ہوم » نیوز » Explained

Explained: کیا واقعتا چین میں اب کوئی غریب نہیں ہے؟

چین کے صدر شی جن پنگ نے ملک کو پوری طرح غربت سے آزاد ہونے کا اعلان کردیا ہے ۔ دنیا کی سب سے بڑی آبادی والا ملک اگر واقعتا غربت سے باہر آچکا ہے تو یہ عالمی بھکمری کے خاتمہ کی جانب بڑا قدم ہے ۔

  • Share this:
Explained: کیا واقعتا چین میں اب کوئی غریب نہیں ہے؟
Explained: کیا واقعتا چین میں اب کوئی غریب نہیں ہے؟

چین کے صدر شی جن پنگ کا تازہ بیان تہلکہ مچا رہا ہے ۔ بقول جن پنگ ، چین سے غربت پوری طرح سے ختم ہوچکی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی آبادی والے اس ملک نے غربت مٹانے کے سال 2020 کے ہدف کو نو سال پہلے ہی حاصل کرلیا ۔ یعنی دیکھا جائے تو 140 کروڑ کی آبادی والے ملک میں اب سبھی آرام سے کھا پی رہے ہیں اور تعلیم کی سہولت حاصل کر پارہے ہیں ۔


حال ہی میں چین کے صدر نے کہا کہ ان کے یہاں سے غربت پوری طرح ختم ہوچکی ہے ۔ ایسا دعوی کرنے والا چین دنیا کا پہلا ملک بن چکا ہے ۔ جن پنگ کے بیان کے مطابق 70 کی دہائی سے معیشت میں اصلاحات کے بعد سے 770 ملین غریبوں کو اقتصادی خوشحالی مل سکی ہے ۔


علاوہ ازیں جن پنگ نے یہ بھی کہا کہ ان کے ملک نے گزشتہ 8 سالوں میں ہی غربت ہٹانے کیلئے تقریبا 1.6 ٹریلین یوآن لگائے ۔ رائٹرس کی رپورٹ کے مطابق سال 2012 میں اقتدار میں آنے کے بعد سے جن پنگ کا مقصد غربت کا خاتمہ کرنا تھا ۔ اس وقت وہاں غریبوں کی آبادی تقریبا 100 ملین تھی ۔ تو اچانک ایسا کیا ہوا جو 8 ہی سالوں میں ملک سے غربت ختم ہوگئی ؟


ویسے جن پنگ کے آفیشیل دعوے سے پہلے سے ہی چین کے صوبے اس طرح کے دعوے کرنے لگے تھے ۔ سال 2020 کے نومبر میں جب پوری دنیا کورونا سے بچاو کی کوشش کررہی تھی ، تب چین کے جنوب مغرب کے سبھی اضلاع خود کو غربت سے پاک بتا رہے تھے ۔ بتادیں کہ Guizhou صوبہ کے اضلاع میں سب سے زیادہ غریب آبادی رہتی تھی ، لیکن نومبر میں ہی اس صوبہ نے خود کو غربت سے پاک اعلان کردیا تھا ۔

چین کے مطابق گزشتہ 8 ہی سالوں میں زیادہ لوگ غربت سے باہر نکل سکے ۔ اس طرح سے سب سے بڑی آبادی والے ملک ہونے کے ناطہ چین نے گلوبل ہنگر یعنی عالمی بھکمری ختم کرنے میں 70 فیصد شراکت داری ادا کی ۔ بقول چین اس کے دیہی علاقوں میں غربت کی شرح میں 10.2 فیصد سے 0.6 فیصد کی گراوٹ آئی ۔ اب جن پنگ خود اعتمادی سے لبریز ہوکر دعوے کررہے ہیں ۔

اس درمیان یہ سمجھتے ہیں کہ کسی ملک سے غربت ختم ہوگئی ہے ، یہ دعوی کس بنیاد پر کیا جاتا ہے ۔ اس کیلئے تین پیمانے ہیں ۔ پہلا آمدنی ہے یعنی لوگوں کے پاس ملک کی اقتصادی خریداری اوسط کے مطابق مطلوبہ پیسے ہونے چاہئیں ۔ چین کے مطابق وہاں دیہی علاقوں میں کسانوں کی سالانہ انکم 4000 یوآن ہوچکی ہے ۔

چین کے مطابق گزشتہ 8 ہی سالوں میں زیادہ لوگ غربت سے باہر نکل سکے ۔ (pixabay)
چین کے مطابق گزشتہ 8 ہی سالوں میں زیادہ لوگ غربت سے باہر نکل سکے ۔ (pixabay)


غربت ختم ہونے کا دوسرا پیمانہ فکر فردا سے آزاد ہونا ہے ۔ یعنی کسی کبنہ کو کھانے اور پہننے کی کوئی فکر نہ ہو ۔ وہیں تیسرا اور آخری پیمانہ ضمانت ہے ۔ اس کے تحت یہ ضمانت آتی ہے کہ بچوں کو اوسط تعلیم ہر حال میں ملے گی ۔ ہر کسی کو بنیادی طبی سہولیات مل سکے گی اور ہاوسنگ سیکورٹی بھی ہوگی ۔

چین کے غربت سے پاک ہوجانے کے دعوے پر حالانکہ مسلسل سوالات اٹھتے رہے ہیں ۔ سال 2019 کی مئی میں اس پر کافی بحث ہوئی تھی ، جب خود چین کی پارٹی پیپلز ریپبلک آف چین کے لیڈر Li Keqiang نے اس کے برعکس بیان دیا تھا ۔ انہوں نے کہا تھا کہ 600 ملین چینی شہریوں کی ماہانہ آمدنی 100 یوآن یعنی 10 ہزار روپے ہے ۔ لی نے خود آگے آکر اس پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اتنی کم آمدنی میں چین کے متوسط درجہ والے شہر میں گھر لینا یا کرایہ دینا ناممکن ہے ۔

چین کے اقتصادی طور پر خود کو مضبوط بتانے کے دعوے کے درمیان بھی خبر آئی کہ چین میں اناج کی شدید قلت کی وجہ سے بھکمری کے حالات پیدا ہو چکے ہیں ۔ اناج کی قلت کی وجہ سے ہی چین اپنے یہاں سے اناج ایکسپورٹ کرنے سے متعلق سبھی معاہدے رد کرچکا ہے ۔ یہاں تک کہ وہ اناج کی خریداری میں لگ گیا ہے ۔ ساتھ ہی ساتھ اناج کی ڈیمانڈ اور سپلائی میں فرق کم کرنے کیلئے چین دیگر ممالک میں کھیتی کے قابل زمین لیز پر لینے کی شروعات کرچکا ہے ۔ چین نے بیرون ممالک میں زرعی اراضی خریدنے کیلئے تقریبا 94 بلین امریکی ڈالر خرچ کئے ہیں ۔ اس میں افریقی ممالک اور جنوبی امریکی ممالک شامل ہیں ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Feb 27, 2021 10:04 PM IST