உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Explained:ہر سال لاکھوں لوگ کیوں چھوڑ رہے ہیں ہندوستانی شہریت؟اس کی کیا ہے وجہ؟

    سال 2015 سے 2019 کے درمیان، 6.76 لاکھ سے زیادہ لوگوں نے ہندوستانی شہریت چھوڑ دی ہے اور دوسرے ملکوں کی شہریت لے لی۔ لوک سبھا میں مملکتی وزیر داخلہ نتیانند رائے نے ایک سوال کے تحریری جواب میں یہ جانکاری دی ہے۔

    سال 2015 سے 2019 کے درمیان، 6.76 لاکھ سے زیادہ لوگوں نے ہندوستانی شہریت چھوڑ دی ہے اور دوسرے ملکوں کی شہریت لے لی۔ لوک سبھا میں مملکتی وزیر داخلہ نتیانند رائے نے ایک سوال کے تحریری جواب میں یہ جانکاری دی ہے۔

    سال 2015 سے 2019 کے درمیان، 6.76 لاکھ سے زیادہ لوگوں نے ہندوستانی شہریت چھوڑ دی ہے اور دوسرے ملکوں کی شہریت لے لی۔ لوک سبھا میں مملکتی وزیر داخلہ نتیانند رائے نے ایک سوال کے تحریری جواب میں یہ جانکاری دی ہے۔

    • Share this:
      ملک میں NRC یعنی نیشنل رجسٹر آف سٹیزن کو لے کر اب تک کوئی فیصلہ نہیں لیا گیا ہے، جب کہ 10 جنوری 2020 سے ہی CAA یعنی سٹیزن شپ امینڈمنٹ بل (Citizen Amendment Bill) لاگو ہے۔ سی اے اے کے تحت رولس تیار ہونے کے بعد شہریت کے لئے اہل لوگ درخواست کرسکتے ہیں۔ خیر، یہ تو ہوئی بھارت کی شہریت پانے کی بات، لیکن اس سے الگ، ایک جانکاری یہ ہے کہ ہر سال لاکھوں لوگ ملک کی شہریت چھوڑ رہے ہیں۔
      سال 2015 سے 2019 کے درمیان، 6.76 لاکھ سے زیادہ لوگوں نے ہندوستانی شہریت چھوڑ دی ہے اور دوسرے ملکوں کی شہریت لے لی۔ لوک سبھا میں مملکتی وزیر داخلہ نتیانند رائے نے ایک سوال کے تحریری جواب میں یہ جانکاری دی ہے۔ وزارت ِ خارجہ کے پاس دستیاب جانکاری کے مطابق مجموعی طور پر 1،24،99،395 ہندوستانی شہری دوسرے ملکوں میں رہ رہے ہیں۔ آگے ہم یہ سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ یہ جو ہر سال ہندوستانی اتنی بڑی تعداد میں ملک کی شہریت چھوڑ رہے ہیں، اس کی وجہ کیا ہے؟
      زیادہ تر کن ملکوں میں بس رہے ہیں ہندوستانی؟
      ٹی او آئی کی ایک رپورٹ کے مطابق، امریکہ میں رہنے والے اوسطاً 44 فیصد ہندوستانی لوگ شہریت چھوڑ دیتے ہیں۔ وہیں کینیڈا اور آسٹریلیا میں رہ رہے 33 فیصد ہندوستانی شہریت چھوڑ دیتے ہیں۔ یعنی واضح ہے کہ امریکہ جانے والے 44 فیصدی بھارتی بعد میں وہاں کی شہریت حاصل کرکے وہیں بس جاتے ہیں، جب کہ کینیڈا اور آسٹریلیا جانے والے 33 فیصد ہندوستانی بھی ایسا ہی کرتے ہیں۔ دیگر ملکوں کی بات کریں تو برٹین، سعودی عرب، کوویت، یو اے ای، قطر، سنگاپور و دیگر ملکوں میں بڑی تعداد میں بھارتی لوگ بس رہے ہیں۔
      وزارت داخلہ کے مطابق، 1.25 کروڑ ہندوستانی شہری فارین میں رہ رہے ہیں، جس میں 37 لاکھ لوگ او سی آئی یعنی اوورسیز سٹیزن شپ آف انڈیا کارڈ ہولڈر ہیں۔ حالانکہ انہیں بھی ووٹ دینے کا، ملک میں الیکشن لڑنے کا، زرعی جائیداد خریدنے کا یا سرکاری دفاتر میں کام کرنے کا حق نہیں ہوتا ہے۔
      کس سال کتنے لوگوں نے چھوڑی شہریت؟
      وزارت داخلہ کے مطابق، سال 2015 میں 1،41،656 لوگوں نے ہندوستانی شہریت چھوڑی جب کہ سال 2016 میں 1,44,942، سال 2017 میں 1,27,905، سال 2018 میں 1,25,130 لوگوں نے جبکہ سال 2019 میں 1،36،441 لوگوں نے ہندوستانی شہریت چھوڑ دی۔
      کیوں شہریت چھوڑ رہے ہیں ہندوستانی؟
      ماہرین کا ماننا ہے کہ پڑھائی، بہتر کرئیر، اقتصادی خوشحالی اور مستقبل کو دیکھتے ہوئے ہندوستان سے بڑی تعداد میں لوگ بیرون ممالک کا رُخ کرتے ہیں۔ اس تعلق سے دلی اسکول آف جرنلزم میں اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر رودریش نارائن مشرا، کچھ رپورٹ کی بنیاد پر بتاتے ہیں کہ پچھلے کچھ سالوں میں دیکھا گیا ہے کہ پڑھائی کے لئے فارین جانے والے لوگوں میں سے قریب 80 فیصدی نوجوان واپس بھارت نہیں لوٹتے ہیں۔ کرئیر کے امکانات کو دیکھتے ہوئے اور اچھے مواقع ملنے کی وجہ سے فارین میں ہی بس جاتے ہیں۔
      ڈاکٹر مشرا گوگل، مائیکروسافٹ، آئی بی ایم، ٹوئٹر جیسی مشہور کمپنیوں میں ہندوستانی نژاد کے سی ای او سندر پچائی، ستیہ نڈیلا، اروند کرشنا، پراگ اگروال کی مثال دیتے ہوئے بتاتے ہیں کہ بہت سارے ہندوستانی نوجوانوں کے لئے یہ لوگ آئیڈیل ہیں۔ یہی نہیں، پروفیشنل سروسز کمپنی Deloitte کے سی ای او پونیت، VMware کے سی ای او بھی رگھورام، کمپیوٹر سافٹ ویئر کمپنی Adobe کے سی ای او شانتنو نارائن وغیرہ بھی اسی قطار میں شامل ہیں۔
      ایسے میں نوجوانوں کے لئے کرئیر آپشن کے طور پر ملٹی نیشنل کمپنیاں اور فارین کا رُخ کرنا کوئی حیران کن بات نہیں ہے۔ حالانکہ ڈاکٹر مشرا اپنی بات میں یہ بھی اضافہ کرتے ہیں کہ حالیہ سالوں میں بھی بڑی اور بہترین کرئیر مواقع بننے لگے ہیں اور سرمایہ کاری کے لئے فارین کمپنیوں کی نظر ہندوستانی مارکیٹ کی جانب ہے۔
      ایک بڑی وجہ - پروویژن آف سنگل سٹیزن شپ
      ہندوستان میں سنگل سٹیزن شپ کا پروویژن ہے۔ ہندوستان کا آئین، ہندوستانیوں کو دوہری شہریت رکھنے کی اجازت نہیں دیتا ہے۔ اٹلی، آئرلینڈ، پیراگووے، ارجنٹینا جیسے ممالک میں دوہری شہریت کے پروویژن ہیں۔ ان ملکوں کی شہریت آسانی سے پائی جاسکتی ہے۔ لیکن ہندوستان کے ساتھ ایسا نہیں ہے۔ یہاں ہندوستانی شہریت ایکٹ، 1955 کے مطابق شہریت حاصل کی جاسکتی ہے، لیکن ہندوستان کے شہری رہتے ہوئے آپ دوسرے ملک کے شہری نہیں رہ سکتے۔
      دوہری شہریت کی تجویز پر غور نہیں
      شہریت ترمیم ایکٹ 1955 کے مطابق کوئی بھی ہندوستانی شہری دو ملکوں کی شہریت نہیں لے سکتا۔ اگر وہ ایسا کرتا ہے تو ایکٹ کی دفعہ 9 کے تحت اُس کی ہندوستانی شہریت ختم کی جاسکتی ہے۔ ہندوستان کا کوئی بھی شہری رہنے کے لئے، نوکری کرنے کے لئے یا کسی اور وجہ سے اگر دیگر کسی ملک کی شہریت لے لیتا ہے تو اُس سے ہندوستان کی شہریت چھین لی جائے گی۔ وزارت داخلہ نے ہی اسی سال فروری میں لوک سبھا میں بتایا تھا کہ فی الھال حکومت دوہری شہریت کی تجویز پر غور نہیں کررہی ہے۔

      قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں ۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: