உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Explained: کرناٹک حکومت گرجا گھروں کا کیوں کر رہی ہے سروے؟ عیسائی برادری کیوں ہیں اس کی مخالف

    کرناٹک ہائی کورٹ Karnataka High Court

    کرناٹک ہائی کورٹ Karnataka High Court

    کرناٹک ہائی کورٹ Karnataka High Court نے پیپلز یونین فار سول لبرٹیز (PUCL) کی طرف سے دائر کی گئی ایک عرضی کی بنیاد پر بی جے پی کی زیر قیادت ریاستی حکومت کو نوٹس جاری کیا، تاکہ اس معاملہ کی تحقیق کی جاسکے۔

    • Share this:
      کرناٹک ہائی کورٹ Karnataka High Court نے پیپلز یونین فار سول لبرٹیز (PUCL) کی طرف سے دائر کی گئی ایک عرضی کی بنیاد پر پیر کو بی جے پی کی زیر قیادت ریاستی حکومت کو نوٹس جاری کیا جس میں ریاست میں گرجا گھروں churches کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے سروے کا حکم دینے کے حکومت کے اقدام کو چیلنج کیا گیا۔

      سروے میں کیا تفصیلات ہیں؟

      ڈائریکٹوریٹ آف مینارٹیز ویلفیئرDirectorate of Minorities Welfare کرناٹک حکومت کے زیراہتمام کام کرتا ہے، اس نے ریاست کے تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں کو گرجا گھروں کا سروے کرنے کی ہدایت دی اور انھیں اس سے متعلق ڈیٹا اکٹھا کرنے کے لیے کہا گیا۔ اس حوالے سے ایک مکتوب 7 جولائی کو جاری کیا گیا تھا۔

      نیشنل کمیشن فار مائنارٹیز
      نیشنل کمیشن فار مائنارٹیز


      اس سروے کے تحت چرچوں، ان کا پتہ، جغرافیائی محل وقوع، کھٹا (زمین کی ملکیت) اور سروے نمبر (وہ پلاٹ جہاں گرجا گھر واقع ہیں) اور پادری و ربی انچارج کا نام اور دیگر تفصیلات جمع کی گئی۔

      مزید برآں پسماندہ طبقات اور اقلیتوں سے متعلق کرناٹک قانون ساز اسمبلی کی ایک ہاؤس کمیٹی نے 13 اکتوبر کو ملاقات کی تاکہ عیسائی مشنریوں کی طرف سے ’’جبری تبدیلی‘‘ forced conversions کی جانچ کے لیے ایک اور سروے کے نفاذ کا فیصلہ کیا جا سکے۔

      ہاؤس کمیٹی کی میٹنگ کے ایک دن بعد ریاستی انٹیلی جنس ڈپارٹمنٹ کے کی طرف سے "مجاز اور غیر مجاز" چرچوں کے بارے میں معلومات اکٹھی کرنے کے لیے ایک داخلی حکم جاری کیا گیا۔ یہ حکم ریاست کے تمام ڈپٹی سپرنٹنڈنٹس آف پولیس (DSPs) کو بھیجا گیا ہے کہ وہ اپنے اپنے دائرہ اختیار میں گرجا گھروں اور کمیونٹی ہالوں کی جانچ کریں۔

      کس چیز نے معاملے کو سیاسی بنا دیا؟

      ہوسادورگا (ضلع چتردرگا میں) سے بی جے پی ایم ایل اے گولی ہٹی شیکھر نے کرناٹک اسمبلی کے حالیہ مانسون اجلاس کے دوران دعویٰ کیا کہ ریاست بھر میں ’’زبردستی یا لالچ کے ذریعے تبدیلییٔ مذہب کے واقعات بڑے پیمانے پر ہو رہے ہیں۔ ایم ایل اے نے یہ بھی کہ ان کے حلقے میں ان کی اپنی والدہ سمیت 15,000 سے 20,000 لوگوں کو عیسائی بنایا گیا تھا۔

      پسماندہ طبقات اور اقلیتوں سے متعلق کرناٹک قانون ساز اسمبلی کی ایک ہاؤس کمیٹی نے عیسائی مشنریوں کی طرف کی جبری تبدیلی مذہب کی جانچ کے لیے ایک اور سروے کے نفاذ کا فیصلہ کیا جا سکے۔
      پسماندہ طبقات اور اقلیتوں سے متعلق کرناٹک قانون ساز اسمبلی کی ایک ہاؤس کمیٹی نے عیسائی مشنریوں کی طرف کی جبری تبدیلی مذہب کی جانچ کے لیے ایک اور سروے کے نفاذ کا فیصلہ کیا جا سکے۔


      شیکھر نے محکمہ داخلہ کے اعدادوشمار کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ریاست بھر سے جبری تبدیلی کے 36 معاملے درج کیے گئے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ’’زبردستی تبدیلی کا خطرہ اتنا بڑھ گیا ہے کہ کچھ لوگ رہائش گاہوں کو گرجا گھروں اور بائبل سوسائٹیوں میں بھی تبدیل کر رہے ہیں‘‘۔

      اس کی وجہ سے وزیر داخلہ آراگا جنیندرا کے جواب میں کہا گیا کہ ’’حکومت ایسی مبینہ سرگرمیوں پر سخت نظر رکھے گی۔ مذہبی تبدیلیوں کا مسئلہ حکومت کے نوٹس میں آیا ہے۔ لوگوں کو اکسانے کے ذریعے ایک مذہب سے دوسرے مذہب میں تبدیل کرنا قابل سزا جرم ہے۔ ہم ایسی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھیں گے۔ ملک بھر میں مذہب کی تبدیلی پر ایک وسیع نیٹ ورک کام کر رہا ہے‘‘۔

      ایک ہفتہ بعد کرناٹک کے وزیر اعلیٰ بسواراج بومائی نے ریاست میں زبردستی مذہبی تبدیلیوں پر پابندی لگانے کے لیے ریاستی حکومت کے منصوبے کا انکشاف کیا۔ جنتا دل (سیکولر) کے ایم ایل اے دیوانند فلسنگ چوان وجئے پورہ ضلع کے ناگٹھن حلقے کی نمائندگی کرتے ہیں، انھوں نے عیسائی مشنریوں کے خلاف الزامات میں اضافہ کرتے ہوئے ان پر الزام لگایا کہ وہ کمزور بنجارہ کمیونٹی کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ضلع کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے 3.5 لاکھ لوگوں کا گھر ہے اور وہاں بڑے پیمانے پر تبدیلی مذہب کے واقعات ہو رہے ہیں۔

      اتفاق سے ہوسادرگہ کے ایم ایل اے شیکھر نے 20 رکنی ہاؤس کمیٹی کی سربراہی کی جس نے عیسائی مشنریوں کے بارے میں بھی سروے کا حکم دیا، جس سے عیسائی برادری کی سخت مخالفت میں اضافہ ہوا۔ کئی رہنماؤں نے اس کارروائی کو محض معمولی واقعات پر مبنی قرار دیا۔

      کرناٹک میں عیسائی برادری کی طرف سے کیا ردعمل آیا ہے؟

      سب سے پہلے جواب دینے والے کمیونٹی کے لوگوں میں بنگلور کے آرچ بشپ ریورنڈ پیٹر ماچاڈو تھے، جو کرناٹک ریجن کیتھولک بشپس کونسل کے صدر بھی ہیں۔ ماچاڈو ریاست میں کیتھولک بشپس کے ایک وفد کی قیادت کرتے ہوئے ستمبر میں ریاست میں جبری مذہب کی تبدیلی پر پابندی کے مجوزہ قانون پر تحفظات کا اظہار کرنے کے لیے بومائی سے ملے تھے۔

      کمیونٹی کے خلاف الزامات پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ منتخب نمائندوں کی طرف سے اس طرح کے بیانات بد نیتی پر مبنی اور جھوٹے ہیں۔ بشپس نے یہ بھی نوٹ کیا کہ ایسا قانون غیر ضروری فرقہ وارانہ مسائل اور بدامنی کا باعث بنے گا جس کے بعد کئی اور متنازعہ بیانات اور رد عمل سامنے آئیں گے۔

      بعد ازاں بنگلور کے آرچڈیوسیز نے سی ایم کو ایک دوسرا میمورنڈم تاریخ 14 اکتوبر کو لکھا گیا، جس میں زیادہ سخت الفاظ میں کہا گیا ہے کہ ’’پوری مسیحی برادری اس وقت تک آرام سے نہیں بیٹھے گی جب تک کہ محکمہ اقلیتی بہبود مذکورہ حکم کو مکمل طور پر واپس نہیں لے لیتا، تب تک ہم سروے کی مخالفت کرتے رہیں گے‘‘۔

      اس کے بعد 25 اکتوبر کو بنگلورو میں آل کرناٹک یونائیٹڈ کرسچن فورم فار ہیومن رائٹس (AKUCFHR) کی طرف سے ایک پریس کانفرنس طلب کی گئی جب کمیونٹی کے سینئر سیاسی رہنما، سابق مرکزی وزیر مملکت مارگریٹ الوا، سابق وزیر داخلہ کے جے جارج، اینگلو، ایم ایل اے ونیشا نیرو اور مینگلور ساؤتھ کے سابق ایم ایل اے جان رچرڈ لوبو نے بی جے پی حکومت کے اس اقدام کی مخالفت کی، ان سبھی نے اشارہ کیا کہ اس طرح کے اقدامات سے ریاست میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی متاثر ہوگی۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: