உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Explained:سدھارتھ شکلا، اندر کمار، پونیت راجکمار اور اب شین وارن، جانیے فٹنیس کے باوجود ہارٹ اٹیک سے کیسے بچیں؟

    ہارٹ اٹیک سے شین وارن کی موت نے دلائی سدھارتھ شکلا، پونیت راجکمار و دیگر کی یاد۔ کیسے بچیں ہارٹ اٹیک سے ؟

    ہارٹ اٹیک سے شین وارن کی موت نے دلائی سدھارتھ شکلا، پونیت راجکمار و دیگر کی یاد۔ کیسے بچیں ہارٹ اٹیک سے ؟

    Explained:وارن ٹیسٹ کرکٹ میں آسٹریلیا کے لیے سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے بولر تھے۔ فٹ باڈی، جوانی میں خوش گوار زندگی کے باوجود اچانک ہارٹ اٹیک آج کل عام ہو گیا ہے۔ کرکٹر سورو گنگولی اور کامیڈین سنیل گروور کو حال ہی میں دل کا دورہ پڑا تھا۔

    • Share this:
      آسٹریلیائی لیگ اسپنر شین وارن دل کا دورہ پڑنے سے 52 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ وارن ٹیسٹ کرکٹ میں آسٹریلیا کے لیے سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے بولر تھے۔ فٹ باڈی، جوانی میں خوش گوار زندگی کے باوجود اچانک ہارٹ اٹیک آج کل عام ہو گیا ہے۔ کرکٹر سورو گنگولی اور کامیڈین سنیل گروور کو حال ہی میں دل کا دورہ پڑا تھا۔

      • ان ایکٹرس کی ہارٹ اٹیک سے ہوچکی ہے موت

      • سدھارتھ شکلا - 40 سال کی عمر میں

      • اندر کمار - 43 سال کی عمر میں

      • پونیت راجکمار - 46 سال کی عمر میں


      دنیا کے مقابلے ہندوستانیوں میں دل کا دورہ 8-10 سال پہلے آتا ہے۔ میدانتا اسپتال کے کارڈیالوجی کے شعبہ کے سربراہ ڈاکٹر پروین چندر، بنسل اسپتال کے سینئر کارڈیک سرجن ڈاکٹر دلیپ سنگھ راٹھور اور جندل نیچر کیور انسٹی ٹیوٹ کے سینئر نیچروپیتھ ڈاکٹر شریکانت ایچ ایس نے اس مسئلے بات چیت کی ہے۔


      یہ بھی پڑھیں:
      RIP Shane Warne: شین وارن نے 12 گھنٹے پہلے لیجنڈ کی موت پر ظاہرکیا تھا افسوس


      کیا ہوتا ہے Heart Attack؟
      ہمارے دل کو خون کی فراہمی تین اطراف سے آتی ہے۔ جسم میں کولیسٹرول بڑھنے سے دل کی رگوں میں بلاکیج آنا شروع ہو جاتی ہے۔ 40فیصد تک بلاک ہونے سے زیادہ پریشانی نہیں ہوتی۔ جب یہ رکاوٹ 70 فیصد سے زیادہ بڑھ جاتی ہے تو دل میں خون کا بہاؤ سست ہوجاتا ہے اور خون پمپ کرنا بند ہوجاتا ہے۔ اسی کو ہارٹ اٹیک کہتے ہیں۔


      ہارٹ اٹیک کا مسئلہ بنیادی طور پر کولیسٹرول بڑھنے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر، موٹاپا، زیادہ کھانا، سگریٹ نوشی جیسے عوامل کولیسٹرول کے لیے ذمہ دار ہیں۔ بہت سے معاملات میں یہ جینیٹک بھی ہے۔ اس کے علاوہ پھیپھڑوں میں کلاٹنگ کی وجہ سے، دماغ میں خون بہنے کی وجہ سے، زیادہ مقدار میں ڈرگس لینے سے، وائرل انفیکشن یا دل کی کسی بیماری کی وجہ سے بھی دل کا دورہ پڑ سکتا ہے۔

      نوجوانوں میں ہارٹ اٹیک کتنا کامن؟
      دل کی بیماریوں سے دنیا بھر میں ہر سال 17 ملین افراد ہلاک ہو جاتے ہیں۔ ہندوستان میں ہر سال تقریباً 30 لاکھ افراد قلبی امراض کا شکار ہوتے ہیں۔ ان میں سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ ملک میں ہارٹ اٹیک کے مجموعی کیسز میں سے 50 فیصد 50 سال سے کم عمر اور 25 فیصد 40 سال سے کم عمر کے ہیں۔ 2000 اور 2016 کے درمیان اس نوجوان عمر کے گروپ میں دل کے دورے کی شرح میں ہر سال 2 فیصد اضافہ ہوا۔

      یہ بھی پڑھیں:

      Shane Warne Demise:شین وارن کی ’بال آف دی سنچوری‘ کی حیران کن کہانی


      پری میچیور ہارٹ اٹیک کی علامات کیا ہیں؟
      بہت سے معاملات میں یہ دیکھا گیا ہے کہ اچانک دل کا دورہ بغیر کسی علامت کے آجاتا ہے اور اسپتال پہنچنے سے پہلے ہی موت واقع ہوجاتی ہے۔ بہت سے معاملات میں، دل کے دورے سے پہلے علامات ظاہر ہوتے ہیں. مثال کے طور پر سینے میں درد، بھاری پن اور جکڑن، تیزابیت کا احساس، بائیں کندھے یا بائیں بازو میں درد کا احساس، سانس کی تکلیف۔

      نوجوانوں میں ہارٹ اٹیک کے کیا فیکٹرس ہیں؟
      تمباکو کا استعمال دل کی بیماری کے سب سے بڑے خطرے والے عوامل میں سے ایک ہے۔ 30 سے ​​44 سال کی عمر کے لوگوں میں 26 فیصد دل کی بیماریاں تمباکو کے استعمال کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ، خراب نیند کے پیٹرن اور ذہنی کشیدگی اس حالت کو مزید خراب کر دیتے ہیں۔ ہندوستان میں 70 ملین سے زیادہ افراد کو ذیابیطس ہے۔ اس میں بہت سے نوجوان بھی شامل ہیں۔ اس سے ہندوستانی آبادی میں دل کا دورہ پڑنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      13سال بعد بھیPakistanکادورہ کرنےسےکھلاڑیوں میں خوف،گولی باری کےدرمیان اسٹیڈیم پہنچی تھی بس


      ہارٹ اٹیک سے کیسے بچیں نوجوان؟
      لائف اسٹائل میں تبدیلیاں وقت سے پہلے دل کے دورے کے خطرے کو نمایاں طور پر کم کر سکتی ہیں۔ چہل قدمی، سائیکلنگ، جاگنگ اور تیراکی سے ہارٹ اٹیک کا خطرہ 30 فیصد تک کم ہوسکتا ہے۔ روزانہ کم از کم 10 ہزار قدم چلنا چاہیے۔

      جنک فوڈ کے بجائے صحت بخش غذا کھائیں جس میں سبزیاں، پھل، گری دار میوے، سویا اور کم چکنائی والی دودھ کی مصنوعات شامل ہیں۔ ٹرانس فیٹی ایسڈز فاسٹ فوڈ، چپس، بسکٹ وغیرہ میں استعمال ہوتے ہیں اس لیے ان سے پرہیز کرنا چاہیے۔

      تمباکو اور شراب کا استعمال نہیں کرنا چاہئے۔ ٹائم مینجمنٹ سیکھنا چاہیے۔ آج کل لوگ لیپ ٹاپ اور ڈیسک پر زیادہ وقت گزارتے ہیں اس لیے یوگا اور ورزش دل کی صحت کے لیے بہت ضروری ہے۔ اس کے علاوہ احتیاط بہت ضروری ہے۔ نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے دل کا باقاعدگی سے معائنہ کروائیں، تاکہ بلاکیجز کا بروقت پتہ چل سکے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: