உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کام کی بات: کیا مشت زنی کرنے سے یادداشت کمزور ہو جاتی ہے؟

    جہاں تک یاد داشت چلے جانے کا سوال ہے تو یقین کریں کہ اگر آپ صحت یاب زندگی گزاریں گے، غذا، خوراک کا خیال رکھیں گے تو آپ کا دماغ تیز ہوگا اور آپ کو ہر بات یاد رہے گی۔

    جہاں تک یاد داشت چلے جانے کا سوال ہے تو یقین کریں کہ اگر آپ صحت یاب زندگی گزاریں گے، غذا، خوراک کا خیال رکھیں گے تو آپ کا دماغ تیز ہوگا اور آپ کو ہر بات یاد رہے گی۔

    جہاں تک یاد داشت چلے جانے کا سوال ہے تو یقین کریں کہ اگر آپ صحت یاب زندگی گزاریں گے، غذا، خوراک کا خیال رکھیں گے تو آپ کا دماغ تیز ہوگا اور آپ کو ہر بات یاد رہے گی۔

    • Share this:
      سوال :میری عمر 25 سال ہے ۔ میں گزشتہ کئی سالوں سے مسلسل طور پر مشت زنی کر رہا ہوں۔ حال ہی میں ایک میگزین میں پڑھا کہ مشت زنی کرنے سے یاد داشت کمزور ہو جاتی ہے۔ کیا یہ سچ ہے اگر یہ میں کرتا رہوں گا تو کیا میری یادداشت چلی جائے گی؟

      جواب : بالکل نہیں ۔ آپ بے فکر رہیں، آپ کی یادداشت بالکل نہیں جائے گی۔ یہ سراسر بکواس کے سوا کچھ نہیں ہے۔ مشت زنی کوئی بیماری نہیں ہے۔ یہ بری بات بھی نہیں ہے۔ یہ فطری عمل  ہے۔ لیکن ہمارے یہاں سیکس ایجوکیشن کو زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی ۔ اسکول اور کالج میں کبھی اس بارے میں لڑکے لڑکیوں کو کوئی تعلیم نہیں دی جاتی اس لئے ہمیں صحیح ۔ غلط کا پتہ نہیں چلتا ہے۔ اوپر سے مذہی رہنما اپنی کتابوں میں کہتے ہیں کہ ایک بوند منی کا مطلب ہے 100 بوند خون اور ایک بوند خون کا مطلب ہے بہت ساری غذائی خوراک۔

      ہمارے مذہبی رہنما اپنی کتابوں میں منی کو مرد کا تیز بتاتے ہیں۔ اب اس طرح کی اور ایسی کتابوں کو پڑھنے اور سننے کے بعد جب بھی کوئی مشت زنی کرتا ہے تو اس کے من میں ایک ہی خیال آتا ہے کہ میں نے اپنی ساری طاقت برباد کردی ، اس کے من میں ایک گناہ و جرم والی سوچ پیدا ہوتی ہے۔ اس طرح کی اول جلول باتیں ، جو میگزین میں چھپتی رہتی ہیں ان کا بھی کوئی مطلب نہیں ہے۔ کہیں کچھ بھی پڑھ کر اسے سچ مان لینا ایک عقلمند و سمجھدار شخص کا ہدف نہیں ہے۔ آپ کو سب سے پہلے اس طرح کی میگزین کی اتھارٹی کی تفتیش کرنی چاہئے ۔ صرف صحیح ذرائع سے ہی معلومات جمع کریں۔

      سماج میں بڑے پیمانے پر ہونےوالی اس طرح کی خرابی کی ایک وجہ اور ہے ۔ سیکس ہمارے سماج میں ایک محدود موضوع ہے۔ نہ تو اس کے بارے میں صحیح تعلیم دی  جاتی ہے ، نہ بات کی جاتی ہے اور نہ ہی اس سے جڑے سوالا ت کا کہیں سے حل ملتا ہے۔ ایسے میں من میں، دماغ میں منفی قسم کے غلط خیالات کا پیدا ہونا فطری بات ہے۔

      جبکہ اس کے پیچھے کی سائنسی حقیقت یہ ہے کہ منی ہمارے جسم میں چوبیس گھنٹے بنتا رہتا ہے۔ آپ جاگ رہے  ہوں یا سو رہے ہوں ،  یا پھر اس وقت  جب آپ اس آرٹیکل کو پڑھ رہے ہیں اس وقت بھی آپ کے اندر منی بننے کا عمل جاری ہے۔ اگر آپ مشت زنی نہیں کریں گے  یا پھر جسمانی تعلقات نہیں بنائیں گے تو منی اپنے آپ رات کو نیند میں نکل جائے گی۔ یہ ایک بہت نارمل عمل ہے۔ بلوغت کی دہلیز پر پہنچتے ہی جسم میں اپنے آپ ہارمونل تبدیل ہوتے ہیں۔ جسمانی تبدیلی کو لیکر کیورسٹی ہوتی ہے ، جسم میں آ رہی تبدیلی کی اپنی فطری وجہ ہے۔

      اسے سائنسی طریقے سے سمجھنے کی ضرورت ہے نہ کہ اس طرح کی کتابوں پر یقین کرکے اپنے من میں ایک بوجھ پالنے کی۔ مشت زنی بہت آسان فطری عمل ہے۔ اس لئے اسے لیکر فکرمند یا پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ من میں کسی بھی طرح کے خیال لانے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ کوئی بیماری نہیں ہے اس لئے اس کا علاج بھی نہیں ہے۔

      یہ بھی پڑھیں : مشت زنی کوئی بیماری نہیں، لیکن لت کسی بھی چیز کی بری ہے

      جہاں تک یاد داشت چلے جانے کا سوال ہے تو یقین کریں کہ اگر آپ صحت یاب زندگی گزاریں گے، غذا ، خوراک کا خیال رکھیں گے تو آپ کا دماغ تیز ہوگا اور آپ کو ہر بات یاد رہے گی۔

      ۔(ڈاکٹر پارس شاہ ساندھیہ ملٹی اسپشلیٹی ہاسپیٹل احمد آباد ، گجرات میں چیف کنسلٹنٹ سیکسولاجسٹ ہیں)۔



      اگر آپ کے دل میں کوئی بھی سوال یا تجسس ہے تو آپ اس ای میل پر ہمیں میل بھیج سکتے ہیں۔ ڈاکٹر شاہ آپ کے سبھی سوالوں کا جواب دیں گے۔

      Ask.life@nw18.com

      First published: