ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

Exclusive: کیسے پیچھے ہٹا چین، ہندستان نے کیسے اگست میں کیا لداخ میں آپریشن، جانیں فوج کی زبانی

Lieutenant General YK Joshi on India-China Standoff: گزشتہ سال مئی سے آمنے۔سامنے رہیں ہندستان اور چین کی فوج اب دھیرے۔دھیرے طے کئے گئے پوائنٹس سے پیچھے ہو رہی ہیں۔ ایسے میں لیفٹیننٹ جنرل وائی کے جوشی نے اہم جانکاری شیئر کی ہے۔

  • Share this:
Exclusive: کیسے پیچھے ہٹا چین، ہندستان نے کیسے اگست میں کیا لداخ میں آپریشن، جانیں فوج کی زبانی
Lieutenant General YK Joshi on India-China Standoff: گزشتہ سال مئی سے آمنے۔سامنے رہیں ہندستان اور چین کی فوج اب دھیرے۔دھیرے طے کئے گئے پوائنٹس سے پیچھے ہو رہی ہیں۔ ایسے میں لیفٹیننٹ جنرل وائی کے جوشی نے اہم جانکاری شیئر کی ہے۔

لداخ (Ladakh) میں چین کے ساتھ disengagement پر ہندستانی فوج (Indian Army) نے بڑا بیان دیا ہے۔ فوج نے کہا ہے کہ ہندستانی فوج کی 29-30 اگست کی کارروائی کے بعد چین کو جھکنے پر مجبور ہونا پڑا۔ سی این این نیوز 18 سے ایکسکلوزو بات چیت میں فوج نے بتایا کہ چینی فوجن کے ساتھ کیسے مسئلے کو سلجھایا گیا۔ مشرقی لداخ میں ہندستان اور چین (India-China Standoff) کے درمیان جاری تنازعہ کے بیچ اب کئی جگہوں پر (disengagement) کس عمل شرو ہو گیا ہے۔ گزشتہ سال مئی سے آمنے۔سامنے رہیں ہندستان اور چین کی فوج اب دھیرے۔دھیرے طے کئے گئے پوائنٹس سے پیچھے ہو رہی ہیں۔ ایسے میں لیفٹیننٹ جنرل وائی کے جوشی نے اہم جانکاری شیئر کی ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل وائی کے جوشی (Lieutenant General Yogesh Kumar Joshi) نے بتایا کہ دس فروری کو پینگانگ تسو میں ڈس انگیجمینٹ (disengagement) کا عمل چل رہا ہے۔ دونوں فوجیں اسے چار اسٹیپ کریں گی۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک دونوں فریق بختر بند گاڑیاں، ٹینک ڈس انگیج کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا تیسرے چوتھے مرحلے میں کیلاش رینج ریزانگ میں پیدل فوج کے جوان ہٹیں گے۔ جوشی نے آگے کہا کہ دونوں ممالک کے فوجی افسران ایک دوسرے سے بات کر رہے ہیں۔ اگر کوئی شک ہوتا ہے تو اس پر بات کرتے رہیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ امید تو نہیں تھی لیکن جو ہندستانی فوج نے اگست میں کیا اس کی وجہ سے یہ ٹرننگ پوائنٹ تھا۔ اس کے بیچ چینی فوج لیول پر آئی اور پھر (disengagement) کی شروعات ہوئی۔

چار اسٹیپ میں پوری ہوگی پیچھے ہٹنے کا عمل

سی این این نیوز 18 سے ایکسکلوزو بات چیت میں ناردن کمانڈ کے چیف لیفٹیننٹ جنرل وائی کے جوشی نے کہا کہ دس فروی سے دونوں کی فوج کی واپسی کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چار اسٹیپ میں دونوں کی فوجیں پیچھے ہٹیں گی۔ چیف لیفٹیننٹ جنرل وائی کے جوشی نے کہا، چار اسٹیپ میں ڈس انگیجمینٹ کا عمل پورا ہوگا۔ پہلے دو مرحلوں میں بند بختربند گاڑیاں اور ٹینک پیچھے ہٹائے جا چکے ہیں۔ دونوں جانب سے ایسا کیا ہے۔ تیسرے مرحلے میں پیدل فوج پیچھے ہٹے گی اور چوتھے مرحلے میں کیلاش رینج میں تعینات جوانوں کو پیچھے ہٹایا جائے گا۔


ایسے لیول پر آیا چین
لیفٹیننٹ جنرل وائی کے جوشی نے کہا کہ چین کے پیچھے ہٹنے پر تھوڑی حیرانی تو ہوتی ہے کیونکہ اتنی جلدی اس کی امید نہیں تھی۔ انہوں نے کہا، امید تو نہیں تھی لیکن ہندستانی فوج نے 29-30 اگست کی رات کو LAC پر جو کیا تھا وہ ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا۔ اس کے بعد چین لیول پر آکر مانا اور پھر ڈس انگیجمینٹ کے عمل کیلئے مانا۔
چین اور ہندستان کے درمیان کشدگی میں کمی آنے کے بعد ڈریگن پینگانگ جھیل کے شمالی اور جنوبی کنارے سے اپنے فوجیوں کو اور دیگر ساز و سامان کو ہٹا رہی ہے۔ ہندستانی فوج چین کی ایک۔ایک حرکت پر سخت نظر بنائے ہوئے۔ ناردن کمانڈ کے چیف لیفٹیننٹ جنرل وائی کے جوشی (Lieutenant General Yogesh Kumar Joshi) نے آج سی این این نیوز 18 کے ساتھ ایکسکلوزو بات چیت میں بتایا کہ کیسے ہندستانی فوج نے مشکل حالات میں ڈریگن کو ٹکر دی۔ انہوں نے بتایا کہ کئی مرتبہ فوج کے جوانوں نے جگاڑ تکنیک کا استعمال کرکے مشکلوں پر فتح پائی۔
اتنی اونچائی پر ٹینک سوچا نہیں تھا
لیفٹیننٹ جنرل وائی کے جوشی (Lieutenant General Yogesh Kumar Joshi) نے کہا، کسی نے کچھی سوچا نہیں ہوگا کہ اتنی اونچائیوں پر ٹینک ہوں گے۔ میں نے اپنی پوری زندگی لداخ میں، بریگیڈ، ڈویژن، شریک علاقوں کی کمان سنبھالنے میں گزارا۔ 5 مئی سے پہلے میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ ایسے حالات ہوں گے جس میں مشرقی لداخ میں اس طرح کا موومینٹ ہو رہا ہے۔ فورس، گولہ بارود، کوچ، توپ سب کچھ ہم ایل او سی کے پاس لیک گئے یہ انتہائی ناقابل تصور تھا۔ جوانوں نے پوری ہمر کے ساتھ اس کام کو انجام دیا۔
پانی بنا فوج کیلئے بڑا چیلنج۔۔۔
فوج کے ایک افسر نے کہا، شروعات میں سرحد پر پانی فوجیوں کیلئے ایک بڑا چیلنج تھا۔ پانی لانے کیلئے پہاڑوں پر چرحنا ایک مشکل کام ہے۔ شروع میں ہمیں فوجیوں کیلئے بوتل بند پانی ملا۔ اس کے بعد ہم نے انجینیئروں کو کام پر لگایا ہے اور ہم تقریبا بیس بورویلوں کو کھودنے میں کامیاب ہوئے۔

جگاڑ نے بنائے سارے کام!
انہوں نے کہا کہ چینی فوج کو پیچھے بھگانے اور ایل او سی پر سہولیات کا انتظام کرنے کیلئے فوج کے جوانوں کے کئی طرح کے جگاڑ کئے۔ انہوں نے کہا، پانی کیلئے ٹینک کو اتنی اونچائی پر پہنچانے کیلئے کئی طرح کے طریقے اپنائے گئے کیونکہ مشکل حالات میں ایک روایتی طریقے سے کام کرنا بڑا چیلنج تھا۔
Published by: Sana Naeem
First published: Feb 18, 2021 12:43 PM IST