உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    UP Election: کیا’متھراکاشی باقی ہے‘کا نعرہ یوپی انتخابات میں گیم چینجربن پائے گا؟

    اترپردیش میں سال 2022 میں انتخابات ہونے والے ہیں-

    اترپردیش میں سال 2022 میں انتخابات ہونے والے ہیں-

    نیوز 18 کو ایک مقامی لیڈر نے بتایا کہ ’’ہم ان مقدس مقامات کو بحال کرنے اور انہیں مناسب انداز میں ترقی دینے کے لیے کھڑے ہیں۔ متھرا کرشن جنم بھومی مندر کے ترقیاتی منصوبے پر سینئر سطح پر تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے‘‘۔

    • Share this:
      اترپردیش میں سال 2022 میں انتخابات ہونے والے ہیں، لیکن ابھی سے ’’یہ (ایودھیا) تو کیول جھانکی ہے، متھرا کاشی باقی ہے‘‘ کا نعرے بی جے پی کے نعروں میں شامل ہوگیا ہے۔ یوپی کے چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ (Yogi Adityanath) سمیت بی جے پی کے سرکردہ لیڈروں کا کہنا ہے کہ اب اتر پردیش کے انتخابات سے پہلے یہ نعرہ بی جے پی کی ’سرکاری لغت‘ میں داخل ہوگیا ہے۔

      تاہم اس پر کئی سیاسی تجزیہ نگاروں کی جانب سے مختلف انداز میں اظہار خیال کیا جا رہا ہے۔ ایسا بھی تجزیہ کیا جارہے کہ یہ روایتی مندر-مسجد کا فرقہ وارانہ نعرہ نہیں ہے، بلکہ ہندوؤں کے تین مقدس مقامات کی بڑے پیمانے پر ترقی کے لیے ایک طرح کی تشہیر ہے۔ وہیں دیگر ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے ایک بار پھر عین انتخابات سے قبل مسجد ۔ مندر کے نام پر مذہب کا استحصال کرتے ہوئے سیاست کی جاسکتی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ یوپی انتخابات سے قبل ترقی، تعلیم، بنیادی سہولیات اور روزگار کے بجائے جذباتی موضوعات کے نام پر رائے دہندگان کی توجہ منتشر کی جاسکتی ہے۔

      ’’آپ خوش نہیں ہیں‘‘

      یوپی کے چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ نے جمعرات کو ایک ریلی میں کہا کہ ’’ہم نے کہا تھا کہ ہم ایودھیا میں رام مندر کا کام شروع کرائیں گے۔ مودی نے اس کی شروعات کی تھی۔ کیا آپ خوش نہیں ہیں؟ کاشی میں ایک عظیم الشان وشوناتھ دھام بنایا گیا ہے۔ آپ نے اسے دیکھا ہے۔ پھر متھرا-ورنداون کیسے پیچھے رہ جائیں گے؟ وہاں بھی کام شروع ہو گیا ہے‘‘۔


      اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ کا ایودھیا-متھرا-کاشی (Ayodhya-Mathura-Kashi) جملے کا حوالہ نائب وزیر اعلی کیشو پرساد موریہ نے بھی دیا تھا جب انہوں نے کہا تھا کہ ایودھیا اور کاشی میں ایک عظیم الشان مندر کی تعمیر جاری ہے اور اب متھرا کی بھی تیاری جاری ہے۔

      بی جے پی یوپی انچارج دھرمیندر پردھان نے بھی اس ماہ کے شروع میں یہ جملہ استعمال کیا۔ انہوں نے کہا کہ یوپی میں ان تین مقامات پر یاتری آتے ہیں۔ متھرا کی بی جے پی ایم پی ہیما مالنی نے اس ماہ کے شروع میں بھی کاشی مندر کی طرح متھرا کرشن بھومی مندر کی ترقی کے لیے وزیر اعظم سے کہا تھا۔

      مذہب بنام سیاست:

      ریاست میں بی جے پی کے ایک سینئر لیڈر نے کہا کہ ان انتخابات میں پارٹی کی طرف سے ایودھیا-کاشی-متھرا کو ’’ترقی کے زاویے‘‘ سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ یہ ہندوؤں کے تین مقدس مقامات ہیں۔ تینوں بھگوان رام، شیو اور کرشنا کے لیے قابل احترام ہیں۔ حزب اختلاف کا کہنا ہے کہ موجودہ یوپی حکومت کو کیوں دوسرا ایشو نہیں ملتا، جس پر وہ اپنے ووٹرس کی تائید حاصل کرسکے، جب کہ انتخابات سے قبل اس طرح کے نعروں کو بار بار دھرانے سے مذہب کا استحصال ہوگا۔

      نیوز 18 کو ایک مقامی لیڈر نے بتایا کہ ’’ہم ان مقدس مقامات کو بحال کرنے اور انہیں مناسب انداز میں ترقی دینے کے لیے کھڑے ہیں۔ متھرا کرشن جنم بھومی مندر کے ترقیاتی منصوبے پر سینئر سطح پر تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے‘‘۔ واضح رہے کہ متھرا کی تاریخی شاہی عیدگاہ مسجد کرشنا جنم بھومی مندر سے ملحق ہے اور اسے اورنگ زیب نے 1670 میں تعمیر کیا تھا۔ وارانسی میں بھی اورنگ زیب نے 1670 میں عالی شان گیان ویاپی مسجد بنائی تھی۔

      تاہم کاشی وشوناتھ دھام پروجیکٹ نے مندر کے احاطے کے رقبے کو تقریباً دس گنا بڑھا دیا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے 13 دسمبر کو کاشی وشوناتھ دھام پروجیکٹ میں اپنے خطاب میں اورنگ زیب کو ہندوستان کے قدیم مندروں کی تباہی کا ذمہ دار قرار دیا تھا۔ بی جے پی لیڈروں کا کہنا ہے کہ ایودھیا-کاشی-متھرا پر توجہ پارٹی کی اس مہم کو تقویت دیتی ہے کہ وہ ان مقامات کی دوبارہ ترقی پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔ ایسے میں یہ سوال ذہن میں آتا ہے کہ کیا ’متھراکاشی باقی ہے‘ کا نعرہ یوپی انتخابات میں گیم چینجر بن پائے گا؟ یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔

      قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں ۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: