உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    EXPLAINED: اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کا کیا مطلب ہے؟ کیا اس کے باوجود بھی واٹس ایپ ڈیٹا لیگ ہوسکتا ہے؟

    علامتی تصویر۔(نیوز18)۔

    علامتی تصویر۔(نیوز18)۔

    فیس بک کے بانی مارک زکربرگ نے کہا کہ واٹس ایپ پرائیویسی اور سیکیورٹی کی ایک اور پرت کا اضافہ کر رہا ہے تاکہ ان بیک اپ کے لیے اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن آپشن فراہم کیا جا سکے جو لوگ گوگل ڈرائیو یا آئی کلاؤڈ میں اسٹور کرنے کا انتخاب کرتے ہیں۔

    • Share this:
      واٹس ایپ چیٹس WhatsApp chats کے لیے اینڈ ٹو اینڈ انکرپٹڈ end-to-end encrypted (آخر سے آخر تک خفیہ کاری) ہونا ایک اہم ٹکنیک ہے۔ فیس بک کی ملکیت والی کمپنی واٹس ایپ کا کہنا ہے کہ کمپنی اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کا خاص خیال رکھتی ہے۔ لیکن یہ بالکل الگ بات ہے کہ کس طرح شیئر کیے جانے والے پیغامات باقاعدگی سے لیک ہوتے ہیں۔

      کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ اپنے 2 بلین سے زیادہ صارفین کی چیٹس کو نجی رکھنے کے لیے مصروف کار ہے۔ اس کے باوجود ایسے بیک ڈور اور ہیکرس ہیں جو بھیجنے والے اور وصول کنندہ کے علاوہ دوسرے لوگوں کو WhatsApp پیغامات تک رسائی کی اجازت دیتے ہیں۔ اسی ضمن میں تفصیلات پیش ہیں:

      واٹس ایپ پرائیویسی اور سیکیورٹی کی ایک اور پرت کا اضافہ کر رہا ہے
      واٹس ایپ پرائیویسی اور سیکیورٹی کی ایک اور پرت کا اضافہ کر رہا ہے


      واٹس ایپ کے ذریعے استعمال کیا جانے والا انکرپشن کیا ہے؟

      واٹس ایپ کا کہنا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ سروس کے ذریعے شیئر کیا گیا کوئی بھی مواد — پیغامات، تصاویر، ویڈیوز، صوتی پیغامات، دستاویزات اور کالز — کو اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کا استعمال کرتے ہوئے غلط ہاتھوں میں جانے سے محفوظ رکھا جائے۔

      اس موضوع پر واٹس ایپ کا کہنا ہے کہ وہ ’’اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کو ایسی ترسیل کے طور پر بیان کرتا ہے جو بھیجنے والے کے زیر کنٹرول ڈیوائس سے وصول کنندہ کے زیر کنٹرول ڈیوائس تک انکرپٹ (محفوط اور محدور) رہتی ہے۔ کوئی تیسرا فریق یہاں تک کہ واٹس ایپ یا ہماری پیرنٹ کمپنی فیس بک بھی درمیان میں موجود مواد تک رسائی حاصل نہیں کر سکتی ہے‘‘۔

      واٹس ایپ کے مطابق سگنل انکرپشن پروٹوکول Signal encryption protocol کا استعمال کرتے ہوئے چیٹس کی اسکرامبلنگ کو "لاک سے محفوظ" ہونے والے پیغامات سے تشبیہ دی جا سکتی ہے جب یہ کسی ڈیوائس کو صرف بھیجنے والے اور وصول کنندہ کے پاس چھوڑ دیتا ہے۔ اسی لیے خفیہ کاری کی خصوصیت اس میں شامل کی گئی ہے، جو کہ خود کار طریقے سے کام کرتی ہے اور آپ کے پیغامات کو محفوظ بنانے کے لیے سیٹنگز کو آن کرنے یا خصوصی خفیہ چیٹس ترتیب دینے کی ضرورت نہیں ہے۔



      واضح رہے کہ سگنل انکرپشن ایک کرپٹوگرافک پروٹوکول ہے جسے 2013 میں Open Whisper Systems نے تیار کیا تھا۔تاہم واٹس ایپ واضح کرتا ہے اس کے ذریعہ کنٹرول کردہ آلے کے تمام پیغامات کو وصول کنندہ کے ذریعے کنٹرول کیا جاتا ہے، اسے اینڈ ٹو اینڈ انکرپٹڈ تصور کیا جاتا ہے۔ ایسے وصول کنندہ کے ساتھ مواصلت جو اپنے اختتامی نقطہ کو منظم کرنے کے لیے وینڈر کا استعمال کرتا ہے، اسے اینڈ ٹو اینڈ انکرپٹڈ نہیں سمجھا جاتا ہے۔

      چیٹس کیسے لیگ ہوتے ہیں؟
      اکثرواٹس ایپ پیغامات کے لیک کے طور پر بیان کیا جاتا ہے وہ چیٹس کے اسکرین شاٹس سے زیادہ کچھ نہیں ہے جو وصول کنندہ یا وصول کنندہ کے فون تک رسائی رکھنے والا کوئی شخص دوسروں کے ساتھ شیئر کرتا ہے-

      اس بارے میں کمپنی کا کہنا ہے کہ آپ کو ذہن میں رکھنا چاہئے کہ عام طور پر کوئی بھی صارف آپ کی چیٹس یا پیغامات کے اسکرین شاٹس کیپچر کرسکتا ہے یا ان کے ساتھ آپ کی کالز کی ریکارڈنگ بنا سکتا ہے اور انہیں واٹس ایپ یا کسی اور کو بھیج سکتا ہے، یا کسی اور پلیٹ فارم پر پوسٹ کرسکتا ہے۔



      ہندوستانی قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کے حالیہ واقعات بالی ووڈ کی مشہور شخصیات جیسے ریا چکرورتی اور آریان خان کی چیٹ سے گزر رہے ہیں ان کے فون تک حقیقی رسائی کے ذریعہ فعال کیا گیا تھا۔ یہاں لیک دراصل فونز کو تفتیش کاروں کے حوالے کیے جانے کا معاملہ تھا، جو اس وقت ڈیوائس پر محفوظ شدہ ڈیلیٹ شدہ چیٹس تک بھی رسائی حاصل کر سکتے تھے۔ لیکن ایسے ٹیک بیک ڈور موجود ہیں جن کے ذریعے نجی واٹس ایپ چیٹس تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔ کسی خاص فون کے تمام مواد کی ایک کاپی بنانے کے قابل بناتا ہے، جس سے کلونر کو ڈیٹا تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔

      اسپائی ویئر کے ذریعہ جاسوسی:

      اس کے بعد ایسے اسپائی ویئر ہوتے ہیں جنہیں فون میں خفیہ طور پر انسٹال کیا جا سکتا ہے، جو پھر ڈیوائس پر کی جانے والی تمام کارروائیوں تک مسلسل رسائی فراہم کرتا ہے۔ ایک اسرائیلی کمپنی کا تیار کردہ پیگاسس اسپائی ویئر اسپائی ویئر چلانے والے ادارے کو تمام واٹس ایپ چیٹس کو ظاہر کرنے میں کامیاب حاصل ہوئی ہے۔



      لیکن واٹس ایپ چیٹس تک رسائی کا ایک عام طریقہ ان چیٹس کے بیک اپ کے ذریعے رہا ہے جسے WhatsApp کلاؤڈ پر اسٹور کرتا ہے۔ اب واٹس ایپ خود کلاؤڈ اسٹوریج فراہم نہیں کرتا ہے اور تھرڈ پارٹی کلاؤڈ فراہم کنندہ کے ساتھ پیغامات کا بیک اپ لیتا ہے، جیسے کہ گوگل ڈرائیو یا آئی کلاؤڈ۔ اسی لیے کلاؤڈ پر اسٹوریج انکرپٹڈ نہیں ہے اور اگر صارف کا کلاؤڈ اسٹوریج ہیک ہو جاتا ہے، تو بیک اپ چیٹس تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔

      اس سال ستمبر میں فیس بک کے بانی مارک زکربرگ نے کہا کہ واٹس ایپ پرائیویسی اور سیکیورٹی کی ایک اور پرت کا اضافہ کر رہا ہے تاکہ ان بیک اپ کے لیے اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن آپشن فراہم کیا جا سکے جو لوگ گوگل ڈرائیو یا آئی کلاؤڈ میں اسٹور کرنے کا انتخاب کرتے ہیں۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: