உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Explained: کیا مسلمانوں کے لیے ٹی آر ایس کی پالیسی میں آرہی ہے تبدیلی؟کیاہیں وجوہات؟

    جی ایچ ایم سی انتخابات (GHMC Elections) کے بعد ٹی آر ایس لیڈرشپ نے محسوس کیا کہ پارٹی پچھلے سال جی ایچ ایم سی انتخابات میں مسلم ووٹ حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ اس وقت مسلم ووٹروں نے ٹی آر ایس کی حمایت نہیں کی جیسا کہ پارٹی نے توقع کی تھی، لہذا اب پارٹی ریاست میں اقلیتوں کے لیے اپنی پالیسی کو نئی شکل دینا چاہتی ہے۔

    جی ایچ ایم سی انتخابات (GHMC Elections) کے بعد ٹی آر ایس لیڈرشپ نے محسوس کیا کہ پارٹی پچھلے سال جی ایچ ایم سی انتخابات میں مسلم ووٹ حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ اس وقت مسلم ووٹروں نے ٹی آر ایس کی حمایت نہیں کی جیسا کہ پارٹی نے توقع کی تھی، لہذا اب پارٹی ریاست میں اقلیتوں کے لیے اپنی پالیسی کو نئی شکل دینا چاہتی ہے۔

    جی ایچ ایم سی انتخابات (GHMC Elections) کے بعد ٹی آر ایس لیڈرشپ نے محسوس کیا کہ پارٹی پچھلے سال جی ایچ ایم سی انتخابات میں مسلم ووٹ حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ اس وقت مسلم ووٹروں نے ٹی آر ایس کی حمایت نہیں کی جیسا کہ پارٹی نے توقع کی تھی، لہذا اب پارٹی ریاست میں اقلیتوں کے لیے اپنی پالیسی کو نئی شکل دینا چاہتی ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
    ٹی آر ایس لیڈرشپ کو معلوم ہوا کہ پارٹی حیدرآباد میں مسلم کمیونٹی سے امید کھو رہی ہے کیونکہ ٹی آر ایس رہنماؤں نے اس سال جنوری اور فروری کے دوران جی ایچ ایم سی انتخابات (GHMC Elections) کے نتائج کا تجزیہ کیا۔ ٹی آر ایس کے امیدوار کئی مسلم آبادی والے ڈویژنوں میں ناکام ہوئے ہیں، جہاں وہ 1000 سے زیادہ ووٹ نہیں حاصل کرسکے۔

    تو اب ٹی آر ایس نے ریاست میں مسلم کمیونٹی کو اہمیت نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ لہذا تمام اقلیتی اداروں جیسے اقلیتی کمیشن (minority commission)، اقلیتی فنانس کارپوریشن (minority finance corporation) اور اردو اکیڈمی (Urdu Academy) میں تمام نامزد کردہ عہدے گزشتہ سات سال میں ٹی آر ایس کے دور میں صرف ایک بار بھرے گئے تھے۔ اب مذکورہ تمام اداروں میں 2020 سے چیئرمین کے عہدے خالی ہیں اور ٹی آر ایس حکومت نئے چیئرمین کو نامزد کرنے کے موڈ میں نہیں ہے۔ٹی آرایس کے مسلم رہنماؤں نے نیوز18 سے بات چیت کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہارکیاہے۔

    وزیراعلیٰ کے چندراشیکھرراؤ
    وزیراعلیٰ کے چندراشیکھرراؤ


    ٹی آر ایس قائدین کا دعویٰ ہے کہ اسمبلی انتخابات اور جی ایچ ایم سی انتخابات میں مسلمانوں نے ٹی آر ایس کو ووٹ نہیں دیا جیسا کہ پارٹی کو توقع تھی۔ جب نیوز 18 نے ٹی آر ایس ایم ایل سی سے رابطہ کیا، جو اپنا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ٹی آر ایس نے کام کیا ہے اور 2014 سے 2019 کے پہلے دور میں مسلمانوں کے لیے بہترین اقدامات متعارف کروائے ہیں۔

    بدلے میں ٹی آر ایس پارٹی نے ریاست میں مسلم کمیونٹی کا اعتماد حاصل نہیں کیا۔ ٹی آر ایس قیادت کو معلوم ہوا کہ پارٹی کے اقلیتی قائدین بالخصوص مسلم قائدین مسلمانوں میں حکومتی اسکیموں کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے میں ناکام رہے۔

    کیا ٹی آر ایس مسلم اقلیتوں کے لیے دوہری پالیسی پر کام کر رہی ہے؟

    جی ایچ ایم سی انتخابات میں بی جے پی BJP دوسری سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری اور 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی نے 4 نشستیں حاصل کیں۔ بی جے پی نے تلنگانہ میں مضبوطی حاصل کی، بی جے پی نے انتخابی مہمات کے دوران ٹی آر ایس پر مسلمانوں کی تسکین کے الزامات بھی لگائے۔ بی جے پی نے تلنگانہ راشٹریہ سمیتی Telangana Rashtriya Samithi کے آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین All India Majlis Ittehad-ul-muslimeen کے ساتھ کئی بار خفیہ اتحاد کا الزام بھی لگایا۔

    علامتی تصویر۔(shutterstock)۔
    علامتی تصویر۔(shutterstock)۔


    ٹی آر ایس اقلیتی قائدین نے نیوز 18 کو بتایا کہ ٹی آر ایس نے ووٹوں کے پولرائزیشن سے نمٹنے کے لیے بی جے پی کا مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس لیے اب پارٹی مسلمانوں کے لیے دوہری حکمت عملی پر کام کر رہی ہے۔ ٹی آر ایس کے ممتاز رہنماؤں میں سے ایک نے فون پر نیوز 18 سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ٹی آر ایس تنظیمی سطح پر اقلیتوں کی قیادت کو بہتر بنانے کے بارے میں سوچ رہی ہے اور اس نے نوجوان رہنماؤں کو پارٹی عہدوں پر تعینات کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔

    ’مسلمانوں کو راغب کرنے کی کوشش‘

    ساتھ ہی ٹی آر ایس پارٹی سرکاری اداروں میں مسلمانوں کو عہدے نہیں دینا چاہتی۔ کچھ لیڈروں کا خیال ہے کہ اگر مسلمانوں کو سرکاری اداروں میں مقام ملتا ہے یا ٹی آر ایس مسلمانوں کو راغب کرنے کی کوشش کرتی ہے تو بی جے پی فائدہ اٹھائے گی اور یہ ووٹوں کو پولرائز کر سکتی ہے۔

    نیوز 18 سے بات کرتے ہوئے ٹی آر ایس اقلیتی رہنما محمد خلیق الرحمن Mohammad Khaleeq-ur-Rahman نے کہا کہ ٹی آر ایس نے مسلمانوں کے تعاون سے جی ایچ ایم سی انتخابات جیتے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ مسلمان خوش ہیں اور اب بھی ٹی آر ایس پارٹی کی حمایت کرتے ہیں کیونکہ کے سی آر حکومت نے اقلیتوں کے لیے مختلف اچھی اسکیمیں نافذ کی ہیں جیسے رہائشی اسکول اور شادی مبارک وغیرہ۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کے سی آر ماضی میں وعدے کے مطابق تلنگانہ وقف بورڈ Telangana Wakf Board کو عدالتی اختیار دیں گے۔

    خلیق الرحمٰن نے کہا کہ کے سی آر KCR ایک سیکولر لیڈر ہے اور وہ مسلمانوں کے لیے سنہری اسکیمیں لاگو کر رہے ہیں۔ جیسے TMRIES ، سی ایم اوورسیز اسکالرشپ اسکیم ، شادی مبارک ،اماموں اور موذنوں کو اعزازیہ وغیرہ۔ وہ ٹی آر ایس کی طرف سے مسلمانوں کے لیے دوہری حکمت عملی کے دعووں کو سختی سے مسترد کرتے ہیں۔

    دوہری حکمت عملی کی تردید

    جی ایچ ایم سی کے سابق ڈپٹی میئر بابا فصیح الدین Baba Fasiuddi بھی مسلمانوں کے لیے ٹی آر ایس کی دوہری حکمت عملی کے دعووں کی تردید کرتے ہیں۔ نیوز 18 سے بات کرتے ہوئے بابا فصی الدین نے کہا کہ مسلمانوں نے جی ایچ ایم سی کی حدود میں ٹی آر ایس امیدواروں کو بڑی تعداد میں ووٹ دیا۔ چنانچہ پارٹی سکندر آباد ، جوبلی ہلز ، خیر آباد ، سنت نگر ، سیرلنگامپلی اسمبلی حلقوں میں نشستیں جیتنے میں کامیاب رہی۔

    انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت نے 2017 میں تلنگانہ اسٹیٹ کھادی اینڈ ویلج انڈسٹریز بورڈ ، تلنگانہ اسٹیٹ انڈسٹریل ڈویلپمنٹ کارپوریشن (ٹی ایس آئی ڈی سی) ، این ای ڈی سی اے پی اور سیٹون کے لیے مسلم چیئرمین مقرر کرکے ایک مثال قائم کی ہے۔

    سیاسی و سماجی تجزیہ کار ڈاکٹر وینوگوپال Dr Venugopal نے کہا کہ 2014 سے پہلے مسلمان کانگریس کا روایتی ووٹر تھا، لیکن بعد میں یہ تلنگانہ کے اضلاع میں آہستہ آہستہ ٹی آر ایس میں تبدیل ہو گیا۔ دریں اثنا پرانا شہر ہمیشہ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے ساتھ رہا ہے۔

    ڈاکٹر وینوگوپال نے کہا کہ 40 سال سے کم عمر کے تلنگانہ میں مسلم ووٹرس ٹی آر ایس کی حمایت کرتے ہیں، لیکن سینئر شہری اب بھی کانگریس کے روایتی ووٹر ہیں۔ مسلمان ووٹر ہمیشہ پارٹی کو ووٹ دیتے ہیں، جو کہ بی جے پی پر جیت ہوسکتی ہے۔

    مسلمانوں پر الزام؟

    مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں اسکول آف جرنلزم کے ایسوسی ایٹ پروفیسر محمد مصطفیٰ علی سروری Mohammad Mustafa Ali Sarwari نے کہا کہ ٹی آر ایس مسلمانوں پر الزام لگا کر بی جے پی سے نمٹ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتیں ہمیشہ مسلمانوں کو ووٹ بینک کے طور پر استعمال کرنا چاہتی ہیں۔ جب امیدواروں نے نشستیں جیتیں تو وہ مسلمانوں کو بھول گئے اور جب ان جماعتیں نشستیں ہار گئیں تو انہوں نے مسلمانوں پر الزام لگایا۔

    محمد مصطفی علی سروری کا خیال ہے کہ ٹی آر ایس اگلے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کے ووٹوں کے پولرائزیشن کا سامنا کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ لہذا پارٹی مسلمانوں کے تئیں اپنی حکمت عملی تبدیل کر رہی ہے، لیکن ساتھ ہی ٹی آر ایس کو کانگریس سے بھی ڈر ہے کیونکہ پارٹی نے تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی Telangana Pradesh Congress Committee میں اپنی قیادت تبدیل کی۔ اس طرح ٹی آر ایس بھی اب اپنی پارٹی میں اقلیتی قیادت کو بحال کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 2018 کے اسمبلی، 2019 کے لوک سبھا اور 2020 کے جی ایچ ایم سی انتخابات میں مسلمانوں نے ٹی آر ایس کو ووٹ دیا ہے۔
    Published by:Mohammad Rahman Pasha
    First published: