میں ایک نامعلوم افسر کے حوالے سے شک ظاہر کیا گیا ہے کہ بم یا تو ڈرون کے ذریعہ گرائے گئے یا پھر خفیہ سرنگوں کی مدد سے کشمیر میں پہنچائے گئے ۔ ویسے بتادیں کہ کشمیر کو پاکستان سے جوڑنے والے راستوں پر مسلسل خفیہ سرنگوں کا انکشاف ہوتا رہتا ہے ، جس کے بعد سرنگ بند کرنے کے ساتھ آس پاس سیکورٹی بڑھا دی جاتی ہے ۔

اب اسٹکی بم کو دیکھتے ہوئے کئی احتیاط برتے جارہے ہیں ۔ پرائیویٹ گاڑیوں اور فوج کی گاڑیوں میں کافی دوری رکھی جارہی ہے ۔ ساتھ ہی ساتھ فوج کی گاڑیوں پر طاقتور کیمرے لگائے جارہے ہیں ، تاکہ دور تک نظر رکھی جاسکے ۔ علاوہ ازیں کشمیر کے چنندہ علاقوں میں ڈرون کی مدد سے بھی مشتبہ سرگرمیوں پر نظر رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Mar 02, 2021 06:03 PM IST