உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Explained: آخر کیا ہے نیشنل ہیرالڈ کیس؟ کیوں ہورہی ہے راہل گاندھی سے پوچھ گچھ؟ جانیے تفصیلات

    National Herald Case: راہل گاندھی سے ای ڈی کے سامنے پھر ہوں گے پیش۔

    National Herald Case: راہل گاندھی سے ای ڈی کے سامنے پھر ہوں گے پیش۔

    بی جے پی کے رہنما سبرامنیم سوامی نے 2012 میں گاندھی خٓاندان کے خلاف مقدمہ درج کرایا تھا، جس میں ان پر نیشنل ہیرالڈ اخبار شائع کرنے والی کمپنی کو خریدنے کے لیے پارٹی فنڈز کا غلط استعمال کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔ یکم نومبر 2012 کو سوامی نے دہلی کی ایک عدالت میں ایک نجی شکایت درج کرائی

    • Share this:
      کانگریس نے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے دفتر تک 'ستیہ گرہ' مارچ کیا اور پارٹی رہنماؤں نے الزام لگایا کہ موجودہ حکومت راہول کے خلاف 'انتقام کی سیاست' میں ملوث ہے، جنھیں ایجنسی نے نیشنل ہیرالڈ (National Herald) کیس کے سلسلے میں طلب کیا ہے۔ جس میں مبینہ طور پر فنڈز کا غلط استعمال کا الزام لگایا گیا ہے۔

      نیشنل ہیرالڈ کیس کیا ہے؟ اور اس کا مقدمہ کب درج ہوا؟

      بی جے پی کے رہنما سبرامنیم سوامی نے 2012 میں گاندھی خاندان کے خلاف مقدمہ درج کرایا تھا، جس میں ان پر نیشنل ہیرالڈ اخبار شائع کرنے والی کمپنی کو خریدنے کے لیے پارٹی فنڈز کا غلط استعمال کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔ یکم نومبر 2012 کو سوامی نے دہلی کی ایک عدالت میں ایک نجی شکایت درج کرائی، جس میں الزام لگایا گیا کہ سونیا اور راہول گاندھی نے دھوکہ دہی اور ہزاروں کروڑ روپے کی زمینوں پر قبضہ کیا ہے۔

      اپنی شکایت میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ گاندھی خاندان نے دھوکہ دہی سے ایسوسی ایٹڈ جرنلز لمیٹڈ (AJL) کی دہلی، یوپی اور دیگر جگہوں پر 1,600 کروڑ روپے کی جائیدادیں حاصل کیں اور وہ اس کے مالک بن بیٹھے، لیکن انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے سونیا گاندھی اور کانگریس کی اعلیٰ قیادت راہول گاندھی کو ایک دہائی سے زیادہ پرانے نیشنل ہیرالڈ کیس سے منسلک منی لانڈرنگ کی تحقیقات میں طلب کیا، کمپنی قانون کے ایک پیچیدہ کیس کی انتہا معلوم ہوتی ہے۔

      تنازعہ کی ابتدا 26 جنوری 2011 کو ایسوسی ایٹڈ جرنلز لمیٹڈ (AJL) کے حصص کے حصول میں ہے۔ اے جے ایل کو 20 نومبر 1937 کو انڈین کمپنیز ایکٹ 1913 کے تحت مختلف زبانوں میں اخبارات کی اشاعت کے مقصد سے ایک پبلک لمیٹڈ کمپنی کے طور پر شامل کیا گیا تھا۔ اس نے انگریزی میں "نیشنل ہیرالڈ" جیسے اخبارات شائع کرنا شروع کیے، جس کی بنیاد جواہر لعل نہرو نے 1938 میں رکھی تھی۔

      اردو میں قومی آواز:

      کمپنی نے نیشنل ہیرالڈ کے علاوہ دو دیگر روزنامے بھی شائع کیے، اردو میں قومی آواز اور ہندی میں نوجیون خاص طور پر قابل ذکر ہے۔

      نہرو نے اے جے ایل کی بنیاد رکھی جو ان کے دماغ کی اپج تھی۔ تاہم یہ کبھی بھی ان کی ذاتی ملکیت نہیں تھی اور یہ ایک غیر لسٹڈ پبلک کمپنی تھی جس میں 5,000 مجاہدین آزادی بطور شیئر ہولڈر تھے۔ نہرو کے علاوہ اے جے ایل کے اہم شخصیات جیسے پرشوتم داس ٹنڈن، آچاریہ نریندر دیو، کیلاش ناتھ کاٹجو، رفیع احمد قدوائی، کرشنا دت پالیوال، اور گووند بلبھ پنت نے میمورنڈم آف ایسوسی ایشن پر دستخط کیے۔

      اے جے ایل کی جائیداد کی قیمت کا تخمینہ 5,000 کروڑ روپے ہے۔ اس کی نئی دہلی، لکھنؤ، بھوپال، ممبئی، اندور، پٹنہ، اور پنچکولا میں جائیدادیں ہیں، ساتھ ہی نئی دہلی میں ہیرالڈ ہاؤس، جو کہ تقریباً 10,000 مربع میٹر دفتر کی جگہ کے ساتھ چھ منزلہ عمارت ہے۔

      اے جے ایل نے نقصانات کی اطلاع دینا شروع کی اور اپریل 2008 میں اس نے نیشنل ہیرالڈ سمیت اخبارات کی چھپائی اور اشاعت کو باضابطہ طور پر روک دیا۔ یہ جائیدادیں اخبارات کے کاروبار اور مختلف زبانوں میں اخبارات کی اشاعت کے لیے الاٹ کی گئی تھیں۔ تاہم اسے اخبار کی بندش کے بعد اشاعت کے کاروبار کو پورا کرنے کے لیے ان جائیدادوں کو کرائے پر دینے کی بھی اجازت تھی۔

      اے جے ایل کے دفتر کو 1 ستمبر 2010 کو لکھنؤ سے اس کی دہلی پراپرٹی میں 5A، ہیرالڈ ہاؤس، بہادر شاہ ظفر مارگ میں منتقل کر دیا گیا تھا۔

      واقعات کے اس سلسلے کے درمیان آل انڈیا کانگریس کمیٹی (AICC) وقتاً فوقتاً AJL کو قرض دیتی رہی۔ جو کانگریس کی ایک اعلیٰ تنظیم ہے

      قرضوں میں اضافہ:

      31 مارچ 2010 کو 88,86,68,976 روپے (88 کروڑ روپے سے زائد) کا بقایا قرض تھا اور یکم اپریل 2010 سے 16 دسمبر 2010 کے دوران 1.35 کروڑ روپے کا مزید قرضہ ملا، جو کہ مجموعی طور پر 90.21 کروڑ روپے ہے۔

      16 دسمبر 2010 کو اے آئی سی سی نے اے جے ایل سے واجب الادا 90.21 کروڑ روپے کا پورا قرضہ اپیل کنندہ کمپنی، ینگ انڈین کے حق میں 50 لاکھ روپے کے لیے منتقل کر دیا۔ اس کے علاوہ اے جے ایل کے تقریباً 99.99 فیصد حصص ینگ انڈین کو منتقل کیے گئے۔

      13 دسمبر 2010 کو ینگ انڈین کی پہلی منیجنگ کمیٹی کے اجلاس میں راہول گاندھی کو ڈائریکٹر کے طور پر مقرر کیا گیا۔

      سوامی کی شکایت کے مطابق گاندھی خاندان نے کانگریس پارٹی کے فنڈز کا استعمال کیا اور مالی فراڈ اور زمین پر قبضے کے علاوہ 2,000 کروڑ روپے سے زیادہ کی جائیداد کے اثاثوں کو حاصل کرنے کی کوشش کرنے کے لیے AJL پر قبضہ کیا۔

      یہ بھی پڑھیں: مذہبی عبادت گاہوں سے متعلق قانون سے چھیڑچھاڑ انتہائی خطرناک: مولانا ارشد مدنی

      مزید برآں ان کا دعویٰ ہے کہ اے جے ایل نے آل انڈیا کانگریس کمیٹی سے صفر سود پر 90 کروڑ روپے کے غیر محفوظ قرض کی منتقلی کی منظوری دی، جس میں ینگ انڈین کو کمپنی کے تمام نو کروڑ حصص (ہر ایک پر 10 روپے) ملے۔ عوامی نمائندگی ایکٹ 1951 کے سیکشن 29A سے C اور انکم ٹیکس ایکٹ، 1961 کے سیکشن 13A کے مطابق کسی سیاسی جماعت کے لیے تجارتی مقاصد کے لیے قرض دینا غیر قانونی ہے۔
      یہ بھی پڑھیں: کیاآپ ہندوستانی فضاؤں میں اڑناچاہتےہیں؟ ہوائی اڈے پرپہنچنےسےپہلےایئرسوودھابھرنامت بھولیں!

      سوامی کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ گاندھی خاندان نے دھوکے سے ہزاروں کروڑ روپے کے اثاثوں کو بد نیتی پر مبنی طریقے سے ہتھیا لیا ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: