ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

دھوکے سےحملہ کرتا رہا ہے چین، 1 اکتوبر کی آدھی رات بھی ایسے کیا تھا حملہ

11 ستمبر 1967 میں سیز فائر ہونے کے بعد بھی ایک اکتوبر کی آدھی رات اس نے ہندستانی فوج (Indian Army)پر حملہ بول دیا تھا۔ لیکن اس کے بعد بھی چین کی فوج (Chinese Army) کو منھ کی کھانی پڑی تھی اور اس کے 340 فوجی مارے گئے تھے۔ یہ حملہ سکم (Sikkim) تبت بارڈر(Ladakh) پر ہوئی لڑائی کے دوران ہواتھا۔

  • Share this:
دھوکے سےحملہ کرتا رہا ہے چین، 1 اکتوبر کی آدھی رات بھی ایسے کیا تھا حملہ
11 ستمبر 1967 میں سیز فائر ہونے کے بعد بھی ایک اکتوبر کی آدھی رات اس نے ہندستانی فوج (Indian Army)پر حملہ بول دیا تھا۔ لیکن اس کے بعد بھی چین کی فوج (Chinese Army) کو منھ کی کھانی پڑی تھی اور اس کے 340 فوجی مارے گئے تھے۔ یہ حملہ سکم (Sikkim) تبت بارڈر(Ladakh) پر ہوئی لڑائی کے دوران ہواتھا۔

نئی دہلی: یہ بات صحیح ہے کہ چین  (China) اور ہندستان (Indian) کے درمیان گولی چلنے کے کے واقعات کم ہی ہوئے ہیں لیکن چین دھوکے سے حملہ سے حملہ کرنے سے بھی نہیں چوکتا ہے۔ 1967  میں اس نے ایسا ہی ایک حملہ کیا تھا۔ 11ستمبر 1967  میں سیز فائر ہونے کے بعد بھی ایک اکتوبر کی آدھی رات اس نے ہندستانی فوج (Indian Army)پر حملہ بول دیا تھا۔ لیکن اس کے بعد بھی چین کی فوج (Chinese Army) کو منھ کی کھانی پڑی تھی اور اس کے 340  فوجی مارے گئے تھے۔ یہ حملہ سکم (Sikkim) تبت بارڈر(Ladakh) پر ہوئی لڑائی کے دوران ہواتھا۔ چین کی اسی دھوکے بازی کو جاننے کیلئے ہم نے بات کی کرنل ریٹائرڈ جی ایم خان سے۔

دھوکے سے چوکیوں پر قبضہ کرنے پہچی تھی چینی فوج

ہندستان۔چین کے درمیان 11 ستمبر 1967  کو گولی چلی تھی۔ یہ گولی اس لئے چلی تھی کہ سردی شروع ہوتے ہی ہندستانی فوج تقریبا 13ہزار فٹ اونچے چلا پاس پر بنی اپنی چوکیوں کو خالی کرفیتی تھی اور گرمیوں میں جاکر دوبارہ تعینات ہوجاتی تھی۔ سردی کے موسم میں چوکیوں کو خالی سمجھ کر چین کی فوج وہاں سے دھوکے سے قبضہ کرنے پہنچ گئی۔ لیکن فوج چین کے دھوکے کو سمجھ چکی تھی۔ اس لئے چوکیاں خالی نہیں کی گئیں اور دونوں کے درمیان لڑائی شروع ہوگئی۔ 


"Indian

11  ستمبر 1967  یہ لڑائی شروع ہوئی تھی۔ مورٹار حملے کے درمیان پانچ دن تک چین مسلسل یہی کوشش کرتا رہا کہ ہندستان کی سرحد کو پار کرلے۔ لیکن  بارڈر پر چوکس 17 ماؤنٹین ڈویژن کے جوان جین کے حملے کو مسلسل ناکام کررہے تھے۔ 15 ستمبر کو سیزفائر ہوگیا اور گولی باری تھم گئی۔ اس لڑائی میں ہندستانی اور چین کی فوج کے کئی جوان شہید ہوئے تھے۔

ہندستان اور چین درمیان گولی باری ہو چکی تھی۔ لیکن  17ویں ماؤنٹین ڈویژن کے میجر جنرل ساگت سنگھ چین کی عادت سے واقف تھے۔ اس لئے انہوں نے سی فائر کے بعد بھی اپنے جوانوں کو سخت کڑاکے کی سردی میں بھی الرٹ رکھا۔ اور 1 اکتوبر کو وہی ہوا جس کا اندیشہ تھا۔ ایک اکتوبر کو چین نے ناتھولا اور چولا پاس پر حملہ بول دیا۔
First published: Jun 16, 2020 11:01 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading