உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Explained: تحریک عدم اعتماد میں 9اپریل کو عمران خان کی ہار کیوں ہے طئے، جانیے وجہ

    9 اپریل کو عمران خان کی کرسی جانا کیوں ہے طئے، جانیے وجہ۔

    9 اپریل کو عمران خان کی کرسی جانا کیوں ہے طئے، جانیے وجہ۔

    اگر عمران کے خلاف تحریک عدم اعتماد منظور ہو جاتی ہے جس کا بہت زیادہ امکان ہے تو وہ پاکستان کی تاریخ میں پہلے وزیر اعظم ہوں گے جنہیں تحریک عدم اعتماد کے ذریعے ہٹایا جائے گا۔

    • Share this:
      اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان کا فیصلہ عمران خان کے سیاسی ارادوں کے لیے بڑا دھچکا ہے۔ عمران خان کو اب پارلیمنٹ میں تحریک عدم اعتماد کا سامنا کرنا پڑے گا۔ عمران کبھی اس صورتحال کا سامنا نہیں کرنا چاہتے تھے، وہ جانتے تھے کہ ان کے پاس اکثریت نہیں ہے۔ ہم آپ کو بتا رہے ہیں کہ کیوں 9 اپریل کوجب تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ ہو گی تو عمران خان کی شکست طئے ہوگی۔

      یہ بھی پڑھیں:
      Pakistan : سپریم کورٹ کے فیصلہ پر عمران خان کا رد عمل آیا سامنے، کہی یہ بڑی بات

      اکثریت کھوچکے ہیں عمران خان
      دراصل، عمران خان نے حکمران اتحاد کی اہم اتحادی ایم کیو ایم-پی کے اپوزیشن کیمپ میں شامل ہونے کے اعلان کے ساتھ ہی اکثریت کھو دی۔ ایم کیو ایم پی کے 7 ایم پی ایز ہیں۔ اس سے قبل حکومت کی ایک اور اتحادی اور بلوچستان عوامی پارٹی (BAP) جس کے پانچ ارکان پارلیمنٹ ہیں، نے بھی اپوزیشن کے ساتھ جانے کا اعلان کیا تھا۔

      یہ بھی پڑھیں:
      Pakistan Political Crisis: پاکستان کی سپریم کورٹ نے سنایا اپنا فیصلہ ، کہی یہ بڑی بات

      قومی اسمبلی کا حساب

      • عمران خان کو حکومت بچانے کے لیے 342 رکنی پارلیمنٹ (قومی اسمبلی) میں 172 ووٹ درکار ہوں گے۔

      • عمران خان کی پارٹی پی ٹی آئی کے ایوان میں 155 ارکان اسمبلی ہیں۔ عمران کو تقریباً دو درجن ایم پی ایز کی بغاوت اور اتحادیوں کے چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔

      • جب کہ اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ اسے 175 ارکان پارلیمنٹ کی حمایت حاصل ہے۔

      • واضح رہے کہ عمران اکثریت کھو چکے ہیں اور تحریک عدم اعتماد کی منظوری ایک رسمی حیثیت ہے۔


      یہ بھی پڑھیں:
      Pakistan crisis: کیا جنرل مشرف جیسا ہوگا عمران خان کا حال؟ اقتدار نہیں ملی تو یہ ہوگی سزا

      ایسے بڑھتی گئی عمران خان کی مشکلیں

      • پاکستان کی سیاسی صورتحال 8 مارچ کے بعد مزید خراب ہوئی جب اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی۔

      • تحریک عدم اعتماد میں الزام لگایا گیا کہ ملک میں معاشی بحران اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کی ذمہ دار عمران خان کی قیادت میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت ہے۔

      • 3 اپریل کو، عمران اپوزیشن کو جھٹکا دینے میں کامیاب رہے جب قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری نے حکومت کو گرانے کی نام نہاد غیر ملکی سازش سے تعلق کا حوالہ دیتے ہوئے تحریک عدم اعتماد کو مسترد کر دیا۔ چند منٹ بعد صدر عارف علوی نے وزیراعظم خان کے مشورے پر قومی اسمبلی تحلیل کر دی تھی۔

      • تاہم جمعرات کو سپریم کورٹ نے قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر کی جانب سے پیش کی گئی تحریک عدم اعتماد کو مسترد کر دیا اور بعد ازاں پارلیمنٹ کی تحلیل کو غیر آئینی قرار دے دیا۔

      • عمران کو اب تحریک عدم اعتماد کا سامنا کرنا پڑے گا، جس پر ووٹنگ 9 اپریل کو ہوگی۔


      یہ بھی پڑھیں:
      Pakistan : عمران خان کے سوتیلے بیٹے کا انکشاف، فرح خان نے دیا دھوکہ، اربوں لے کر ہوئی فرار

      یہ بھی پڑھیں:
      جنرل باجوا کو ہٹانے کیلئے پاک فوج میں بغاوت کرانے والے تھے عمران خان، PTI ممبر کا الزام

      اگر عمران کے خلاف تحریک عدم اعتماد منظور ہو جاتی ہے جس کا بہت زیادہ امکان ہے تو وہ پاکستان کی تاریخ میں پہلے وزیر اعظم ہوں گے جنہیں تحریک عدم اعتماد کے ذریعے ہٹایا جائے گا۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: