ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

India-China:ایل اے سی پرچینی فوجیوں کی مشکلات میں اضافہ، 90 فوجیوں کوکیاگیا تبدیل

درجہ حرارت میں نمایاں کمی اور سردی کی وجہ سے چینی فوجیوں کی پریشانیوں میں اضافہ ہوگیاہے۔ چین نے اپنے 90 فیصد فوجیوں کو تبدیل کیا ہے۔ یعنی سرحد پر تعینات پرانے فوجیوں کو بلا کر سردی سے بچانے کے لئے ایک نئی کھیپ بھیج دی گئی ہے۔

  • Share this:
India-China:ایل اے سی پرچینی فوجیوں کی مشکلات میں اضافہ، 90 فوجیوں کوکیاگیا تبدیل
علامتی تصویر ۔

نئی دہلی: لائن آف ایکچول کنٹرول (LAC) پر لداخ سیکٹر میں چینی فوج کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہاہے۔ درجہ حرارت میں نمایاں کمی اور سردی کی وجہ سے چینی فوجیوں کی پریشانیوں میں اضافہ ہوگیاہے۔ چین نے اپنے 90 فیصد فوجیوں کو تبدیل کیا ہے۔ یعنی سرحد پر تعینات پرانے فوجیوں کو بلا کر سردی سے بچانے کے لئے ایک نئی کھیپ بھیج دی گئی ہے۔ ہم آپ کو بتادیں کہ ایل اے سی پر ہندوستان اور چین کے مابین تعطل پچھلے سال مئی سے جاری ہے۔


گذشتہ سال اپریل ۔ مئی سے اب تک چین نے مشرقی لداخ کے پار ایل اے سی پر 50 ہزار سے زیادہ فوجی تعینات کیے ہیں۔ سرحد پر معاہدے کے بعد بھی ، چینی فوجیوں کی ایک بڑی تعداد کی موجودگی برقرار ہے۔ تاہم ، کچھ فارورڈ مقامات اور پینونگونگ لیک سیکٹر سے کچھ چینی فوجیوں کی واپسی ہوئی ہے۔ خبررساں ایجنسی اے این آئی نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ، ایک سال سے ایل اے سی پر تعینات فوجیوں کو واپس بلایا گیا ہے اور وہاں ایک نئی کھیپ بھیج دی گئی ہے۔ ذرائع نے اے این آئی کو یہ بھی بتایا ہے کہ پچھلے سال بھی شدید سردی کی وجہ سے ، فوجیوں کو ہر روز چینی سرحد پر مقامات کی تبدیلی کرتے ہوئے دیکھا گیاتھا۔


اب تک ہندوستان اور چین دونوں ممالک  کے مابین فوجی مذاکرات کے 11 دور ہوچکے ہیں
اب تک ہندوستان اور چین دونوں ممالک کے مابین فوجی مذاکرات کے 11 دور ہوچکے ہیں


یادرہے کہ ان علاقوں میں 2سال سے ہندوستانی فوج کے جوان تعینات ہیں۔ اس کے علاوہ روٹیشن پالیسی کے تحت 40-50 فیصد فوجیوں کا تبادلہ ہوتا ہے۔ جبکہ آئی ٹی بی پی کے اہلکار ان مشکل علاقوں میں دو سال سے زیادہ عرصے تک قیام کرتے ہیں۔ آرمی چیف جنرل ایم ایم ناراوانے باقاعدگی سے ان علاقوں کا دورہ کرتے ہیں۔

ہم آپ کو بتادیں کہ اب تک ہندوستان اور چین دونوں ممالک کے مابین فوجی مذاکرات کے 11 دور ہوچکے ہیں۔ لیکن اب تک اس گفتگو کا کوئی ٹھوس نتیجہ سامنے نہیں آیا ہے۔ گذشتہ ہفتے چین کو ایک واضح پیغام دیتے ہوئے ، آرمی چیف جنرل ایم ایم ناراوانے نے کہا کہ مشرقی لداخ میں تنازعات کے تمام نکات سے فوجیوں کی مکمل واپسی کے بغیر تناؤ کو کم نہیں کیا جاسکتا ہے اور ہندوستانی فوج خطے میں کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے تیار ہے۔
Published by: Mirzaghani Baig
First published: Jun 06, 2021 08:31 PM IST