ایک ایسا مقبرہ جہاں پھول نذر کرنے سے نہیں بلکہ جوتے مارنے سے سفر ہوتا ہے کامیاب

اعظم گڑھ : ہندوستان میں سبھی مذاہب کیلئے ایک خاص مقام ہے اور اس کی عزت کی جاتی ہے ۔ اس کی سب سے بڑی مثال ہے ملک میں موجود مقبرے ہیں

Sep 29, 2015 09:32 PM IST | Updated on: Sep 29, 2015 09:32 PM IST
ایک ایسا مقبرہ جہاں پھول نذر کرنے سے نہیں بلکہ جوتے مارنے سے سفر ہوتا ہے کامیاب

اعظم گڑھ : ہندوستان میں سبھی مذاہب کیلئے ایک خاص مقام ہے اور اس کی عزت کی جاتی ہے ۔ اس کی سب سے بڑی مثال ہے ملک میں موجود مقبرے ہیں ۔ ان مقبروں پر ہر مذہب کے لوگ آتے ہیں اور منت مانگتے ہیں اور اس کے بدلے میں وہ لوگ مقبروں پر پھول اور چادریں چڑھاتے ہیں، لیکن ایک ایسا بھی مقبرہ ہے جہاں آکر لوگ جوتے مارتے ہیں۔

یوں بھی کسی شخص کو مرنے کے بعد خواہ وہ اچھا ہو یا برا، لوگ اسے خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے پھول ہی چڑھاتے ہیں، لیکن اتر پردیش میں ایک ایسا بھی شخص ہے جس کی قبر پر پھول نہیں چڑھائے جاتے بلکہ اس کی قبر پر لوگ جوتے مارتے ہیں۔ یہ قبر ہے بھولو سید کی۔

یوپی میں اٹاوہ ضلع سے تقریبا تین کلومیٹر دور اٹاوہ-بریلی ہائی وے پر بھولو سید کا 500 سالہ قدیم مقبرہ ہے ۔سمجھا جاتا ہے کہ ایک بار اٹاوہ کے بادشاہ نے اٹیري کے بادشاہ کے خلاف جنگ چھیڑ دی ۔ جنگ کے بعد میں اٹاوہ کے بادشاہ کو معلوم ہوا کہ اس جنگ کے لئے اس کا درباری بھولو سید ذمہ دار تھا۔ اس بات سے ناراض ہوکر بادشاہ نے اعلان کیا کہ سید کو اس وقت تک جوتوں سے مارا جائے جب تک کہ اس کی موت نہ ہو جائے۔

سید کی موت کے بعد سے ہی اس کی قبر پر جوتے مارنے کی روایت چلی آ رہی ہے اور مقامی لوگوں کا خیال ہے کہ اٹاوہ-بریلی ہائی وے پر اپنے اور کنبہ کے محفوظ سفر کے لئے بھولو سید کی قبر پر کم از کم پانچ جوتے مارنا ضروری ہے۔

Loading...

Loading...