உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Explained: ڈاکٹرزکیوں کررہے ہیں احتجاج ؟ NEET PG کونسلنگ میں تاخیرکیوں؟ جانیےتفصیل

    Youtube Video

    فیڈریشن آف ریذیڈنٹ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن انڈیا (FORDA) نے ملک بھر کے ریسیڈنٹ ڈاکٹرز سے کہا ہے کہ وہ حکومت سے نیٹ پی جی کونسلنگ کے عمل کو تیز کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج میں شامل ہوں۔ آخر اس کی کیا وجہ ہے؟

    • Share this:
      نیشنل الیجیبلٹی کم انٹرنس ٹسٹ پی جی (NEET PG 2021) کونسلنگ کے عمل میں تاخیر کی وجہ سے ریسیڈنٹ ڈاکٹرز سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔ اس عمل کو تیز کرنے کے لیے ڈاکٹرز نے ملک گیر ہڑتال کی کال دی ہے۔ یہ احتجاج اس وقت کیا جارہا ہے، جب سپریم کورٹ نے اقتصادی طور پر کمزور طبقے (EWS) کے کوٹہ سے فائدہ اٹھانے کے لیے 8 لاکھ روپے سالانہ آمدنی کی حد مقرر کرنے مرکزی حکومت کے فیصلے پر اظہار خیال کیا ہے۔

      سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت سے کہا کہ وہ ایک کمیٹی تشکیل دے اور پچھلی سماعت میں اس معاملے پر دوبارہ غور کرے۔ حکومت نے ابھی تک اس پر کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے اور اس وقت تک مشاورت کے عمل کو روک دیا گیا ہے۔

      نیٹ پی جی کونسلنگ 25 اکتوبر 2021 کو شروع ہونے والی تھی لیکن بعد میں سپریم کورٹ کی مداخلت کی وجہ سے اسے اگلی نوٹس تک ملتوی کر دیا گیا۔ اس کیس کی آخری سماعت نومبر میں ہوئی تھی۔ اس کے بعد سے ریذیڈنٹ ڈاکٹرز ایک ماہ سے زائد عرصے سے احتجاج کر رہے ہیں۔


      اگر کوٹہ کی حد تبدیل کی جائے تو کیا ہوگا؟

      مرکزی حکومت نے ای ڈبلیو ایس سے تعلق رکھنے والے طلبہ کے لیے آل انڈیا کوٹہ (AIQ) کے تحت میڈیکل کالجز میں 10 فیصد ریزرویشن متعارف کرایا ہے۔ اگر ای ڈبلیو ایس کوٹہ کی حد 8 لاکھ روپے تبدیل کی جاتی ہے، تو اس سے زیادہ یا اس سے بھی کم طلبہ فیصلے کی بنیاد پر ریزرویشن سے فائدہ اٹھانے کے اہل ہوں گے۔ میڈیکل کونسلنگ کمیٹی (MCC) نے اس سے قبل اشارہ دیا تھا کہ کوٹہ کے بارے میں فیصلہ جنوری سے پہلے کیے جانے کا امکان نہیں ہے۔

      احتجاج کون کررہے ہیں اور کیوں؟

      فیڈریشن آف ریذیڈنٹ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن انڈیا (FORDA) نے ملک بھر کے ریسیڈنٹ ڈاکٹرز سے کہا ہے کہ وہ حکومت سے نیٹ پی جی کونسلنگ کے عمل کو تیز کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج میں شامل ہوں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ’’ریسیڈنٹ ڈاکٹرز زیادہ کام کرنے والے اور تھکے ہوئے ہیں اور وہ کام کا وباؤ محسوس کررہے ہیں‘‘۔

      ریسیڈنٹ ڈاکٹرز کا مزید دعویٰ ہے کہ وہ کووڈ۔ 19 کے آغاز سے ہی صف اول پر رہ کر اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں اور اس کی وجہ سے زیادہ بوجھ محسوس کررہے ہیں۔ اب وہ تھک چکے ہیں اور مزید ڈاکٹرز کا اضافہ خوش آئند اقدام ہوگا۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ وہ پہلے سے ہی تاخیر کا شکار نیٹ پی جی کونسلنگ کے معاملے میں سپریم کورٹ کی کارروائی کے کچھ مثبت نتائج کا آج تک صبر سے انتظار کر رہے ہیں۔ تاہم ان کی جسمانی اور ذہنی پریشانی میں کوئی کمی نہیں آئی۔ ڈاکٹروں نے کہا کہ طبی مشاورت میں تاخیر کالج کی تعلیم کو مزید موخر کر دے گی۔ جس کی وجہ سے طلبہ کو اپنی ڈگریاں مکمل کرنے کے لیے کم وقت ملے گا۔


      انہوں نے 27 نومبر کو ہڑتال کی کال دی تھی اور اپنے مطالبات پیش کرنے کے لیے احتجاج شروع ہونے سے پہلے ہی وہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر پہنچ گئے تھے۔ انہوں نے اسی دن او پی ڈی خدمات بھی معطل کر دی تھیں۔ وہیں 27 دسمبر کو ڈاکٹرز نے سپریم کورٹ کی طرف مارچ کی کوشش کی۔


      ڈاکٹرز کے ایک بڑے طبقے نے نرمان بھون کے قریب وزارت صحت کے دفتر کے باہر اور بعد میں مولانا آزاد میڈیکل کالج (ایم اے ایم سی) کے احاطے میں بھی احتجاج کیا اور کونسلنگ کے عمل کو تیز کرنے کا مطالبہ کرنے کے لیے مارچ کیا۔ اس کے بعد 28 دسمبر کو صفدر جنگ اسپتال میں ریسیڈنٹ ڈاکٹرز کی پولیس کے ساتھ جھڑپ ہوئی جب انہیں مارچ کرنے سے روک دیا گیا۔ دہلی میں ڈاکٹرز کے گروپوں نے بھی تمام طبی خدمات بند کرنے کی دھمکی دی ہے۔ پولیس نے احتجاج کرنے والے ڈاکٹرز کو جانے سے روکنے کے لیے اسپتال کے تمام دروازے بند کر دیے تھے اور لاٹھی چارج بھی کیا تھا۔ بعد میں وزیر صحت نے ڈاکٹرز کے ساتھ پولیس کے رویے پر افسوس کا اظہار کیا جس کے بعد ایمس (AIIMS) کے ڈاکٹرز نے اپنی ہڑتال ختم کردی۔


      وزارت صحت نے کیا کہا؟

      وزیر صحت نے احتجاج کرنے والے ڈاکٹرز پر پولیس کی کارروائی پر افسوس کا اظہار کیا تھا اور ان پر زور دیا تھا کہ وہ 29 نومبر کو اپنی ہڑتال ختم کردیں جس میں ملک کو ڈاکٹرز کی ضرورت کے پیش نظر ہنگامی خدمات بھی شامل ہیں۔ اسی دوران فیڈریشن آف ریذیڈنٹ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن (FORDA) نے دسمبر کے پہلے ہفتے میں وزیر صحت منسکھ منڈاویہ کے ساتھ نیٹ پی جی کونسلنگ کے سلسلے میں ایک میٹنگ کی تھی۔ ایسوسی ایشن نے بعد میں کہا کہ وزیر صحت نے ان کی شکایات کا نوٹس لیا ہے اور وزارت صحت اور خاندانی بہبود (MoHFW) سپریم کورٹ میں مذکورہ کیس کو جلد سماعت کے لیے لے جائے گی۔

      کیس کی اگلی سماعت کب ہوگی؟

      اس کیس کی سماعت 6 جنوری 2022 کو جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی سربراہی میں تین ججوں کی بنچ کے ذریعہ متوقع ہے۔ سالیسٹر جنرل آف انڈیا تشار مہتا (Tushar Mehta) نے سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ مرکزی حکومت ایک کمیٹی بنائے گی اور چار ہفتوں کے اندر نیا فیصلہ لے گی۔

      قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں ۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: