உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    China-Pakistan کے مشترکہ بیان کو ہندوستان نے کیا مسترد، کہا- قبضہ والے علاقے میں اپنی سرگرمیاں روک دی جائیں

    حال ہی میں عمران خان چین کے دورے پر گئے تھے۔ اس کے بعد، دونوں ممالک نے 6 فروری کو ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے کہا، ’پاکستانی فریق نے چینی فریق کو جموں و کشمیر کی صورتحال پر تازہ ترین پیش رفت سے آگاہ کیا ہے۔

    حال ہی میں عمران خان چین کے دورے پر گئے تھے۔ اس کے بعد، دونوں ممالک نے 6 فروری کو ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے کہا، ’پاکستانی فریق نے چینی فریق کو جموں و کشمیر کی صورتحال پر تازہ ترین پیش رفت سے آگاہ کیا ہے۔

    حال ہی میں عمران خان چین کے دورے پر گئے تھے۔ اس کے بعد، دونوں ممالک نے 6 فروری کو ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے کہا، ’پاکستانی فریق نے چینی فریق کو جموں و کشمیر کی صورتحال پر تازہ ترین پیش رفت سے آگاہ کیا ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی:ہندوستان نے پاکستان (Pakistan)کے وزیر اعظم عمران خان(Imran Khan) کے دورہ بیجنگ کے دورہ پاک چین مشترکہ بیان کو مسترد کر دیا ہے۔ ہندوستان نے چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) اور کشمیر پر دیے گئے بیانات پر اعتراض کیا ہے۔ ہندوستان نے کہا کہ پاکستان اور چین کو ایسی کارروائیوں سے باز آنا چاہیے اور غیر قانونی طور پر مقبوضہ علاقے میں اپنی سرگرمیاں بند کرنی چاہئیں۔

      وزارت خارجہ نے کہا کہ جموں و کشمیر اور لداخ ہندوستان کا اٹوٹ اور لازم و ملزوم حصہ تھے، ہیں، اور رہیں گے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان ارندم باغچی نے CPEC پر کہا، ’ہم نے ہمیشہ چین اور پاکستان کے ساتھ نام نہاد CPEC کے منصوبوں پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے، جو ہندوستانی علاقے میں ہیں اور جن پر پاکستان کا غیر قانونی قبضہ ہے۔‘

      انہوں نے کہا، ’ہم دوسرے ممالک اور پاکستان کی طرف سے پاکستان کے غیر قانونی قبضے کے تحت جگہوں پر جمود کو تبدیل کرنے کی کسی بھی کوشش کی سختی سے مخالفت کرتے ہیں۔‘ ہم متعلقہ فریقوں سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ایسی سرگرمیوں کو روکیں۔

      آپ کو بتادیں کہ حال ہی میں عمران خان چین کے دورے پر گئے تھے۔ اس کے بعد، دونوں ممالک نے 6 فروری کو ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے کہا، ’پاکستانی فریق نے چینی فریق کو جموں و کشمیر کی صورتحال پر تازہ ترین پیش رفت سے آگاہ کیا ہے۔ چینی فریق نے اس بات کا اعادہ کیا کہ مسئلہ کشمیر ایک ایسا تنازع ہے جو ماضی سے چلا آ رہا ہے اور اسے مناسب اور پرامن طریقے سے حل کیا جانا چاہیے۔ چین کسی بھی یکطرفہ اقدام کی مخالفت کرتا ہے جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو۔‘

      سرکاری خبر رساں ایجنسی ژنہوا کے مطابق، چین کے صدر شی جن پنگ نے عمران خان کے ساتھ اپنی ملاقات میں کہا کہ چین سی پیک کی مکمل ترقی کی جانب آگے بڑھنے کے لیے پاکستان کے ساتھ ہاتھ ملانے کے لیے تیار ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: