ورلڈ کپ کیلئے کچھ دیر بعد ٹیم انڈیا کا ہوگا اعلان ، 'نمبر 4 اور ایکس فیکٹر' پر رہیں گی سب کی نگاہیں

سی سی ورلڈ کپ 2019 کے لیے آج ہندستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی) اپنی ٹیم کا اعلان کرے گا اور تمام نگاہیں بلے بازی آرڈر میں 'چوتھے نمبر' کے پلیئر اور 'ایکس فیکٹر' پر لگی رہیں گی ۔

Apr 15, 2019 12:29 PM IST | Updated on: Apr 15, 2019 12:29 PM IST
ورلڈ کپ کیلئے کچھ دیر بعد ٹیم انڈیا کا ہوگا اعلان ، 'نمبر 4 اور ایکس فیکٹر' پر رہیں گی سب کی نگاہیں

ٹیم انڈیا کی فائل فوٹو

سی سی ورلڈ کپ 2019 کے لیے آج ہندستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی) اپنی ٹیم کا اعلان کرے گا اور تمام نگاہیں بلے بازی آرڈر میں 'چوتھے نمبر' کے پلیئر اور 'ایکس فیکٹر' پر لگی رہیں گی ۔ بی سی سی آئی کے چیف سلیکٹر ایم ایس كے پرساد کی صدارت والی پانچ رکنی کمیٹی ممبئی میں بی سی سی آئی کے ہیڈ کوارٹر میں پیر کو عالمی کپ ٹیم کا اعلان کرے گی اگرچہ پرساد اور کپتان وراٹ کوہلی کے مطابق ٹیم کو تقریبا منتخب کیا جا چکا ہے اور اس میں ایک یا دو مقامات کے لیے ہی کشمکش ہوگی۔

پرساد اور وراٹ پہلے ہی اشارہ دے چکے ہیں کہ آئی پی ایل -12 کی کارکردگی عالمی کپ ٹیم کے انتخاب میں معنی نہیں رکھے گا۔ پرساد نے حال ہی میں کہا تھا کہ 20 کھلاڑیوں کا پول منتخب کیا جا چکا ہے جن میں سے 15 منتخب ہونا ہے۔ پرساد کے قیادت والے سلیکشن پینل کے دیگر رکن سرنديپ سنگھ، دبانگ گاندھی، جتن پرانجپے اور گگن كھوڑا ہیں۔

Loading...

بین الاقوامی کرکٹ کونسل میں عالمی کپ کی ٹیموں کو 23 مئی تک اپنی آخری ٹیم میں تبدیلی کی اجازت دے رکھی ہے۔ عالمی کپ کا انعقاد 30 مئی سے انگلینڈ میں ہونا ہے اور انگلینڈ وہی جگہ ہے جہاں ہندستان نے پہلی بار 1983 میں کپل دیو کی کپتانی میں ورلڈ کپ جیت کر تاریخ رقم کی تھی۔ ہندستان نے دوسری بار 2011 میں اپنی میزبانی میں یہ خطاب اپنے نام کیا تھا۔

اگرچہ گزشتہ کافی عرصے سے ٹیم مجموعہ کو لے کر سلیکٹرز میں کشمکش چل رہی تھی جبکہ کپتان وراٹ بھی مختلف سیریز میں مختلف مجموعہ کو لے کر تجربہ کر چکے ہیں جن میں مڈل آرڈر میں چوتھے نمبر پر بلے باز کو لے کر صورتحال اب بھی صاف نہیں ہے۔ آسٹریلیا کے ساتھ ہندستانی ٹیم کے گھریلو میدان پر گذشتہ ماہ ہوئی ون ڈے سریز آئی سی سی ٹورنامنٹ سے پہلے آخری بین الاقوامی سریز بھی تھی جس میں وراٹ نے بھی بہت سے تجربے کئے تھے، باوجود اس کے ہندستان کو پانچ میچوں کی سیریز میں 2-3 سے شکست کھانی پڑی تھی جبکہ اس سے پہلے ہندستان نے نیوزی لینڈ کو اس کے گھر میں 4-1 سے اور آسٹریلیا کو اسی کی زمین پر 2-1 سے شکست دی۔

اکتیس سالہ اسٹار بلے باز نے گھریلو سریز ہارنے کے بعد کہا تھا کہ اس شکست کے باوجود عالمی کپ ٹیم تقریبا طے ہے اور آخری وقت میں ایک آدھ تبدیلی ہی دیکھنے کو ملے گی۔ اوپننگ میں شکھر دھون اور روہت شرما کی جگہ پکی ہے اور لوکیش راہل کو متبادل اوپنر منتخب کیا جا سکتا ہے۔ راہل نے اس آئی پی ایل میں اوپننگ میں کافی اچھی کارکردگی کی ہے۔ شکھر نے بھی اپنے گزشتہ مقابلے میں ناٹ آوٹ 97 رن کی شاندار اننگز کھیلی تھی۔

اگرچہ مڈل آرڈر میں چوتھے نمبر پر انتخاب کافی دلچسپ ہونے والا ہے۔ یہی وہ آرڈر ہے جس پر کھیلتے ہوئے یوراج سنگھ نے 2011 کے ورلڈ کپ میں یادگار کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا اور ہندوستان کو خطابی جیت دلانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ یہ آرڈر پچھلے کچھ عرصے میں مسلسل بحث کا موضوع رہا ہے۔ چوتھے نمبر پر امباٹي رائیڈو ٹیم کے سب سے سینئر رکن مہندر سنگھ دھونی یہاں تک کی لوکیش راہل اور نوجوان رشبھ پنت منتخب ہو سکتے ہیں۔

یہ دلچسپ ہے کہ 2017 چمپئنز ٹرافی کے بعد سے ٹیم مینجمنٹ نے چوتھے نمبر پر 11 بلے بازوں کو اتارا ہے جن میں امباٹي رائیڈو نے سب سے زیادہ میچ کھیلے ہیں۔ گزشتہ سال ونڈيز کے ساتھ گھریلو سیریز میں بھی رائیڈو کے اس نمبر پر کردار کو کپتان نے سراہا تھا۔ اگرچہ گزشتہ کافی عرصے سے رائیڈو کی فارم تسلی بخش نہیں ہے۔ لیکن آئی پی ایل میں انہوں نے کچھ اچھی اننگز کھیلی ہیں۔

کپتان وراٹ کی پسند پنت ٹیم کے لئے ایکس فیکٹر ہونے کے ساتھ ساتھ دوسرے اختیاری وکٹ کیپر بلے باز بھی ہو سکتے ہیں۔ اگرچہ ٹیسٹ میں خود کو ثابت کر چکے پنت کیلئے اب ون ڈے میں خود کو ثابت کیا جانا باقی ہے۔ بائیں ہاتھ کا یہ بلے باز دھماکہ خیز بلے بازی کرتا ہے اور ٹیم کو ابتدائی اوورز میں ضروری رن رفتار دے سکتا ہے۔

ٹیم میں دوسرے وکٹ کیپر کے طور پر پنت کا مقابلہ دنیش کارتک کے ساتھ ہے۔ کارتک نے خود کو فنشر کے طور پر تیار کیا ہے اور ان کی بلے بازی میں بھی ایک جارحیت ہے۔ دھونی کے بعد ٹیم میں ایک وکٹ کیپر منتخب کیا جانا ہے اور پنت اور کارتک میں سے کوئی ایک عالمی کپ ٹیم کا حصہ بنے گا۔ پنت کلائی کے اسپنروں کے خلاف جارحانہ بلے باز ہیں۔ ہندستان اے کے کوچ راہل دراوڑ بھی ان سے کافی متاثر ہیں۔

آل راؤنڈر کے لئے ہردک پانڈیا سب مضبوط دعویدار ہیں جو متوسط رفتار کی گیند بازی کے ساتھ ساتھ دھماکہ خیز بلے بازی بھی کرتے ہیں۔ لیفٹ آرم اسپنر رویندر جڈیجہ مفید بیٹنگ اور زبردست فیلڈنگ کی وجہ سے ورلڈ کپ ٹیم میں جگہ بنا سکتے ہیں۔ پچھلے کچھ عرصے سے مسلسل آزمائے جا رہے وجے شنکر بھی آل راؤنڈر کے کردار میں اتر سکتے ہیں۔ پارٹ ٹائم آف اسپنر اور مڈل آرڈر کے مفید بلے باز کیدار جادھو اس کردار میں جگہ بنا سکتے ہیں۔

ٹیم انتخاب میں تیز گیند بازی اٹیک پر بھی نگاہیں رہیں گی جن میں جسپريت بمراه، محمد سمیع اور بھونیشور کمار تینوں مضبوط دعویدار دیکھے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ پانڈیا بھی تیز بولر آل راؤنڈر ہیں جو چوتھے فاسٹ بولر کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ سلیکٹر اگر بولنگ آرڈر چار فاسٹ بولر ماہر اتارنے کی سوچتے ہیں تو دیپک چاهر اور نوديپ سینی موقع حاصل کر سکتے ہیں۔ دونوں ہی آئی پی ایل میں اچھی کارکردگی کر رہے ہیں اور عالمی کپ ٹیم کا 'سرپرائز' ہو سکتے ہیں۔ کپتان وراٹ عام طور پر بولنگ اٹیک میں تین فاسٹ بولر، ایک ماہر اسپنر اور ایک آل راؤنڈر كھلانے کو ترجیح دیتے ہیں۔

اسپنروں کے لیے دونوں کلائی کے اسپنروں کلدیپ یادو اور يجویندر چہل کی جگہ پکی مانی جا رہی ہے۔ گزشتہ دو برسوں میں یہ دونوں بولر ہندستانی ٹیم کا حصہ رہے۔ جڈیجہ اپنے لیفٹ آرم اسپن اور کیدار جادھو اپنے پارٹ ٹائم آف اسپن سے ٹیم کو اضافی اسپن اختیارات دے سکتے ہیں۔ آخری الیون میں اگر سرپرائز کی بات کی جائے تو ممبئی کے نوجوان بلے باز پرتھوی شا پر بھی داؤ کھیلا جا سکتا ہے۔

اس ورلڈ کپ کا فارمیٹ ایسا ہے کہ ہندستان کو دیگر نو ٹیموں کے ساتھ ایک ایک مقابلہ کھیلنا ہے یعنی نو میچوں میں ہندوستان کے پاس اوپننگ میں تمام اختیارات موجود رہنے چاہیے۔ اگر اوپننگ خراب رہتی ہے تو ٹیم کی بلے بازی کا سارا دارومدار وراٹ کے کندھو ں پر آئے گا۔ سلیکٹرز کو عالمی کپ ٹیم کا انتخاب وقت انگلینڈ کی پچوں اور وہاں کے حالات کو بھی ذہن میں رکھنا ہوگا۔ انگلینڈ کی پچیں عام طور پر سوئنگ اور تیز گیند بازی کے لیے سازگار رہتی ہیں جن پر بیٹنگ کرنا آسان نہیں ہوتا۔ ہندستان نے 1983 میں جب عالمی کپ جیتا تھا تب ٹیم میں کپل دیو، راجر بنی، مدن لال اور بلوندر سنگھ سندھو کے طور پر چار سوئنگ بولر تھے جنہوں نے وہاں کے حالات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہندستان کو خطاب دلایا تھا۔

Loading...