ہوم » نیوز » Explained

Explained : پاکستان کے مقابلہ میں ہم کیوں ادا کرتے ہیں پٹرول ور ڈیزل کی دوگنی قیمت؟

قیمتیں لگاتار بڑھنے کی خبروں کے درمیان کہا گیا کہ اتنی بھاری مہنگائی کے باوجود تیل کمپنیاں اپنا منافع کم کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں ۔ وہیں پڑوسی ملک میں پٹرول کی قیمتیں قابو میں ہیں ، تو ہندوستان میں کیا کہانی ہے ؟

  • Share this:
Explained : پاکستان کے مقابلہ میں ہم کیوں ادا کرتے ہیں پٹرول ور ڈیزل کی دوگنی قیمت؟
Explained : پاکستان کے مقابلہ میں ہم کیوں ادا کرتے ہیں پٹرول ور ڈیزل کی دوگنی قیمت؟

پاکستان میں پٹرول 51 روپے فی لیٹر کے آس پاس ہے جبکہ ہندوستان میں جہاں 90 روپے سے کم قیمت پر پٹرول مل رہا ہے ، وہاں کے لوگوں کو مبارکباد دی جارہی ہے ۔ راجستھان اور مدھیہ پردیش سمیت کچھ ریاستوں میں پٹرول کی قیمت 100 روپے فی لیٹر سے تجاوز کرچکی ہے ۔ اعداد و شمار کے حساب سے آپ کہہ سکتے ہیں کہ ہندوستان میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمت پاکستان کے مقابلہ میں تقریبا دوگنی ہے ۔ یہ سچائی بھی ہے کہ قیمتوں کے حساب سے پاکستان دنیا میں 31 ویں نمبر پر ہے اور ہندوستان 115 ویں نمبر پر ، سوچئے کہ ماجرا کیا ہے ۔


ملک میں اسی ماہ گزشتہ ہی دنوں پٹرول اور ڈیزل کے دام میں اضافہ ہوا تو فروری کے 22۔25 دنوں میں گیارہوں مرتبہ ایسا ہوا ۔ جنوری کے ماہ میں ان قیمتوں میں 10 مرتبہ اضافہ ہوا تھا ۔ ایک سال کا اعداد و شمار دیکھا جائے تو پٹرول 17 روپے فی لیٹر تک مہنگا ہوگیا ہے ۔ اب وجہ کیا ہے ؟ خام تیل کی بین الاقوامی قیمتوں کو مورد الزام ٹھہرا دیا جائے یا روپے کے مقابلہ میں ڈالر کے مضبوط ہونے کو ؟ ان وجوہات سے یہ تو طے نہیں ہوپاتا کہ پھر پاکستان یا دیگر پڑوسی ملک میں قیمتیں کم کیوں ہیں؟


پڑوسی ممالک میں کتنی کم ہیں قیمتیں ؟


صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ ہندوستان کے سبھی پڑوسی ممالک میں پٹرول ہندوستان کے مقابلہ میں سستا ہے ۔ پاکستان میں 50 روپے 87 پیسے فی لیٹر ، بنگلہ دیش میں 76 روپے پانچ پیسے فی لیٹر اور سری لنکا میں 59 روپے 99 پیسے فی لیٹر پٹرول بک رہا ہے ۔ ان قیمتوں سے صاف اشارہ ملتا ہے کہ ہندوستان میں قیمتیں زیادہ ہونے کی وجہ ڈالر کی قیمت نہیں ہونی چاہئے کیونکہ ایسا ہوتا تو ان ممالک کی کرنسیاں ہندوستان کے مقابلہ میں ڈالر کے مقابلہ میں زیادہ کمزور ہیں ۔ مثال کے طور پر ہندوستان کے 72 روپے 56 پیسے کا ایک ڈالر ہے تو وہیں ایک ڈالڑ 159.26 پاکستانی روپے کے برابر ہے ۔

اس سال ہندوستان میں کتنا مہنگا ہوا پٹرول؟

دہلی میں فروری کے مہینے میں ہی بار بار قیمتوں میں اضافہ کی وجہ سے پٹرول تین روپے 24 پیسے فی لیٹر تک مہنگا ہوگیا ہے ۔ اس سے پہلے جنوری میں بھی 10 مرتبہ قیمتوں میں اضافہ دیکھنے کو ملا تو کل ملا کر اس سال کے تقریبا دو ماہ کے اندر پٹرول تقریبا چھ روپے تک مہنگا ہوچکا ہے ۔ یہی رفتار رہی تو اس سال پٹرول کے دام 36 روپے فی لیٹر تک بڑھ جائیں گے ۔

ہندوستان میں ٹیکس سسٹم کیا ہے؟

پٹرول اور ڈیزل یعنی پٹرولیم کے معاملہ میں ہندوستان میں مرکز اور ریاست کا ایک الگ الگ سسٹم ہے ۔ مرکز الگ سے ٹیکس لگاتا ہے اور ریاستی حکومتیں الگ سے ٹیکس عائد کرتی ہیں ، جس کی وجہ سے ہر ریاست اور ہر شہر میں پٹرول اورڈیزل کی قیمتیں الگ ہیں ۔ وہیں دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ موازنہ کریں تو پتہ چلتا ہے کی یوروپ میں پٹرول کی قیمتیں ہندوستان سے زیادہ ہیں ، پھر بھی وہاں ٹیکس ہندوستان کے مقابلہ میں کچھ کم ہے ۔

دوسری جانب جاپان اور امریکہ کے ساتھ ہندوستان کے ٹیکس اعداد و شمار میں تو زمین و آسمان کا فرق نظر آتا ہے ۔ امریکہ میں پٹرول کی قیمت ہندوستان کے مقابلہ میں 35 سے 40 فیصد کم ہے ۔ اب رہی بات پاکستان کی تو پاکستان میں بھی پٹرولیم پر ٹیکس کا ایک سطحی بندوبست ہے ۔ یعنی ہر جگہ الگ الگ ٹیکس نہیں لیا جاتا ہے ۔ اب ذرا ہندوستان میں ٹیکس کی اس بازیگری کو آسان الفاظ میں سمجھئے ۔

کیسے آپ کی جیب پر پڑتا ہے بوجھ ؟

دیکھئے یکم جنوری کو جب دہلی میں پٹرول 83 روپے 71 پیسے فی لیٹر مل رہا تھا تو ایندھن کی بنیادی قیمت 27 روپے 37 پیسے فی لیٹر تھی ۔ ایسے میں آپ کو جیب سے 56 روپے زیادہ کیوں دینے پڑے ؟ اس بنیادی قیمت پر سب سے پہلے 0.38 روپے فی لیٹر مال بھاڑا لگا تو ڈیلر کیلئے بنیادی قیمت 27.74 روپے ہوگئی ۔ اب یہاں سے ٹیکس لگنا شروع ہوتا ہے ۔

ایکسائز ڈیوٹی 32 روپے 98 پیسے لگی جو مرکزی حکومت نے وصول کیا ۔ پھر 3.67 روپے ڈیلر نے ہر لیٹر پر کمیشن وصول کیا ۔ اس کے بعد ریاستوں نے ویٹ اور دیگر کمیشن کے طور پر 19.32 روپے وصول کئے ۔ سبھی کو جوڑ دیجئے تو آپ کیلئے اس کی قیمت 83.71 روپے ہوگئی ۔ اس طرح دیگر ریاستوں میں یہ ٹیکس کافی زیادہ بھی ہے ۔ مدھیہ پردیش ، کیرالہ ، راجستھان ، کرناٹک جیسی ریاستوں میں سب سے زیادہ 30 فیصد تک ویٹ لگتا ہے ۔

پاکستان میں کتنا ہے ٹیکس ؟

وہیں امریکہ میں 17 تو پاکستان میں پٹرول پر لوگوں کو تقریبا ساڑھے تئیس فیصد ٹیکس دینا ہوتا ہے ۔ پاکستانی حکومت نے پٹرولیم پر ٹیکس سسٹم کے بارے میں سپریم کورٹ کو اس طرح بتایا تھا ۔

پٹرول کی حقیقی بنیادی قیمت اگر 62.38 پاکستانی روپے ہو تو اس پر 8.83 روپے مال بھاڑا جوڑ کر 9.85 روپے ٹیکس کموڈیٹی کا ہوتا ہے ۔ اس کے علاوہ سرکار 15 فیصدی ٹیکس عائد کرتی ہے تو پٹرول کی قیمت 91.96 پاکستانی روپے ہوتی ہے ۔ غور طلب ہے کہ پاکستانی روپے کے حساب سے پاکستان میں پٹرول کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں ، لیکن ہندوستانی کرنسی کے حساب سے یہاں کے مقابلہ میں اب بھی تقریبا آدھی ہیں ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Feb 25, 2021 12:56 PM IST