ہیومن اسٹوری: کشمیری گلوکارہ کی کہانی، جس کے والد کا مسجد میں جانا کیا گیا تھا بین

میں نے پہلی بار جب گانا گایا تو پورا گاوں میرے خلاف ہو چکا تھا۔ ہر کوئی میرے خاندان کو کوس رہا تھا۔ ہمیں مسلمان ماننے سے انکار کر رہا تھا: گلوکارہ شیرین فاطمہ

Mar 29, 2019 07:38 PM IST | Updated on: Mar 29, 2019 07:50 PM IST
ہیومن اسٹوری: کشمیری گلوکارہ کی کہانی، جس کے والد کا مسجد میں جانا کیا گیا تھا بین

میں نے پہلی بار جب گانا گایا تو پورا گاوں میرے خلاف ہو چکا تھا۔ ہر کوئی میرے خاندان کو کوس رہا تھا۔ ہمیں مسلمان ماننے سے انکار کر رہا تھا۔ یہاں تک کہ میرے خاندان پر مسجد میں نماز ادا کرنے کی بھی پابندی لگا دی گئی تھی، لیکن پھر بھی میں نہیں رکی۔ آج بھی میں گاتی ہوں۔ جموں و کشمیر کے لیہہ میں واقع بنگ ڈوگ گاوں سے تعلق رکھنے والی پہلی بالٹی گلوکارہ شیرین فاطمہ کی کہانی، جنہیں گزشتہ روز جموں و کشمیر حکموت کی جانب سے موسیقی کے شعبے میں شراکت کے لئے ریاستی انعام کا اعزاز دیا گیا۔

میں لیہہ سے دو سو کلومیٹر کی دوری پر بنے بنگ ڈوگ گاوں سے تعلق رکھتی ہوں، جو کہ پاکستانی سرحد سے محض بیس کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے۔ یہاں گانا تو بہت دور کی بات ہے۔ یہاں لڑکیوں کی تعلیم پر بھی پابندی ہے۔

Loading...

ہاں لیکن میرے خاندان میں ایسا کچھ نہیں تھا۔ ہمارے یہاں لڑکے اور لڑکی کی پرورش میں کوئی فرق نہیں ہوا۔ اسلئے جب میں نے گانے کی خواہش کا اظہار کیا تو والدین نے میرا ساتھ دیا، کیوں کہ میرے دادا جی اور ابا کو بھی گلوکاری کا شوق تھا۔ لیکن میرے گانے کا انجام میرے پورے خاندان کو بھگتنا پڑا۔

دراصل جب میں نے پہلی بار سال 2002 میں ایک پروگرام میں گانا گایا تو مجھے گاتے ہوئے سن کر گاوں والوں نے میرے خلاف مورچہ کھول دیا۔ انہوں نے ابا سے کہا کہ وہ کیسے والد ہیں، اپنی لڑکی سے گانا گواتے ہیں۔ ہم سچے مسلمان نہیں ہیں۔ ہمیں اپنا مذہب چھوڑ دینا چاہئے۔ ابا پر مسجد کے اندر داخل نہ ہونے کی پابندی لگا دی گئی تھی۔ اسکول میں مجھ سے کوئی بات نہیں کرتا تھا۔ حالات اتنے خراب ہو چکے تھے کہ ہمیں اپنے گھر میں نظر بند ہوا پڑ گیا۔

ایک بار کی بات ہے، ابا کو کسی کام کےلئے لیہہ جانا تھا لیکن گاوں والوں کی مخالفت کی وجہ سے ابا ہمارے رشتہ دار کے دو لڑکوں کو گھر میں چھوڑ کر گئے تھے، جس سے وہ ہماری حفاظت کر سکیں۔ اسی رات این جی او کے کچھ کارکنا گاوں والوں کے بھڑکانے پر ہمیں آدھی رات کو گھر سے باہر نکلانے لگے۔ ہمیں گاوں چھوڑنے کی دھمکی دینے لگے۔ ڈر کی وجہ سے ہم رات میں ہی ادھر- ادھر بھاگ رہے تھے۔امی کے ساتھ ہم لوگوں نے گاوں کے تمام لوگوں کا دروازہ مدد کے لئے کھٹکھٹایا لیکن کسی نے بھی دروازہ نہیں کھولا۔

آخرکار ایک غریب شخص نے دروازہ کھولا اور ہمیں پناہ دی۔ لیکن انہوں نے بھی گاوں اور خاندان والوں کی وجہ سے اپنے گھر میں نہیں، بلکہ ہمیں گھر کی چھت پر رہنے کی اجازت دی۔ ہم لوگ پورے ایک ہفتہ تک چھت پر رہے، آخرکار جب ابو واپس آئے تو ہم نے گاوں گھوڑ دیا۔ ہم دہرادون آکر رہنے لگے۔

sherinn

تمام پریشانیوں کے باوجود امی اور ابو دونوں نے مجھے گانے کے لئے حوصلہ افضہ کیا۔ یہ ان کی سوچ اور یقین ہی ہے کہ آج میں گا پا رہی ہوں۔ پیسہ نہ ہونے کی وجہ سے میں نے یوٹیوب اور فیس بک کے ذریعہ اپنے گانے لوگوں تک پہنچائے۔ دھیرے- دھیرے لوگ مجھے سننے لگے اور مجھے پہلی بالٹی خاتون سوشل میڈیا اسٹار کے طور پر جانا جانے لگا۔

اگلے ماہ ہم اپنے گاوں واپس جا رہے ہیں۔ میں پہلے کی طرح ہی فیس بک، یوٹیوب پر اپنے گانے اپ لوڈ کرتی ہوں گی۔ مجھے امید ہے کہ ہماری ان کوششوں کا میرے گاوں اور بلستان کے لوگوں پر اچھا اثر پڑےگا۔

 

Loading...