ہوم » نیوز » عالمی منظر

بچے کم پیدا ہونے سے چین میں معیشت پر منڈرایا خطر، اب بدلے گا قانون!

نیشنل ہیلتھ کمیشن کے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ پیدائش کی گنجائش کو بڑھانے کے لئے تحقیق کرے گی۔

  • Share this:
بچے کم پیدا ہونے سے چین میں  معیشت پر منڈرایا خطر، اب بدلے گا قانون!
نیشنل ہیلتھ کمیشن کے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ پیدائش کی گنجائش کو بڑھانے کے لئے تحقیق کرے گی۔

چین ایک بچے کی اپنی متنازعہ پالیسی کو ختم کرنے کے چار سال سے زیادہ وقت بعد ملک  (china birth rate)   میں کم ہوتی بچوں کی پیدائش کی شرح کو بڑھانے کیلئے زیادہ اقدامات پر غور کر رہا ہے۔ چین نے دہائیوں تک اپنی بڑھتی معیشت کیلئے کام کم وسائل کے نام پر زیادہ بچوں کے جنم پر سخت کنٹرول کیا ہوا ہے۔


حالانکہ گرتی بچوں کے جنم کی شرح کو اب  معاشی ترقی اور معاشرتی استحکام کے لئے ایک بڑے خطرہ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ نیشنل ہیلتھ کمیشن کے جاری کردہ ایک بیان  میں کہا گیا ہے کہ وہ پیدائش کی گنجائش کو بڑھانے کے لئے تحقیق کرے گی۔ کمیشن نے کہا کہ اس اقدام پر سب سے پہلے شمال مشرق  ملک کے بڑے صنعتی علاقے پر توجہ دی جائے گی جہاں آبادی میں بہت زیادہ کمی دیکھنے میں آئی ہے کیونکہ نوجوانوں اور کنبہ بہتر مواقع کے لئے کہیں اور نقل مکانی کر چکے ہیں۔




2019 میں آبادی میں دیکھی گئی کمی۔۔۔۔
اس خطے میں تین صوبوں لیاؤننگ ، جیلین اور ہیلونگ جیانگ پر مشتمل مسلسل ساتویں سال 2019 میں آبادی میں کمی دیکھی گئی۔ چین کے قومی اعدادوشمار کے مطابق ، 2019 میں پیدائش کی شرح 10.48 فی ایک ہزار تھی جو 1949 کے بعد سب سے کم ہے۔ سال 2019 میں 1 کروڑ 46 لاکھ 50 ہزار بچے پیدا ہوئے جو پہلے سے 5 لاکھ 80 ہزار کم تھے۔
Published by: Sana Naeem
First published: Feb 20, 2021 12:13 PM IST