ہوم » نیوز » Explained

Explained: کیوں مشکل ہوتا ہے وائرس کو مارنے والی دوائیں بنا پانا؟

ملک میں کورونا وبا ایک بار پھر بے قابو ہوچکا ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹے میں ہی اس کے 62,258 نئے معاملے سامنے آئے ہیں۔ ساتھ ہی مہاراشٹر میں وائرس کا ڈبل موومنٹ ویراینٹ ملنے سے ہیلتھ ایکسپرٹ کو خدشہ ہے کہ گراف اور اوپر جاسکتا ہے۔

  • Share this:
Explained: کیوں مشکل ہوتا ہے وائرس کو مارنے والی دوائیں بنا پانا؟
Explained: کیوں مشکل ہوتا ہے وائرس کو مارنے والی دوائیں بنا پانا؟

ملک میں کورونا وبا ایک بار پھر بے قابو ہوچکا ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹے میں ہی اس کے 62,258 نئے معاملے سامنے آئے ہیں۔ ساتھ ہی مہاراشٹر میں وائرس کا ڈبل موومنٹ ویراینٹ ملنے سے ہیلتھ ایکسپرٹ کو خدشہ ہے کہ گراف اور اوپر جاسکتا ہے۔ ویسے اس درمیان یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی اور میڈیکل ٹیمیں ہونے کے بعد بھی کیوں اب تک دنیا کا کوئی ملک وائرس کی دو نکالنے کا دعویٰ نہیں کر پا رہا ہے۔ کیا وائرس کو مارنے والی دوا بنانا زیادہ وقت لیتا ہے یا پھر یہ ممکن ہی نہیں ہے۔


کیسے کام کرتا ہے اینٹی وائرل


اسے سمجھنے کے لئے ہمیں پہلے وائرل دواوں کے بارے میں سمجھنا ہوگا۔ اینٹی وائرل ڈرگس وے پریسکرائبڈ دوائیں ہیں، جو فلو سے لڑنے کے لئے دی جاتی ہیں۔ یہ ٹیبلٹ، کیپسولس، سیرپ، پاوڈر یا انٹراوینس یعنی نسوں کے ذریعہ بھی دی جاتی ہیں۔ یہ کبھی بھی اوور دی کاونٹر نہیں مل سکتی ہے، صرف ڈاکٹر ہی اسے لکھ سکتے ہیں۔ ویسے بیماری شروع ہونے کے دو دن یعنی 48 گھنٹے کے اندر اگر اینٹی وائرس شروع ہوجائے تو بیماری جلدی ٹھیک ہوتی ہے، ورنہ دوا لینے کے بعد بھی پریشانی میں اضافہ ہوتا ہے۔


کیا ہے اینٹی بیکٹریل ڈرگس
اینٹی بیکٹیریل ڈرگس بیکٹیریل ڈسیز کو ختم کرتی ہیں۔ یہ دو طرح سے کام کرتی ہیں۔ یا تو سیدھے بیکٹیریا پر حملہ کرکے انہیں ختم کرنا یا پھر انہیں بڑھنے سے روک دینا۔ پینیسلن کی تلاش کے بعد سے اب تک بہت سے اینٹی بیکٹیریا ڈرگس تیار ہوچکے ہیں، جو ڈبلیو ایچ او کے مطابق، ہر سال کروڑوں جانیں بچاتے ہیں۔ حالانکہ اس کا بھی ایک نقصان ہے کہ مسلسل استعمال کے سبب بیکٹیریا میں دواوں کے لئے رکاوٹ پیدا ہوجاتا ہے اور پھر وہ کام خوراک پر کام نہیں کرتے، بلکہ مسلسل ڈوز بڑھانا پڑتا ہے۔

اینٹی بیکٹریل ڈرگس بیکٹیریل ڈیسیز کو ختم کرتی ہیں۔ علامتی تصویر-(pixabay)
اینٹی بیکٹریل ڈرگس بیکٹیریل ڈیسیز کو ختم کرتی ہیں۔ علامتی تصویر-(pixabay)


کیوں مشکل ہے اینٹی وائرل بنانا

اب اگر یہ دیکھا جائے کہ اینٹی وائرل بنانا مشکل کیوں ہے تو اس کا جواب سائنس میں ہی پوشیدہ ہے۔ دراصل، وائرس جسم کی خلیات میں ہی گھر بناتے ہیں اور اسی کے ذریعہ ملٹی پلائی ہونا شروع کرتے ہیں۔ وہ کسی بھی طرح سے الگ ہوکر حملہ نہیں کرپاتے ہیں۔ اس پر دہائیوں سے سائنسداں یہ سمجھنے کی کوشش بھی کر رہے ہیں کہ وائرس کیا سچ میں کوئی لونگ آرگینزم بھی ہے یا نہیں ہے۔

وائرس کو مارنے پر ہوسٹ سیل یعنی ہماری خلیات کے مرنے کا خطرہ

وائرس کا پروٹین جسم میں موجود صحت خلیات سے جڑتا ہے۔ اس پہلی خلیات کو ہوسٹ سیل کہتے ہیں۔ وائرس اس کے بعد ہوسٹ سیل کا سسٹم اپنے قبضے میں لے لیتا ہے اور مسلسل بڑھنے لگتا ہے۔ وائرس کا حملہ اس لئے بھی خطرناک ہوتا ہے کہ کئی وائرس جسم میں داخل کرنے کے بعد طویل وقت تک نیند کی حالت میں پڑے رہتے ہیں۔ اس کے بعد اچانک یہ دھیرے دھیرے بڑھنے لگتے ہیں اور جسم کی بہت سی طبی خلیات کو بیمار کرتے جاتے ہیں۔

اینٹی وائرل دوا تبھی کارگر ہوتی ہے، جب یہ وائرس کی لائف سائیکل کو توڑ سکے۔ علامتی تصویر- (pixabay)
اینٹی وائرل دوا تبھی کارگر ہوتی ہے، جب یہ وائرس کی لائف سائیکل کو توڑ سکے۔ علامتی تصویر- (pixabay)


یہاں آتی ہے اصل پریشانی

اینٹی وائرل دوا، تبھی کارگر ہوتی ہے، جب یہ وائرس کی لائف سائیکل کو توڑ سکے، لیکن پریشانی یہی ہے کہ چونکہ وائرس جسم کی طبی خلیات میں بسیرا ڈالتا ہے، اس لئے وائرس کو ختم کرنے کے لئے دی جانے والی دوا جسم کی خلیات کو بھی مار سکتی ہے۔ وائرس کو مارنا آسان ہے، لیکن ہوسٹ سیل کو بچائے رکھنا کافی مشکل ہے۔

وائرس کی ساخت بھی ہوتی ہے مختلف

ایک اور پریشانی یہ ہے کہ وائرس بیکٹیریا کے مقابلے زیادہ الگ الگ ہوتے ہیں اور زیادہ جلدی شکل بدلتے ہیں۔ کچھ وائرس کے جینوم سیکونس میں ڈی این اے ہوتے ہیں، جبکہ کچھ میں آر این اے۔ کچھ سنگل اسٹینڈر ہوتے ہیں اور کچھ ڈبل اسٹینڈرڈ۔ اسی وجہ سے الگ الگ وائرس کے لئے بالکل الگ طرح سے سوچنا اور دوا تیار کرنا ہوتا ہے۔

 

کیسے تیار ہوتے ہیں اینٹی وائرس

ایک کامیاب اینٹی وائرس دوا وہ ہوتی ہے، جو وائرس کی ساخت پر ایسے حملہ کرے کہ مریض کے جسم کی خلیات کو کم ازکم نقصان ہو۔ وائرس خلیات سے جتنی مضبوطی سے جڑتا ہے، اینٹی وائرل دوا کو بنایا جانا اتنا ہی مشکل ہوتا ہے۔ ویسے انفلوئینزا کی دوا اینٹی وائرل کی بہترین مثال ہے۔ یہ سیدھے وائرس کے اینجائم پر حملہ بولتے ہیں تاکہ انفیکشن کی رفتار بالکل دھیمی ہوجائے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Mar 29, 2021 11:54 PM IST