உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Explained: کیا ہے زیڈ زمرہ کی سیکورٹی؟ کونسی ہیں سیکورٹی کے اقسام، اسد الدین اویسی کو Z سیکورٹی کی پیشکش کیوں؟

    تصویر: @asadowaisi

    تصویر: @asadowaisi

    ہندوستان میں پولیس اور مقامی حکومت کی طرف سے اعلی خطرے والے افراد کو سیکورٹی فراہم کی جاتی ہے۔ کسی بھی فرد کو درکار سیکورٹی کی سطح کا فیصلہ انٹیلی جنس ایجنسیوں سے موصول ہونے والی معلومات کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔

    • Share this:
      اتر پردیش کے ہاپوڑ میں آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (AIMIM) کے سربراہ و رکن پارلیمنٹ بیرسٹر اسد الدین اویسی (Asaduddin Owaisi) کی کار پر فائرنگ کے ایک دن بعد مرکز نے انہیں سی آر پی ایف کے کمانڈوز کے ذریعہ 'Z' زمرہ کی سیکورٹی فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

      حکومت کے فیصلے کے مطابق زیڈ کیٹیگری میں اسد الدین اویسی کی سیکورٹی کے لئے 24 گھنٹے سی آر پی ایف تعینات کیے جائیں گے، جب کہ انھوں نے اس کو رد کردیا ہے۔ اویسی مغربی اترپردیش میں الیکشن سے متعلق پروگرام میں شرکت کے بعد جمعرات کی شام دہلی لوٹ رہے تھے۔ ایک ہفتے بعد اترپردیش میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ اویسی نے بتایا کہ حادثہ میں کوئی زخمی نہیں ہوا ہے اور گولی چلانے والے دو نوجوانوں کو پولیس نے گرفتار کرلیا ہے۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ زیڈ سیکورٹی کی پیش کش کیوں کی گئی۔

      زیڈ ’Z‘ زمرہ کی سیکورٹی کیا ہے؟

      ہندوستان میں پولیس اور مقامی حکومت کی طرف سے اعلی خطرے والے افراد کو سیکورٹی فراہم کی جاتی ہے۔ کسی بھی فرد کو درکار سیکورٹی کی سطح کا فیصلہ انٹیلی جنس ایجنسیوں سے موصول ہونے والی معلومات کی بنیاد پر کیا جاتا ہے جس میں انٹیلی جنس بیورو (IB) اور ریسرچ اینڈ اینالیسس ونگ (R&AW) شامل ہیں۔

      وزیر اعظم، وزیر داخلہ اور دیگر حکام جیسے کہ قومی سلامتی کے مشیر جیسے افراد کو عام طور پر ان عہدوں کی وجہ سے تحفظ حاصل ہوتا ہے جن پر وہ کام کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ جن لوگوں کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ خطرے میں ہیں، انہیں بھی حفاظتی حصار ملتا ہے۔


      ہندوستان میں سیکورٹی فراہمی کی درجہ بندی:

      ایکس X

      وائی Y

      وائی پلس Y-plus

      زیڈ Z

      زیڈ پلس Z-plus


      ایس پی جیSPG (Special Protection Group)

      ایس پی جی کور صرف وزیر اعظم اور ان کے قریبی خاندان کے لیے ہے۔

      ایکس کیٹیگری کے لوگوں کے لیے محافظ کو ایک بندوق بردار ملتا ہے۔

      وائی کیٹیگری میں حفاظت کرنے والوں کے پاس موبائل سیکیورٹی کے لیے ایک گن مین ہوتا ہے۔

      وائی ​​پلس کیٹیگری میں آنے والوں کو موبائل سیکیورٹی کے لیے دو گن مین (پلس فور آن روٹیشن) اور رہائشی سیکیورٹی کے لیے ایک (پلس فور آن روٹیشن) دیا جاتا ہے۔


      زیڈ کیٹیگری میں موبائل سیکیورٹی کے لیے چھ گن مین اور دو (پلس 8) رہائشی سیکورٹی کے لیے۔

      زیڈ پلس زمرہ کے لوگوں کو موبائل سیکیورٹی کے لیے 10 سیکیورٹی اہلکار اور رہائشی سیکیورٹی کے لیے دو (پلس 8) ملتے ہیں۔

      یہ اطلاع دی گئی ہے کہ Z+ سطح کی سیکورٹی نیشنل سیکورٹی گارڈ کے کمانڈوز کے ذریعہ فراہم کی جاتی ہے جبکہ دوسری قسم کی سیکورٹی دہلی پولیس یا ITBP یا CRPF کے اہلکار فراہم کرتے ہیں۔


      اسد الدین اویسی کا واقعہ:

      جمعرات کو الیکشن سے متعلق تقریبات میں شرکت کے بعد اتر پردیش سے نئی دہلی واپس آتے ہوئے رکن پارلیمنٹ اور آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے سربراہ اسد الدین اویسی کی گاڑی پر گولیاں چلائی گئیں۔ خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی نے اطلاع دی ہے کہ اویسی کی گاڑی نیشنل ہائی وے 24 کے ہاپوڑ-غازی آباد سٹریٹ پر چھجرسی ٹول پلازہ کے قریب تھی جب یہ واقعہ شام 6 بجے کے قریب پیش آیا۔

      ہاپوڑ پولیس نے فائرنگ کے الزام میں دو لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔ این ڈی ٹی وی کی ایک رپورٹ میں ملزم کی شناخت نوئیڈا کے رہنے والے سچن کے طور پر کی گئی ہے جس کے خلاف پہلے قتل کی کوشش کا مقدمہ درج ہے اور سہارنپور کا ایک کسان شوبھم جس کا مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہے۔

      اس واقعہ کے بعد مرکز نے اب حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ کو زیڈ زمرہ کی سیکورٹی فراہم کی ہے۔ تاہم انڈیا ٹوڈے کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اویسی نے کہا کہ انہوں نے کبھی بھی حفاظتی احاطہ نہیں مانگا ہے اور وہ کبھی اس کی مانگ نہیں کریں گے کیونکہ ان کی جان کی حفاظت کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

      آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (AIMIM) کے سربراہ بیرسٹر اسد الدین اویسی (Asaduddin Owaisi) نے جمعہ کو اتر پردیش میں ایک انتخابی مہم میں کہا کہ ہم ڈرنے والے نہیں ہیں، کیونکہ خدا نے میری موت کا وقت مقرر کر دیا ہے۔ ان کا یہ بیان جمعرات کو میرٹھ سے نئی دہلی کی طرف واپسی پر ان کے قافلے پر فائرنگ کے واقعہ کے تناظر میں آیا ہے۔ حملے کے ایک دن بعد جمعہ کو مرکز نے اویسی کو 'Z' زمرہ کی سیکورٹی فراہم کی تھی۔



      اویسی نے میڈیا کو بتایا کہ میں کیتھور، میرٹھ میں ایک انتخابی پروگرام کے بعد دہلی جا رہا تھا۔ چھجرسی ٹول پلازہ کے قریب دو افراد نے میری گاڑی پر تین سے چار راؤنڈ گولیاں چلائیں۔ ان میں سے تین یا چار تھے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ہم سب محفوظ ہیں۔





      یوپی انتخابات کے ضمن میں اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ سماجوادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی کے چیلنجز پر وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ موجودہ اتحاد سے بڑے اتحاد  کو ہم نے ہرایا ہے۔ پہلے بھی لوگ تمام دعوے کرتے تھے۔ ہوا کیا تھا 2019 میں، بی جے پی کو 64 سیٹیں ملیں۔ بی ایس پی دوسرے نمبر پر رہی اور سماجوادی پارٹی تیسرے نمبر پر۔ آپ یہ مان کر چلئے کہ اس سے بڑے استحاد کو ہم نے ہرایا ہے۔ سبھی جماعتیں تب ایک تھیں۔ یہ الیکشن اتحاد سے اوپر اٹھ چکا ہے۔ پہلے مرحلے کے بعد ماحول دیکھئے۔ بی جے پی الیکشن جیت کر حکومت بنائے گی۔


      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: