ہوم » نیوز » Explained

Explained: دہلی سمیت ملک کی کئی ریاستیں کیوں بن رہی ہیں آگ کا گولہ؟

محکمہ موسمیات (meteorological department India) کے مطابق، سال 1945 کے بعد 30 مارچ کا دن دہلی میں سب سے گرم رہا۔ یہ حال تقریباً پورے ملک کے ہیں۔ ماہرین ہندوستان میں زبردست گردمی کا خدشہ ظاہر کرچکے ہیں۔

  • Share this:
Explained: دہلی سمیت ملک کی کئی ریاستیں کیوں بن رہی ہیں آگ کا گولہ؟
Explained: دہلی سمیت ملک کی کئی ریاستیں کیوں بن رہی ہیں آگ کا گولہ؟

ٹھنڈ کا موسم ختم ہونے کے ساتھ ہی گرمی آئی اور یکایک سارے ریکارڈ توڑ دیئے۔ ویسے تو ملک کے بیشتر حصوں کا حال کم وبیش ایک جیسا ہے، لیکن دہلی کی حالت اور خراب ہے۔ اس درمیان ہندوستان سمیت جنوبی ایشیا میں گرمی کا خطرناک اثر ہونے والا ہے، یہ بات ایک تحقیق میں نکل کرآئی۔ امریکہ کی اوک رج نیشنل لیباریٹری میں نکل کر آیا کہ اس سال خطرناک گرمی پڑے گی اور جنوبی ایشیائی ممالک میں جان لیوا لو کا اثر دیکھنے کو ملے گا۔


یہ حال کے دنوں میں یہ دوسرا موقع تھا، جب وزیراعظم مودی نے پاکستان کے وزیر اعظم کو اپنی طرف سے پیغام دیا تھا۔ اس سے پہلے عمران خان کے کووڈ متاثر پائے جانے کے بعد وزیر اعظم مودی نے ان کے جلد صحتیاب ہونے کی دعا کی تھی۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنےخط میں پاکستانی وزیر اعظم کو دہشت گردی کو لے کرنصیحت بھی دی تھی۔


تحقیق کے مطابق، تیز گرمی کی وجہ سے کام کرنے میں پریشانی آئے گی۔ علامتی تصویر- (pixabay)
تحقیق کے مطابق، تیز گرمی کی وجہ سے کام کرنے میں پریشانی آئے گی۔ علامتی تصویر- (pixabay)


لو سے ہوئیں ہزاروں اموات

واضح رہے کہ لینسیٹ کاونٹ ڈاون آن ہیلتھ اینڈکلائیمیٹ چینج (Lancet Countdown on Health and Climate Change) کی ایک دیگر رپورٹ میں واضح ہوا کہ سال 2018 میں ہندوستان میں گرمیوں کے دوران 31000 سے زیادہ اموات ہوئیں۔ اس سے پہلے اور سب سے پہلا مقام چین کا رہا، جہاں اسی سال 62000 اموات ہیٹ اسٹروک یعنی لو لگنے سے ہوئیں۔

یہاں سے سمجھنا ہوگا کہ ہیٹ اسٹروک کے تین مرحلے ہوتے ہیں

پہلا ہیٹ سنڈروم ہے، جس کے گرمی کے سبب جسم میں پانی کی کمی ہوجاتی ہے۔ ساتھ ہی گھبراہٹ اور بے چینی ہوتی ہے۔ دوسرا اسٹیج نسبتاً سنجیدہ ہے، جس میں بخار، پٹھوں میں درد کی علامات آجاتے ہیں۔ تھکان سے چکر آنے لگتے ہیں، اس کے بعد ہے تیسرا اور سب سے خطرناک اسٹیج۔ اس میں جسم کی درجہ حرات کنٹرول سے باہر ہوجاتا ہے۔ پسینہ آنا بند ہوجاتا ہے اور جسم ٹھنڈا نہیں رہ پاتا۔ تب مسلسل بخار بڑھتا جاتا ہے، جس کا اثر اعصابی نظام پر بھی ہوسکتا ہے۔ اسی دوران صحیح وقت پر علاج نہ ملنے سے موت بھی ہوسکتی ہے۔

ملک میں گرمی بڑھتے چلے جانے کا سیدھا تعلق کم بارش سے ہے۔ علامتی تصویر- (pixabay)
ملک میں گرمی بڑھتے چلے جانے کا سیدھا تعلق کم بارش سے ہے۔ علامتی تصویر- (pixabay)


تو آخرکیا وجہ ہے جو درجہ حرارت بڑھتی جارہی ہے؟

اس کی ایک وجہ ہے، جن کے بارے میں ہم ایک ایک کرکے جانتے ہیں۔ سب سے پہلے تو بات کرتے ہیں بارش پر۔ ملک میں گرمی بڑھتے چلے جانے کا سیدھا تعلق کم بارش سے ہے۔ ہمارے یہاں بارش کا بڑا حصہ مانسون کی بارش کا ہوتا ہے۔ سال 2014 اور 2015 کے دوران مانسونی بارش اوسط سے کم ہوئی۔ بارش کم ہونے سے ہی اوسط درجہ حرارت میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ حالت ہر سال کے ساتھ مزید خراب ہو رہی ہے۔ اس سے نہ صرف پانی کی سطح میں گراوٹ آرہی ہے، بلکہ درجہ حرارت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

بحر الکاہل میں پانی کی اوسط درجہ حرارت میں اضافہ کو ال نینو اثر کہا جاتا ہے۔ اس کے اثر سے پوری دنیا میں موسم چکر بدل جاتا ہے اور سوکھے اور بارش جیسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اسی کے اثرکے سبب ملک میں مانسونی بارش میں کافی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ جبکہ امریکہ میں برفیلا طوفان اور آسٹریلیا میں سیلا جیسے حالات دیکھنے میں آئے۔

سال 1994 سے 2017 کے درمیان 280 لاکھ ٹن برف پگھل گئی۔ علامتی تصویر- (pixabay)
سال 1994 سے 2017 کے درمیان 280 لاکھ ٹن برف پگھل گئی۔ علامتی تصویر- (pixabay)


گلوبل وارمنگ پر تحقیق

انسانی حرکتوں جیسے مسلسل کارخانے لگانا، کانکنی اور پیڑوں کو کاٹنے کی وجہ سے گلوبل وارمنگ بڑھتی جا رہی ہے۔ یہ صرف مضامین لکھنے کا موضوع نہیں رہا، بلکہ یہ گرمی ہم واقعی اپنے آس پاس محسوس کر رہے ہیں۔ اسی گلوبل وارمنگ کے سبب قطبی علاقوں کی برف پگھل رہی ہے۔ سال 1994 سے 2017 کے درمیان 280 لاکھ ٹن برف پگھل گئی، جس سے سمندری پانی کی سطح میں اضافہ ہوا اور ساتھ ہی اس کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے۔ لیڈس یونیورسٹی میں ہوئی اس ریسرچ میں پایا گیا ہے کہ انٹارک ٹکا اور گرین لینڈ کی برف کی سطح کے اضافی پوری دنیا میں 2,15,000 برفیلے پہاڑ موجود ہیں اور حال کی دہائی میں ان سبھی کی برف پگھلنے کی رفتار بڑھتی گئی ہے۔ یہ بھی درجہ حرارت میں اضافہ ہوا ہے۔

دہلی میں درجہ حرارت میں کیوں ہو رہا ہے اضافہ

اس کے علاوہ اگر دہلی میں درجہ حرارت بڑھنے کی بات کریں تو یہاں پر کنکریٹ کا بڑھنا بھی ایک وجہ ہے۔ گزشتہ پورے ملک میں ہی یہاں تعمیری کام میں اضافہ ہوا ہے۔ تیزی سے عمارتیں اور تجارتی ادارے بن رہے ہیں۔ کنکریٹ کے سبب دو طریقے سے درجہ حرارت میں اضافہ ہوا۔ ایک یہ سورج کی گرفمی کو زیادہ جھلکتا ہے اور دوسرا اس کے سبب بارش ہونے پر زمین کے نیچے پانی کا رساو نہ ہوپانے کے سبب بھنڈارن نہیں ہوپاتا ہے۔ اس سے زمین بھی گرم اور سخت رہتی ہے۔ اس سے بھی ایسی جگہوں پر رہنے والوں کو زیادہ گرمی محسوس ہوتی ہے۔ جیسے دہلی میں ہی دیکھیں تو یہاں الگ الگ علاقوں کی درجہ حرارت الگ ہے، جیسے دہلی کے دوسرے علاقوں کے مقابلے میں لودھی روڈ، سنجے ون جیسے علاقوں میں درجہ حرارت میں ہمیشہ 2 سے 4 ڈگری تک کم رہتا ہے کیونکہ یہاں کنکریٹ کا ویسا جنگل نہیں ہے، بلکہ پیڑ پودے ہیں۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Mar 31, 2021 12:00 AM IST