پاکستانی ماڈل اورادا کارہ ماہرہ خان نے کہا "بعض لوگ بریسٹ کو بھی سیکس گفتگو کا حصہ سمجھتے ہیں"۔

ماہرہ خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹرپرٹوئٹ کیا کہ خواتین لفظ 'بریسٹ' کہنے سے کتراتی ہیں توانہیں طبی اعتبارسے معلومات کے لئے کوئزکا حصہ بننا چاہئے۔

Oct 20, 2018 06:23 PM IST | Updated on: Oct 20, 2018 06:23 PM IST
پاکستانی ماڈل اورادا کارہ ماہرہ خان نے کہا

پاکستانی ادا کارہ ماہرہ خان: فائل فوٹو

پاکستانی اداکارہ اورماڈل ماہرہ خان نے افسوس کا اظہارکیا ہے کہ انٹرنیٹ پربعض لوگ ’بریسٹ‘ کے لفظ کو بھی سیکس گفتگو کا حصہ سمجھتے ہیں۔ واضح رہے کہ ماہرہ خان ان دنوں بریسٹ کینسرسے متعلق آگاہی مہم میں مصروف ہیں۔ "ڈان" کے مطابق ماہرہ خان نے اس موضوع پر کھل کراپنے خیالات کااظہارکیا۔

سماجی ادارے "پنک ریبن" پاکستان کے مطابق پاکستان میں سالانہ 90 ہزارخواتین بریسٹ کینسر(چھاتی کا سرطان) کا شکارہوجاتی ہیں۔ ماہرہ خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹرپرٹوئٹ کیا کہ خواتین لفظ ’بریسٹ‘ کہنے سے کتراتی ہیں توانہیں طبی اعتبار سے معلومات کے لئے کوئزکا حصہ بننا چاہئے۔

Loading...

ماہرہ خان کا کہنا تھا کہ خواتین کو اپنی فیملی میں اپنے بارے میں زیادہ معاملہ فہم ہونا چاہئے۔ ماہرہ خان نے ٹوئٹرپر’محدود سوچ‘ رکھنے والوں سے کہا کہ وہ اپنے رویے اورسوچ کا جائزہ لیں، بریسٹ کینسرایک خطرناک مرض ہے، جس پرشعوروآگاہی کی ضرورت ہے۔

اس کے بعد ٹوئٹرپرمنفی جملے لکھنے والوں نے اپنی تحریرکو ہٹا دیا۔ علاوہ ازیں مائرہ خان نے گزشتہ روز اپنے ایک ٹوئٹ میں بتایا تھا کہ انہوں نے اپنی ویب سائٹ پربریسٹ کینسر سے متعلق ایک کوئز ٹیسٹ دیا، جس میں 15 میں سے 11 نمبرحاصل کئے۔  

ماہرہ خان نے اپنے مداحوں کو بھی ٹیسٹ کا حصہ بننے کے لیے زور دیا۔ واضح رہے کہ کوئزمیں بریسٹر کینسر سے متعلق 15 سوالات پوچھے گئے ہیں۔

Loading...