ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

ہندستانی فوج نے بتایا، مشرقی لداخ میں گلوان وادی جھڑپ میں مارے گئے کتنے چینی فوجی

Lieutenant General YK Joshi on India-China standoff in Ladakh: جوشی نے بتایا کہ 10 فروری کو پینگونگ تسو میں ڈس انگیجمینٹ کا عمل چل رہا ہے۔ دونوں فوجیں اسے چار اسٹیپ میں مکمل کریں گی۔

  • Share this:
ہندستانی فوج نے بتایا، مشرقی لداخ میں گلوان وادی جھڑپ میں مارے گئے کتنے چینی فوجی
Lieutenant General YK Joshi on India-China standoff in Ladakh: جوشی نے بتایا کہ 10 فروری کو پینگونگ تسو میں ڈس انگیجمینٹ کا عمل چل رہا ہے۔ دونوں فوجیں اسے چار اسٹیپ میں مکمل کریں گی۔

شمالی لداخ (Northern Ladakh) میں مئی 2020 سے چین اور ہندستان کے درمیان جاری تنازعہ پر ناردن کمانڈ کے چیف لیفٹیننٹ جنرل وائی کے جوشی (Lieutenant General Yogesh Kumar Joshi) نے کہا کہ گلوان وادی (Galwan Valley) کی جھڑپ کے بعد پچاس چینی فوجیوں کو گاڑیوں کے ذریعے لے جایا گیا تھا۔ جوشی نے کہا کہ اس گلوان کی جھڑپ میں چینی فوج کے کافی لوگ مارے گئے تھے۔ جوشی نے کہا کہ چینی فوجی 50 سے زیادہ جوانوں کو گاڑیوں میں لے جا رہے تھے لیکن وہ زخمی تھے یا مرے اس کے بارے میں کہنا مشکل ہے۔ جوش نے کہا کہ روسی ایجنسی TASS نے 45 چینی جوانوں کے مارے جانے کی بات کہی ہے اور ہمارا اندازہ بی اسی کے آس۔پاس کے۔

بتادیں کہ 2020 جون میں مشرقی لداخ میں گلوان وادی (Galwan Valley) میں ہندستان اور چینی فوجیوں کے درمیان خونی جھڑپ مین تقریبا بیس ہندستانی جوان شہید ہو گئے تھے۔ اس واقعے میں چین کے بھی کئی فوجی مارے گئے تھے لیکن چین نے اسے لیکر کوئی آفیشیل اعدادوشمار جاری نہیں کیا تھا۔ جوشی نے بتایا کہ 10 فروری کو پینگونگ تسو میں ڈس انگیجمینٹ کا عمل چل رہا ہے۔ دونوں فوجیں اسے چار اسٹیپ میں مکمل کریں گی۔  انہوں نے بتایا کہ اب تک دونوں فریق بختر بند گاڑیاں، ٹینک ڈس انگیج کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا تیسرے چوتھے مرحلے میں کیلاش رینج ریزانگ میں پیدل فوج کے جوان ہٹیں گے۔ جوشی نے آگے کہا کہ دونوں ممالک کے فوجی افسران ایک دوسرے سے بات کر رہے ہیں۔ اگر کوئی شک ہوتا ہے تو اس پر بات کرتے رہیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ امید تو نہیں تھی لیکن جو ہندستانی فوج نے اگست میں کیا اس کی وجہ سے یہ ٹرننگ پوائنٹ تھا۔ اس کے بیچ چینی فوج لیول پر آئی اور پھر (disengagement) کی شروعات ہوئی۔


29-30 اگست کو ہندستان۔چین کے درمیان کیا ہوا تھا؟

جوشی نے اگست میں ہوئے تنازعہ کو لیکر کہا کہ ہمارے جوانوں نے 29-30 اگست کو ریجان لا کی اونچائی والے علاقوں میں قبضہ کر لیا۔ ہمارے ٹینک پورے علاقے میں قبضہ کر چکے تھے۔ ہمارے ٹینک اوپر تھے اور چین کی جانب سے بھی ٹینک آ رہا تھا۔ ٹینک کے ٹیلی اسکوپ میں ہمارے جوان دیکھ رہے تھے کہ چینی ٹینک آرہے ہیں۔ ایسی صورتحال میں جوانوں کو سیدھے فائرنگ کی اجازت ہوتی ہے لیکن ہم نے صبر و تحمل سے کام لیا اور علاقے پر قبضہ بنائے رکھا۔ ہاں ٹینشن ضرور تھی لیکن ہم نے جنگ جیسی صورتحال پیدا نہیں ہونے دی۔


اتنی اونچائی پر ٹینک سوچا نہیں تھا
لیفٹیننٹ جنرل وائی کے جوشی (Lieutenant General Yogesh Kumar Joshi) نے کہا، کسی نے کچھی سوچا نہیں ہوگا کہ اتنی اونچائیوں پر ٹینک ہوں گے۔ میں نے اپنی پوری زندگی لداخ میں، بریگیڈ، ڈویژن، شریک علاقوں کی کمان سنبھالنے میں گزارا۔ 5 مئی سے پہلے میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ ایسے حالات ہوں گے جس میں مشرقی لداخ میں اس طرح کا موومینٹ ہو رہا ہے۔ فورس، گولہ بارود، کوچ، توپ سب کچھ ہم ایل او سی کے پاس لیک گئے یہ انتہائی ناقابل تصور تھا۔ جوانوں نے پوری ہمر کے ساتھ اس کام کو انجام دیا۔
پانی بنا فوج کیلئے بڑا چیلنج۔۔۔
فوج کے ایک افسر نے کہا، شروعات میں سرحد پر پانی فوجیوں کیلئے ایک بڑا چیلنج تھا۔ پانی لانے کیلئے پہاڑوں پر چرحنا ایک مشکل کام ہے۔ شروع میں ہمیں فوجیوں کیلئے بوتل بند پانی ملا۔ اس کے بعد ہم نے انجینیئروں کو کام پر لگایا ہے اور ہم تقریبا بیس بورویلوں کو کھودنے میں کامیاب ہوئے۔

جگاڑ نے بنائے سارے کام!
انہوں نے کہا کہ چینی فوج کو پیچھے بھگانے اور ایل او سی پر سہولیات کا انتظام کرنے کیلئے فوج کے جوانوں کے کئی طرح کے جگاڑ کئے۔ انہوں نے کہا، پانی کیلئے ٹینک کو اتنی اونچائی پر پہنچانے کیلئے کئی طرح کے طریقے اپنائے گئے کیونکہ مشکل حالات میں ایک روایتی طریقے سے کام کرنا بڑا چیلنج تھا۔

ایسے لیول پر آیا چین
لیفٹیننٹ جنرل وائی کے جوشی نے کہا کہ چین کے پیچھے ہٹنے پر تھوڑی حیرانی تو ہوتی ہے کیونکہ اتنی جلدی اس کی امید نہیں تھی۔ انہوں نے کہا، امید تو نہیں تھی لیکن ہندستانی فوج نے 29-30 اگست کی رات کو LAC پر جو کیا تھا وہ ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا۔ اس کے بعد چین لیول پر آکر مانا اور پھر ڈس انگیجمینٹ کے عمل کیلئے مانا۔
چین اور ہندستان کے درمیان کشدگی میں کمی آنے کے بعد ڈریگن پینگانگ جھیل کے شمالی اور جنوبی کنارے سے اپنے فوجیوں کو اور دیگر ساز و سامان کو ہٹا رہی ہے۔ ہندستانی فوج چین کی ایک۔ایک حرکت پر سخت نظر بنائے ہوئے۔ ناردن کمانڈ کے چیف لیفٹیننٹ جنرل وائی کے جوشی (Lieutenant General Yogesh Kumar Joshi) نے آج سی این این نیوز 18 کے ساتھ ایکسکلوزو بات چیت میں بتایا کہ کیسے ہندستانی فوج نے مشکل حالات میں ڈریگن کو ٹکر دی۔ انہوں نے بتایا کہ کئی مرتبہ فوج کے جوانوں نے جگاڑ تکنیک کا استعمال کرکے مشکلوں پر فتح پائی۔
Published by: Sana Naeem
First published: Feb 18, 2021 04:38 PM IST