உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ہندوستانی پیشہ وروں کے لئے اپنے دروازے مزید کھولے گا برطانیہ،PMمودی سے جانسن کی آج اعلیٰ سطحی میٹنگ

    پی ایم مودی اور بورس جانسن۔ (فائل فوٹو)

    پی ایم مودی اور بورس جانسن۔ (فائل فوٹو)

    اس دورے کے دوران جانسن کی ملاقات کے بعد مزید وضاحت آنے کا امکان ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان دہشت گردی کے خلاف تعاون کی کئی سطحوں پر بات چیت ہو رہی ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن ہندوستان کے دو روزہ دورے پر کل احمد آباد پہنچے۔ دیر رات وہ نئی دہلی پہنچ گئے ہیں جہاں وہ آج جمعہ کی سہ پہر وزیر اعظم نریندر مودی سے اعلیٰ سطحی بات چیت کریں گے۔ بدلتے ہوئے عالمی نظام اور یوکرین روس جنگ کے بعد عالمی معیشت میں ہونے والی تبدیلیوں کے پیش نظر، ہندوستان اور برطانیہ اپنے باہمی تعلقات کو کس طرح آگے بڑھائیں گے، یہ ان رہنماؤں کے درمیان ہونے والی بات چیت کا ایک اہم حصہ ہوگا۔

      مودی اور جانسن نے گزشتہ سال اپنی ورچوئل میٹنگ میں 2030 کے لیے ہندوستان اور برطانیہ کے درمیان دو طرفہ تعلقات کے لیے کچھ اہم اہداف طے کیے تھے، جن کا جائزہ جمعہ کو ہونے والی بات چیت کا ایک اہم حصہ ہوگا۔ دونوں ممالک کے درمیان ایک ارب برطانوی پاؤنڈ (تقریباً 9,960 کروڑ روپے) کی سرمایہ کاری کے سودوں پر دستخط ہونے کا امکان ہے۔ گرین ٹیکنالوجی یعنی ماحولیات کی حفاظت کرنے والی ٹیکنالوجی میں تعاون کے حوالے سے کچھ اہم اعلانات بھی متوقع ہیں۔

      یوکرین-روس جنگ کو لے کر برطانیہ ہندوستان پر دباو بنانے کی نہیں کرے گا کوشش
      جانسن نے ہندوستان کا سفر شروع کرنے سے پہلے اور احمد آباد میں اترنے کے بعد دو اہم اشارے دیئے ہیں۔ پہلا، ان کا ملک یوکرین روس جنگ پر ہندوستان پر دباؤ ڈالنے کی کوئی کوشش نہیں کرے گا۔ انہوں نے یہاں تک کہا کہ روس اور ہندوستان کے درمیان تاریخی طور پر ایک خاص رشتہ ہے جیسا کہ برطانیہ اور روس کے درمیان چند دہائیوں پہلے تک تھا۔ مودی سے اس بارے میں بات کرکے اس کا خیال رکھیں گے۔ یہ برطانیہ کے پہلے کے موقف سے بالکل مختلف ہے۔ یوکرین پر روس کے حملے کے بعد، جانسن حکومت کے کچھ سینئر وزراء نے اس وقت سخت تبصرے کیے جب ہندوستان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں روس کے حق میں ووٹ دینے سے باز رہنے کا فیصلہ کیاتھا۔

      برطانیہ بھارت کے ساتھ صنعتی اور اقتصادی تعلقات کو گہرا کرنے پر دے رہا ہے زور
      دوسرا اشارہ جو جانسن نے دیا ہے وہ یہ ہے کہ Brexit (برطانیہ کے یورپی یونین سے نکلنے کا عمل) کے بعد برطانیہ بھارت کے ساتھ صنعتی اور اقتصادی تعلقات کو گہرا کرنے پر زیادہ زور دے رہا ہے اور اس کے لیے وہ برطانیہ میں کام کرنے کے لیے مزید ہندوستانی پیشہ ور افراد کی خدمات حاصل کرنے کو تیار ہے۔ ایسا کرنے کے لیے وہ ویزا دینے کو بھی تیار ہے۔ پچھلے سال کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ برطانوی حکومت نے تعلیم یافتہ، تربیت یافتہ پیشہ ور افراد کو جو ویزے دیئے ہیں، ان میں سے 40 فیصد ہندوستانیوں کو دیے گئے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      Jahangirpuri: انہدامی کارروائی پرسپریم کورٹ کی روک برقرار، دوہفتوں کے بعد ہوگی اگلی سماعت

      جانسن نے کہا ہے کہ 'برطانیہ میں خاص طور پر آئی ٹی سیکٹر اور پروگرامنگ میں پیشہ ور افراد کی بہت زیادہ کمی ہے۔ معیشت میں ہزاروں مزدوروں کی کمی ہے۔ میں ہمیشہ باہر کے پیشہ ور افراد کو کام کرنے کی اجازت دینے کے حق میں رہا ہوں۔ ہندوستانی کارکنوں کے تئیں اس نرمی کی ایک وجہ یہ ہے کہ ہندوستانی کمپنیاں برطانیہ میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔

      چوٹی کانفرنس میں باہمی تعلقات پر دیا جائے گا دھیان
      برطانوی ہائی کمیشن نے کہا ہے کہ ہندوستانی کمپنیاں ایک ارب پاؤنڈز کی نئی سرمایہ کاری کر رہی ہیں جس سے برطانیہ میں ملازمتوں کے 11 ہزار نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ایسے میں دونوں طرف سے واضح اشارہ دیا گیا ہے کہ مودی اور جانسن کے درمیان ہونے والی چوٹی کانفرنس میں دو طرفہ تعلقات پر زیادہ توجہ دی جائے گی۔ دونوں ممالک کے درمیان گرین ٹیکنالوجی اور توانائی کے ذرائع میں نیا تعاون قائم کیا جا رہا ہے جو ماحول کے لیے کم نقصان دہ ہیں۔ یہ پی ایم مودی کا پسندیدہ موضوع ہے جو ہونے والی بات چیت میں ایک خاص طور پر رہے گی۔

      یہ بھی پڑھیں:
      Tata Steelنے لیا بڑا فیصلہ، روس کے ساتھ کاروبار کرنے پر لگائی روک

      دونوں رہنما آزاد تجارتی معاہدے (FTA) پر جاری مذاکرات کا جائزہ لیں گے۔ دونوں ممالک ہند-بحرالکاہل خطے کو تعاون کی ایک نئی جہت کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ لیکن یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ ہند-بحرالکاہل کے خطے میں تعاون کے ساتھ کیسے آگے بڑھنا ہے۔

      اس دورے کے دوران جانسن کی ملاقات کے بعد مزید وضاحت آنے کا امکان ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان دہشت گردی کے خلاف تعاون کی کئی سطحوں پر بات چیت ہو رہی ہے۔ ہندوستان کے ساتھ ساتھ پڑوسی ملک پاکستان کی بھی نظریں اس ملاقات پر ہوں گی کہ مودی اور جانسن کی بات چیت کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ بیان میں دہشت گردی پر کس قسم کا پیغام دیا جاتا ہے۔ برطانیہ میں پناہ لینے والے معاشی بھگوڑوں (وجے مالیا، نیرو مودی) کی واپسی کے بارے میں بھی بات چیت ہوگی۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: