نابینا مسلم بچی حفظ کر رہی ہے گیتا ، تو ہندو بچے پڑھ رہے ہیں قرآن

میرٹھ : مسلم بچی نے گیتا کے دو باب یاد کئے ہیں تو ہندو بچے بڑے جوش و خروش کے ساتھ قرآن پڑھ رہے ہیں۔ یہ بچے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا نے کے ساتھ ساتھ معاشرے کی آنکھوں پر بندھی مذہب اورذات پات کی پٹیاں ہٹانے کی کوشش بھی کر رہے ہیں۔ میرٹھ کے برج موہن بلائنڈ اسکول میں یہ نظارہ روز دیکھتے کو ملتا ہے۔

Feb 17, 2016 07:19 PM IST | Updated on: Feb 17, 2016 07:19 PM IST
نابینا مسلم بچی حفظ کر رہی ہے گیتا ، تو ہندو بچے پڑھ رہے ہیں قرآن

میرٹھ : مسلم بچی نے گیتا کے دو باب یاد کئے ہیں تو ہندو بچے بڑے جوش و خروش کے ساتھ قرآن پڑھ رہے ہیں۔ یہ بچے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا نے کے ساتھ ساتھ معاشرے کی آنکھوں پر بندھی مذہب اورذات پات کی پٹیاں ہٹانے کی کوشش بھی کر رہے ہیں۔ میرٹھ کے برج موہن بلائنڈ اسکول میں یہ نظارہ روز دیکھتے کو ملتا ہے۔

ہندوؤں کی مقدس کتاب 'گیتا کا ایک ایک شلوک یاد رکھ پانا جہاں بڑے بڑوں کے لئے بھی آسان نہیں ہوتا وہیں میرٹھ کی 8 سالہ ایک مسلم نابینا بچی ردا زہرہ سے بس کہنے بھر کی دیر ہے ، اور وہ ہاتھ جوڑ کر گیتا کا پاٹھ شروع کر دیتی ہے ، جس کے دو باب اسے زبانی یاد ہیں ۔

نابینا زہرہ گزشتہ تین سال سے میرٹھ میں جاگرتی وہار کے برج موہن بلائنڈ اسکول میں زیر تعلیم ہے۔ اس نے کتابیں کبھی نہیں دیکھیں اور نہ ہی گیتا بریل کے ذریعے ہی پڑھی ہے۔ صرف چن مئی مشن کی طرف سے گیتا کے پندرھویں باب کے ایک مقابلہ کی تیاری میں اسکول کے ٹیچروں نے بچوں کو گیتا یاد کرانی شروع کی تھی ، لیکن ردا زہرہ کا گیتا میں ایسا رجحان پیدا ہوا کہ گیتا کے 12 ویں اور 15 ویں باب کے تمام شلوک ز بانی یاد کرلئے ۔

قابل ذکر ہے کہ زہرہ کو باقاعدہ اس مقابلے میں ریاست کا پہلا انعام بھی دیا گیا۔ زہرہ کے لئے یہ بات کوئی معنی نہیں رکھتی کہ وہ کس مذہب کی کتاب کو پڑھ اور یاد کر رہی ہے۔ اسے بس اتنا احساس ہے کہ اسے یاد کر کے اس کے دل کو تسلی ملتی ہے۔

Loading...

ردا زہرہ کے والدین میرٹھ کے لوہيانگر میں رہتے ہیں، جہاں وہ بس چھٹیوں اور تہوار کے دوران ہی جاتی ہے۔ اس کے والد نے تین سال پہلے اس کاداخلہ اس اسکول میں کرایا تھا ۔ انہوں نے یہ سوچ کر اپنی بیٹی کا داخلہ یہاں کرایا تھا کہ ان کی بیٹی پڑھ لکھ کر اپنے پیروں پر کھڑی ہو سکے گی ، لیکن آج جب ان کی بیٹی کی وجہ سے ان کا نام روشن ہو رہا ہے ، تو وہ خوشی سے پھولے نہیں سما رہے ہیں۔ وہیں انہیں بھی لگتا ہے کے ان بیٹی کے اس طرح گیتا کو یاد کرنے سے معاشرے میں بھی بھائی چارگی کا پیغام جا رہا ہے۔

وہیں زہرہ کی اس لگن اور کامیابی سے اسکول انتظامیہ بھی بہت خوش ہے ۔ بلائنڈ اسکول کے مینیجر پروین شرما کا کہنا ہے کہ مقابلہ کو دیکھتے ہوئے انہوں نے تمام بچوں کو گیتا کے شلوک یاد كروائے تھے ۔ انہیں بھی لگتا ہے کی گیتا کے شلوكو ں کو یاد رکھنا اتنا آسان نہیں ہوتا ، لیکن ردا زہرہ کے ہنر کے وہ بھی قائل ہیں۔

وہیں یہاں کے دیگر بچے بھی باہمی ہم آہنگی کی مثال پیش کر رہے ہیں ۔ ذات پات کی کھائی کو مٹانے کے لئے ہندو بچے قرآن کی آیتیں یاد کر رہے ہیں۔ اسی اسکول کے نریندر نے ابھی شروعات کی ہے ، لیکن وہ بھی قرآن کو پڑھ کر اور اس کی اہمیت کو سمجھ کر بے حد خوش ہے۔

Loading...