உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Explained: کیوں مغربی ممالک Ukraine کے مستقبل پر ہیں پرتشویش، کیا چاہتا ہے Russia؟

    یوکرین کی سرحد پر روسی فوج کی تعیناتی سے حالات ہوئے کشیدہ۔ (تصویر: shutterstock)

    یوکرین کی سرحد پر روسی فوج کی تعیناتی سے حالات ہوئے کشیدہ۔ (تصویر: shutterstock)

    امریکی فارین منسٹر اینٹنی بلنکن نے بھی بدھ کو کہا ہے کہ روس یوکرین پر بہت کم وقت میں ایک حملہ کرسکتا ہے لیکن واشنگٹن جب تک ہو سکے سفارتی سطح پر کام کرے گا۔ ناٹو جنرل سکریٹری جینس اسٹولٹین برگ نے کہا کہ یہ یوکرین کو طئے کرنا ہے کہ وہ اتحاد میں شامل ہونے کے لئے کب تیار ہے۔

    • Share this:
      روس یوکرین سرحد (Ukrainian Border) پر فوجی سرگرمیاں لگاتار بڑھتی ہی جارہی ہیں۔ فوج کے بڑھتے دستے پر امریکہ تشویش ظاہر کرہا ہے۔ امریکہ (USA) نے روس (Russia) کو سخت پابندی لگانے کی دھمکی دی ہے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ اگر روسی فوجی یوکرین کی سرحد پر ڈٹے رہے تو تیز، گمبھیر اور اجتماعی ردعمل کا روس کو سامنا کرنا پڑے گا۔

      مغربی انٹلیجنس ایجنسیوں کا دعویٰ ہے کہ روس نے پرانے سوویت ریپبلک کے مشرقی حصے میں 1,00,000 فوجیوں کو تعینات کردیا ہے۔ کسی بھی ملک کو ڈرانے کے لئے یہ تعداد کافی ہے۔ روس پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہے۔ مغربی ممالک کو ڈر ہے کہ کہیں کریمیا (Crimea) کی طرز پر سال 2014 کی طرح روس ایک اور حملہ نہ کردے۔

      مغربی ملکوں اور روس کےدرمیان کئی سطح کی بات چیت ہوچکی ہے۔ روس اپنے موقف پر قائم ہے اور فوج کو پیچھے ہٹانے کے لئے تیار نہیں ہے۔ روس نے کہا ہے کہ مغربی ملکوں کی تشویش بے معنی اور بے بنیاد ہیں کہ وہ جنگ شروع کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ دنیا بھر کی نظر اس بات پر ہے کہ روس کے صدر ولادیمیر پوتن (Vladimir Putin) کا اگلا قدم کیا ہوگا۔

      کس وجہ سے بڑھ رہا ہے یوکرین کا بحران؟
      یوکرین، روس اور یوروپین یونین (EU) ملکوں کے ساتھ اپنی سرحد شیئر کرتا ہے۔ روس کے ساتھ یوکرین کے گہرے روایتی تعلقات ہیں۔ وہاں روسی زبان بولی جاتی ہے۔ روس نے یوکرین کے یوروپین یونین سے بڑھتی نزدیکیوں پر ناراضگی ظاہر کی ہے۔ روس چاہتا ہے کہ یوکرین ناٹو (NATO) میں شامل نہ ہو۔ مغربی اتحاد نے روس کی اس مانگ کو خارج کردیا ہے۔ اتحاد میں ریاستہائے متحدہ امریکہ، یوروپی یونین کے ممالک اور ناٹو کے اتحادی شامل ہیں۔

      جب وکٹر یانوکووچ یوکرین کے صدر بنے تب انہوں نے روس کے ساتھ اپنی نزدیکیاں بڑھائیں۔ انہوں نے یوروپین یونین میں شامل ہونے کے سمجھوتے کو مسترد کردیا۔ زبردست مخالفت کی وجہ سے 2014 میں انہیں اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا۔ الزام ہے کہ روس نے یوکرین کے علیحدگی پسندوں کی مدد کی اور اس کے بعد یوکرین کے کریمیا پر قبضہ ہوگیا۔ تقریباً 8 سال تک چلی اس لڑائی میں 14000 سے زیادہ لوگ مارے گئے۔

      کیا سچ میں ہوسکتی ہے جنگ؟
      مغربی ملکوں کا ماننا ہے کہ روس کے ضدی رویے کی وجہ سے جنگ ہوسکتی ہے۔ روسی عہدیداروں کے ساتھ کئی دور کی بات چیت مغربی ممالک نے کی ہے۔ صدر پوتن امریکی صدر جوبائیڈن کے درمیان بھی بات چیت ہوئی ہے۔ دونوں قائدین کے درمیان بیان بازی بھی ہوئی ہے۔ روسی فوج، یوکرین کی سرحد پر کھڑی ہے۔ ذرائع کے مطابق امریکہ میں عہدیداروں نے کہا ہے کہ روس نے اس بات کا کوئی ثبوت نہیں دیا ہے کہ وہ حملہ نہیں کرے گا۔ جنیوا میں اپنے امریکی ہم منصب کے ساتھ حالیہ بات چیت کے بعد روسی وزیر خارجہ سرگئی ریاباقو (Sergei Ryabkov) نے یقین دلایا تھا کہ یوکرین پر حملہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

      مغربی ممالک کو کیوں ہے تشویش؟
      سفارتی سطح پر دی جانے والی دھمکیاں شدید خطرہ پیدا کرتی ہیں۔ درحقیقت دنیا کے لیے خطرہ اس وقت بڑھ گیا جب پوتن نے اپنے حالیہ بیانات میں کہا کہ مغربی ممالک کے جارحانہ انداز کے خلاف مناسب جوابی فوجی کارروائی کی جائے گی۔ امریکی اور اتحادی ممالک کے دیگر حکام کو خدشہ تھا کہ روس جارحانہ رویہ اختیار کر سکتا ہے۔

      بدھ کے روز ایک پریس کانفرنس میں جو بائیڈن نے کہا کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن یوکرین پریقینی طور پر آگے بڑھیں گے، لیکن وہ شاید جنگ نہیں چاہتے ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ روس نے یوکرین میں باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں میں 500,000 افراد میں پاسپورٹ تقسیم کیے ہیں۔ بہت سے سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ کریملن کی طرف سے اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے اختیار کی گئی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

      روس اپنے فوجیوں کو تیار کرنے کے لئے یوکرین کے قریب وار گیم منقد کرا رہا ہے۔ منگل کو ایک رپورٹ سامنے آئی ہے کہ روس فروری میں اہم وار گیمس کے لئے بیلاروس میں بڑی تعداد میں فوجویں کو بھیج رہا ہے۔ وہائٹ ہاوس کے پریس سکریٹری جین ساکی نے بیلاروس میں روسی فوج کے قدم کو بے حد خطرناک حالت کے طو رپر بتایا ہے۔

      کیا ہے روس کا مطالبہ؟
      روس نے اپنے پڑوسی پر حملہ کرنے کے ارادے کی تردید کی ہے۔ روس مغربی ممالک سے اس بات کی ضمانت چاہتا ہے کہ نیٹو یوکرین یا دیگر سابق سوویت ممالک میں توسیع نہیں کرے گا یا وہاں اپنی فوجیں اور ہتھیار نہیں رکھے گا۔ روس نے مغربی ممالک سے بھی کہا ہے کہ وہ جارحانہ انداز اختیار نہ کریں اور مشرقی یورپ میں فوجی سرگرمیاں ترک کردیں۔

      کیا ہوگا اگر مغربی ممالک روس کا مطالبہ مان لیں؟

      اگر ایسا ہوتا ہے تو ناٹو ملوکں کو پولینڈ، ایسٹونیا، لاتاویا اور لیتھوانیا سے اپنی اپنی فائٹر یونٹس کو ہٹانا ہوگا۔ واشنگٹن اور اس کے ناٹو معاونین نے روس کی مانگوں کو مسترد کردیا ہے۔ روس کا الزام ہے کہ ناٹو ممالک نے یوکرین کو ہتھیاروں سے بھر دیا ہے۔ روس کا یہ بھی الزام ہے کہ امریکہ یوکرین میں کشیدگی پیدا کررہا ہے۔ پچھلے مہینے فوجی عہدیداروں سے ولادیمیر پوتن نے کہا تھا کہ روس کے پاس پیچھے ہٹنے کے لئے کچھ بھی نہیں ہے۔ کیا مغربی ممالک یہ سمجھتے ہیں کہ ہم احمقانہ نگاہوں سے دیکھتے رہیں گے؟

      کیا ہے روس کے موقف پر مغربی ممالک کا ردعمل؟
      بدھ کو امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا ہے کہ امریکہ اور اس کے یوروپی ساتھی یہ طئے کرنے کے لئے متحد ہیں کہ اگر ولادیمیر پوتن یوکرین پر حملہ کرتے ہیں تو روس کو گمبھیر اقتصادی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ امریکی صدر نے یہ بھی اعتراف کیا کہ یوکرین پر کسی بھی حملے کے ردعمل میں ناٹو کو متحد رکھنا مشکل ہوگا۔

      کیا ہے روس کے خلاف مغربی ممالک کی تیاریاں؟

      برطانیہ نے کہا ہے کہ روس اپنے دفاع کے لیے کم فاصلے تک مار کرنے والے ٹینک شکن میزائلوں کی کھیپ یوکرین بھیج رہا ہے۔ روس کے حملے کے خوف سے سویڈن نے حال ہی میں اسٹریٹجک لحاظ سے اہم جزائر گوٹ لینڈ میں سینکڑوں فوجیوں کو بھیجا ہے۔ ڈنمارک نے بھی کچھ دن پہلے ایسا ہی طریقہ اپنایا تھا جس سے خطے میں اپنی موجودگی میں اضافہ ہوا تھا۔

      امریکی فارین منسٹر اینٹنی بلنکن نے بھی بدھ کو کہا ہے کہ روس یوکرین پر بہت کم وقت میں ایک حملہ کرسکتا ہے لیکن واشنگٹن جب تک ہو سکے سفارتی سطح پر کام کرے گا۔ ناٹو جنرل سکریٹری جینس اسٹولٹین برگ نے کہا کہ یہ یوکرین کو طئے کرنا ہے کہ وہ اتحاد میں شامل ہونے کے لئے کب تیار ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: