உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Explained: آسام - میزورم سرحدی تنازعہ (Assam Mizoram border dispute) کیاہے؟ جانئے تفصیلات

    علامتی تصویر۔ نیوز18 ، گرافیکس

    آسام اور میزورم کے مابین یہ سرحدی تنازعہ 146 سال پرانا ہے۔ سن 1875 میں انگریزوں نے آسام میں میزورم اور کیچار کے مابین حد کا تعین کیا تھا۔ تب میزورم کو لوشائی ہلز Lushai Hills کہا گیا۔ اس سے قبل صرف منی پور ، تری پورہ اور آسام ریاستیں شمال مشرق میں تھیں جبکہ میزورم ، میگھالیہ ، ناگالینڈ اور اروناچل پردیش آسام کا حصہ تھے، جسے گریٹر آسام Greater Assam کہا جاتا تھا۔

    • Share this:
      شمال مشرقی ریاست آسام Assam اور میزورم Mizoram کی سرحد پر دونوں ریاستوں کی پولیس کے مابین ایک خونی تصادم ہوا ہے، جس میں آسام کے 6 پولیس اہلکار ہلاک اور دونوں ریاستوں کے متعدد پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔یہ خونی تصادم دونوں ریاستوں کے مابین سرحدی تنازعہ کے سلسلے میں ہوا ہے۔ اس سے پہلے آپ نے پولیس کو مجرموں اور دہشت گردوں سے لڑتے ہوئے دیکھا ہوگا لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے ملک کی دو ریاستوں کی پولیس اس طرح ایک دوسرے سے لڑ رہی ہے۔ دونوں ریاستوں کے وزرائے اعلی اب ایک دوسرے کے خلاف کھل کر ٹویٹ کر رہے ہیں اور ملک کے وزیر داخلہ امت شاہ کو بھی ٹیگ کررہے ہیں اور ان سے اس معاملے کو حل کرنے کی اپیل کر رہے ہیں۔

      • وزیر داخلہ امیت شاہ کو کیوں ٹیگ کیا گیا؟


      آج سہ پہر میزورم کے وزیر اعلی زور متھنگا Zor Mathanga نے پرتشدد تصادم کی ایک ویڈیو ٹویٹ کی اور اس میں ملک کے وزیر داخلہ کو بھی ٹیگ کیا۔ اس کے جواب میں آسام کے وزیر اعلی ہمنتا بسوا سرمہ Himanta Biswa Sarma نے بھی ایک ٹویٹ کیا اور کہا کہ میزورم پولیس آسام پولیس کو ان کی سرزمین سے ہٹانا چاہتی ہے اور اس ٹویٹ میں انہوں نے وزیر داخلہ امیت شاہ کو بھی ٹیگ کیا۔


      انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ میزورم کے کولاسب کے سپرنٹنڈنٹ پولیس نے دھمکی دی ہے کہ نہ تو میزور پولیس پیچھے ہٹے گی اور نہ ہی میزورم کے شہری اس سے دستبردار ہوں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب میزورم کے شہری بھی اس تشدد میں شامل ہو گئے ہیں۔

      • تنازعہ کا آغاز کیسے ہوا؟


      آسام اور میزورم کی سرحد تقریبا 164 کلومیٹر لمبی ہے۔ یہ سرحد آسول Aizawl کے اضلاع کولاسیب ، ممیٹ سے میزورم اور کچر ، ہیلی کانڈی اور کریم گنج اضلاع سے ہوتی ہے۔ تنازعہ اس سرحد کے قریب گٹگوٹی Gutguti گاؤں کے قریب اس وقت شروع ہوا جب میزورم پولیس نے یہاں کچھ عارضی کیمپ لگائے۔

      آسام پولیس کا کہنا ہے کہ یہ کیمپ ان کی ریاست کی زمین پر لگائے گئے ہیں، جبکہ میزورم پولیس کا دعوی ہے کہ یہ علاقہ ان کا ہے اور آسام پولیس نے اپنے علاقے میں یہ کیمپ لگائے ہیں۔

      اس کے بعد دونوں ریاستوں کی پولیس نے ایک دوسرے پر فائرنگ کی جس میں آسام پولیس کے 6 اہلکار زخمی ہوگئے اور ضلع سلچر کے ایس پی کو بھی چوٹیں آئیں۔ صرف یہی نہیں، کئی گاڑیاں بھی توڑ دی گئیں۔

      • سرحدی تنازعہ کی متنازعہ تاریخ:


      آسام اور میزورم کے مابین یہ سرحدی تنازعہ 146 سال پرانا ہے۔ سن 1875 میں انگریزوں نے آسام میں میزورم اور کیچار کے مابین حد کا تعین کیا تھا۔ تب میزورم کو لوشائی ہلز Lushai Hills کہا گیا۔ اس سے قبل صرف منی پور ، تری پورہ اور آسام ریاستیں شمال مشرق میں تھیں جبکہ میزورم ، میگھالیہ ، ناگالینڈ اور اروناچل پردیش آسام کا حصہ تھے، جسے گریٹر آسام Greater Assam کہا جاتا تھا۔ اس کے بعد اروناچل پردیش کے کچھ حصوں کو نارتھ ایسٹ فرنٹیئر ایجنسی North East Frontier Agency کہا جاتا تھا جو گریٹر آسام سے الگ ہوگئے تھے۔

      مختلف قبیلوں کے لوگ اس علاقے میں رہتے تھے اور ان کی زبان ، ثقافت اور شناخت ایک دوسرے سے مختلف تھی۔ آزادی کے بعد اس بنیاد پر میزورم ، میگھالیہ ، ناگالینڈ اور اروناچل پردیش آسام سے الگ ریاست بن گئے۔ لیکن ان ریاستوں کے مابین سرحد کا تعین آزادی کے بعد بھی تنازعہ کا مسئلہ رہا۔ میزورم چاہتا ہے کہ آسام کے ساتھ اس کی سرحد کا تعین 1875 کے معاہدے کے مطابق کیا جائے۔



      • مرکزی حکومت کا کردار:


      میزورم کی حکومت کا دعویٰ ہے کہ آزادی کے بعد کی حد بندی کی وجہ سے ان کے بہت سے مزکو بولنے والے اضلاع آسام کا حصہ بن گئے ہیں۔

      سنہ 2005 میں بھی سپریم کورٹ Supreme Court نے مرکزی حکومت کو باؤنڈری کمیشن بنانے کے لئے کہا تھا۔

      آسام میں تقریبا 3 کروڑ 12 لاکھ افراد رہتے ہیں۔ ان میں بوڈو ، مسنگ ، سونووال ، کچہری اور تیوا اہوم جیسی ذات سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شامل ہیں۔ میزورم کی کل آبادی 12 لاکھ ہے جہاں زیادہ تر افراد کا تعلق میزو ذات Mizo caste سے ہے اور ان کی آبادی کا حصہ 74 فیصد ہے۔

      • سلامتی و خود مختاری:


      میزورم میانمار اور بنگلہ دیش کے ساتھ 700 کلومیٹر لمبی سرحد بھی مشترکہ ہے۔ لہذا یہ ریاست سلامتی کے نقطہ نظر سے بہت حساس ہے۔ میانمار کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد مہاجرین کی ایک بڑی تعداد بھی میزورم پہنچ رہی ہے، لیکن اس بات کی سرکاری طور پر کوئی تصدیق نہیں کی گئی۔

      مجموعی طور پر اس پورے سرحدی تنازعہ کو تقریبا 150 سال ہوچکے ہیں لیکن اب تک اس کا کوئی حل نہیں نکلا ہے۔ اب آپ سوچئے کہ جب ہم اتنے سال میں دو ریاستوں کے مابین سرحدی تنازعہ حل نہیں کرسکے تو ہمسایہ ممالک کے ساتھ اس طرح کے تنازعات کے حل میں کتنا وقت لگے گا؟ اور اس میں مرکزی حکومت خاص کر موجودہ مودی حکومت کتنی کامیاب ہوگی؟

      میزورم پر ریاست میجو نیشنل فرنٹ Mizo National Front اور بی جے پی اتحاد کی حکومت ہے، جو ریاست میں 40 میں سے 27 نشستیں رکھتا ہے۔ جبکہ بی جے پی کے پاس اس میں صرف ایک ایم ایل اے ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: