உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Petrol-Diesel Price Hike: ایندھن کی قیمتوں میں تیزی سےکون کررہاہے اضافہ؟یہاں جانئے تفصیلات

    ملک میں پٹرول کی قیمتیں اس وقت ریکارڈ سطح پر ہیں ۔

    صارفین کو فائدہ پہنچانے کے بجائے حکومت نے گذشتہ سال مارچ میں ایکسائز ڈیوٹی بڑھا دی۔ پٹرول کے لئے یہ 19.98 روپے فی لیٹر سے بڑھ کر 32.90 روپے ہوگئی، جبکہ ڈیزل کے لئے یہ 15.83 روپے فی لیٹر سے بڑھ کر 31.80 روپے فی لیٹر ہوگئی۔ ٹیکسوں میں اس اضافے نے ایندھن کی اعلی شرحوں میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔

    • Share this:
      ممبئی میں پٹرول کی قیمتیں ریکارڈ سطح پرپہنچ گئی ہے اور دیگر میٹرو شہروں میں 100 روپے سے بھی زیادہ قیمت کے بعد یہ سوال ایک بار پھر عوامی سطح پر کیا جارہا ہے کہ پٹرول کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟

      وزارتِ پٹرولیم نے ماضی میں موہن سنگھ حکومت عالمی سطح پر خام قیمتوں اور تیل کے لیے گئے بانڈوز کو پٹرول اورڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کے لیے مورد الزام قراردیاہے، اس وقت مودی کوحکومت سود کے ساتھ ان بانڈوز کی ادائیگی کرنی پڑرہی ہے۔

      بین الاقوامی مارکٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمیں استعمال شدہ 80 فیصد تیل درآمد کرنا پڑتا ہے۔ وہیں ڈیزل کی قیمتیں بھی آسمان کو چھو رہی ہے۔

      پٹرول اور ڈیزل کی قیمیتیں
      پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے


      • قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟


      وزارتِ پٹرولیم کا کہناہےکہ واقعی گذشتہ ایک سال میں خام تیل کی بین الاقوامی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ہندوستانی باسکٹ خام تیل کی اوسط قیمت 119 فیصد اضافے سے مئی 2020 میں محض 30.61 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر رواں سال مئی میں 66.95 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ اپریل 2020 میں برینٹ کروڈ کی قیمتیں 19 ڈالر فی بیرل گر گئیں کیونکہ مختلف ممالک میں لاک ڈاؤن اور سفری پابندیوں نے ایندھن کی طلب کو کچل دیا تھا۔ تاہم 23 جون 2021 کو برینٹ کی قیمتیں 75.32 ڈالر فی بیرل کو چھونے لگیں، جو دو سال سے زیادہ میں سب سے زیادہ ہے، جس نے ہندوستان جیسے صارف ممالک میں خدشات کو جنم دیا ہے۔



      • حزب اختلاف حکومت پر الزام کیوں عائد کررہی ہے؟


      صارفین کو فائدہ پہنچانے کے بجائے حکومت نے گذشتہ سال مارچ میں ایکسائز ڈیوٹی بڑھا دی۔ پٹرول کے لئے یہ 19.98 روپے فی لیٹر سے بڑھ کر 32.90 روپے ہوگئی، جبکہ ڈیزل کے لئے یہ 15.83 روپے فی لیٹر سے بڑھ کر 31.80 روپے فی لیٹر ہوگئی۔ ٹیکسوں میں اس اضافے نے ایندھن کی اعلی شرحوں میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔

      فی الحال مرکزی اور ریاستی سطح کے ٹیکسوں میں پٹرول کی خوردہ قیمت کا تقریبا 55 فیصد اور ڈیزل میں 51 فیصد حصہ ہے۔ مرکزی اور ریاستی ٹیکس کے علاوہ ایندھن کی قیمتوں میں فریٹ چارجز اور ڈیلر کمیشن بھی شامل ہیں۔ ٹیکس کے جزو میں کسٹم ڈیوٹی ، ایکسائز ڈیوٹی اور ریاستی حکومتوں کے ذریعہ ویلیو ایڈڈ ٹیکس شامل ہے۔ اس وقت پیٹرول اور ڈیزل پر کسٹم ڈیوٹی کے نرخ 2.5 فیصد پر ایک ہی ہیں اور مرکز کی جانب سے کسٹم ڈیوٹی پر سوشل ویلفیئر سرچارج 3 فیصد سے بڑھا کر 10 فیصد کردیا گیا ہے۔

      • کون زیادہ کما رہا ہے؛ ریاستیں یا مرکز؟


      پچھلے پانچ سال میں پیٹرول سے مرکزی حکومت کا ایکسائز ڈیوٹی وصولی 167 فیصد بڑھ کر 2014-15 میں 29,279 کروڑ روپے تھی جو 2019-20 میں 78230 کروڑ روپے ہوگئی۔ یہ پچھلے سال ٹیکسوں میں اضافے کی وجہ سے 2020-21 کے اپریل سے جنوری کے دوران 89575 کروڑ روپے ہوگئی ہے۔

      ڈیزل میں بھی اسی طرح کا اضافہ دیکھا گیا۔ ایکسائز وصولی تقریبا تین ارب تین پیسے ہوگئی جو سنہ 2019-20 میں 1,23,166 تھی جب کہ سنہ 2014-15 میں 42881 کروڑ روپے تھی۔ اس کے بعد 2020-21 کے اپریل سے جنوری کے عرصے میں یہ مزید بڑھ کر 2,04,906 کروڑ روپے ہو گئی ہے۔

      پورے ملک میں پٹرول ۔ڈیزل کی قیمت میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے
      پورے ملک میں پٹرول ۔ڈیزل کی قیمت میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے


      ریاستوں نے وسائل کو بڑھانے کے لئے اپنی ٹیکس کی طاقت کو ایندھن پر بھی استعمال کیا ہے۔ ایندھن کی قیمت ایک ریاست سے دوسری ریاست میں مختلف ہوتی ہے، اس پر انحصار ہوتا ہے کہ مقامی ٹیکس جیسے VAT اور دوسری ریاست میں فریٹ چارجز کتنے ہیں۔ ریاستوں میں راجستھان پیٹرول اور ڈیزل پر سب سے زیادہ VAT عائد کرتا ہے۔ اس کے بعد مدھیہ پردیش ، اڈیشہ اور مہاراشٹرا ہے۔ فروری میں مغربی بنگال ، آسام ، راجستھان اور میگھالیہ جیسی ریاستوں نے ایندھن پر ٹیکس کم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

      حکومت کے پٹرولیم پلاننگ اینڈ انیلیسیسس سیل (Petroleum Planning and Analysis Cell) کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ پیٹرولیم ، تیل اور چکنا کرنے والے مالیات کے سیلز ٹیکس اور ویلیو ایڈڈ ٹیکس کی شکل میں سرکاری خزانے میں شراکت میں 2014 میں 137157 کروڑ روپے سے 46 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ وہیں 2019-20 میں 200,493 کروڑ روپے ہوگئے۔ اس کے بعد 2020-21 کے پہلے نو مہینوں میں کل رقم 135,693 کروڑ روپے ہوگئی۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: