ہوم » نیوز » Explained

Explained:وہ ٹاسک فورس جس کی گرے لِسٹ میں رہنے سے پاکستان ہوسکتاہے برباد؟

اگر ایسا ہوتا ہے تو پاکستان کی معیشت در ہم برہم ہوجائے گی۔ ہم آپ کو بتادیں کہ پاکستان پہلے ہی کئی معاشی مسائل میں مبتلاہے اور اس وقت وہ قرضوں میں ڈوبا ہوا ہے۔ اب کئی دوست ممالک نے بھی پاکستان کو مالی امداد دینے سے انکار کردیا ہے۔ ایسی صورتحال میں اس پر عالمی بینک اور اے ڈی بی جیسے بین الاقوامی اداروں کا قرض ہے۔

  • Share this:
Explained:وہ ٹاسک فورس جس کی گرے لِسٹ میں رہنے سے پاکستان ہوسکتاہے برباد؟
اب خشک سالی نے پاکستان کی مشکلا ت میں اضافہ

پٹروسی ملک پاکستان پہلے سے ہی شدید معاشی بحران کا سامنا کررہاہے۔ پہلے کورونا اور اب خشک سالی نے پاکستان کی مشکلا ت میں اضافہ کردی ہے ۔ یہ قیاس کیا جارہا ہے کہ اگر فائنانشیل ایکشن ٹاسک فورس (Financial Action Task Force (FATF))نے اس ملک کو اپنی گرے لسٹ سے نہیں ہٹایا تو پھر دیوالیہ ہونے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی۔ پیرس میں21فروری سے ایف اے ٹی ایف کا اجلاس شروع ہوگیاہے ۔26فروری تک جاری رہنے والے اس اجلاس میں دہشت گردی کو فنڈنگ کرنے کے معاملے میں بنی اپنی گرے فہرست میں پاکستان کا نام بنائے رکھنے پر حتمی فیصلہ لیا جائے گا۔ اسی ضمن میں منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنڈنگ کے خلاف دنیا بھر میں لڑی جا رہی لڑائی میں عالمی عہد بستگیوں اور ضوابط کو پورا کرنے میں اسلام آباد کی کارکردگی کا گہرا جائزہ لینے کے بعد پاکستان کے نام پر غور کیا جائے گا۔


فائنانشیل ایکشن ٹاسک فورس یعنی (FATF) کیا ہے؟


یہ ایک بین الاقوامی تنظیم ہے ، جو منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنڈنگ جسے معاملات کا سامنا کرنے والے تمام ممالک کے لئے رہنما اصول طے کرتی ہے ، اور فیصلہ کرتی ہے کہ جن ممالک میں مالی جرائم کو فروغ دیا جاتا ہے اس پر کیسے قابو پایا جاسکتا ہے۔


ایف اے ٹی ایف کی کتنی فہرستیں ہیں؟

پہلی فہرست یعنی بلیک لسٹ میں وہ ممالک شامل ہیں جو دہشت گردی کی سرگرمیوں سے وابستہ ہیں یا وہ انہیں بلاواسطہ فنڈ دیتے ہیں۔ ایسے مملک کو بلیک لسٹ کیا گیا ہے تاکہ ان ممالک کی معیشت کمزور ہو اور وہ دہشت گردی کو فروغ نہ دیں ۔ اس ادارے نے سن 2011سے ایسے ممالک کو بلیک لسٹ کرنا شروع کیا تھا۔

فائنانشیل ایکشن ٹاسک فورس (FATF) نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان (Pakistan) کی پالیسیوں اور رویوں پر سخت اعتراض ظاہر کیا ہے
فائنانشیل ایکشن ٹاسک فورس (FATF) نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان (Pakistan) کی پالیسیوں اور رویوں پر سخت اعتراض ظاہر کیا ہے


ایف اے ٹی ایف کی جانب سے کئی ممالک کو پہلے انتباہ دیاجاتاہے اور پھر کچھ ممالک کی ایک کمیٹی کی تشکیل دے کر نگرانی کی جاتی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ ایسے ممالک ادارے کی جانب سے جاری کردہ رہنما اصولوں کے مطابق سنگین معاملات پر قابو پانے کے لئے کیا اور کس طرح سے اقدامات کررہے ہیں ۔

دوسری ہے گرے لِسٹ

ٹیکس چوری ، منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی اعانت یعنی ٹیرر فنڈنگ کے معاملات میں سامنا کرنے والےو ممالک کو گرے لِسٹ میں شامل کیاجاتاہے ۔ یہ ایک قسم کی دھمکی ہوتی ہے کہ وقت کے ساتھ ان ممالک کو اقتصادی جرائم پر قابو پانے کے لیے اقدامات کرنے چاہیے ۔اگر یہ ممالک گرے لِسٹ میں آنے کے بعد بھی سخت اقدامات نہیں کرتے ہیں تو پھر انہیں بلیک لِسٹ شامل کیے جانے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

پاکستان فی الحال ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں ہے۔ پچھلے سال فرانس میں دہشت گردی کے واقعات کے بعد ، پاکستان نے بالواسطہ طور پر اسلامی بنیاد پرستی کی حمایت کی تھی۔ تب سے ، فرانسیسی صدرفرانس کے صدر ایمیونل میکرون پاکستان سے ناراض ہیں۔ اب یہ قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ چونکہ ایف اے ٹی ایف میں فرانس کا بڑا دخل ہے ، لہذا ان کی ناراضگی پاکستان پر تباہی مچا سکتی ہے۔ ایسے میں پاکستان کو ایک بار پھر گرے لِسٹ میں برقرار رکھا جاسکتاہے۔

 اب کئی دوست ممالک نے بھی پاکستان کو مالی امداد دینے سے انکار کردیا ہے۔
اب کئی دوست ممالک نے بھی پاکستان کو مالی امداد دینے سے انکار کردیا ہے۔


واضح رہے کہ فائنانشیل ایکشن ٹاسک فورس (FATF) نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان (Pakistan) کی پالیسیوں اور رویوں پر سخت اعتراض ظاہر کیا ہے۔ ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو دہشت گردی کی فنڈنگ (Terror Funding) کی پوری طرح سے جانچ کرنے کے لئے کل 27 ایکشن پلان دئیے تھے جن کو پورا کرنے کے لیے 4ماہ کی مد ت دی گئی تھی ۔یہ معیاد فروری میں ختم ہونے کو ہے۔ وہی پاکستان اب بھی تمام مقاصد کو پورا نہیں کر پا رہا ہے۔ اسی لئے وہ اسے بھی گرے لِسٹ میں رہنے خیال ستا رہاہے۔

اگر ایسا ہوتا ہے تو پاکستان کی معیشت در ہم برہم ہوجائے گی۔ ہم آپ کو بتادیں کہ پاکستان پہلے ہی کئی معاشی مسائل میں مبتلاہے اور اس وقت وہ قرضوں میں ڈوبا ہوا ہے۔ اب کئی دوست ممالک نے بھی پاکستان کو مالی امداد دینے سے انکار کردیا ہے۔ ایسی صورتحال میں اس پر عالمی بینک اور اے ڈی بی جیسے بین الاقوامی اداروں کا قرض ہے۔ اگر گرے لِسٹ باقی رہی تو پھر یہ ادارے بھی پاکستان کو قرض نہیں دیں گے۔ اسی کے ساتھ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ گرے لسٹ کی وجہ سےکئی ممالک نے پاکستان کے ساتھ کاروباری تعلقات سے بھی ختم کرسکتے ہیں۔

پاکستان اس ادارے کی گرے لِسٹ میں تنہا نہیں ہے بلکہ بہت سے دوسرے ممالک اس فہرست کاحصہ ہے ۔ ان میں البانیہ ، بہاماس ، بوٹسوانا ، کمبوڈیا ، گھانا ، آئس لینڈ ، جمیکا ، منگولیا ، نکاراگوا ، شام ، یوگنڈا ، یمن اور زمبابوے شامل ہیں۔
Published by: Mirzaghani Baig
First published: Feb 24, 2021 09:42 PM IST