ہوم » نیوز » No Category

ایکسکلوزو: چیف لیفٹیننٹ جنرل وائی کے جوشی کا انٹرویو، ہندستان نے چین کے ساتھ جنگ کو ٹالا، ہم جنگ کی کگار پر تھے

ہندستانی فوج (Indian Army) کے ناردن کمانڈ کے چیف لیفٹیننٹ جنرل وائی کے جوشی (Lieutenant General Yogesh Kumar Joshi) نے اس ہندستان۔چین مسئلے پر رد عمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے صاف طور پر کہا کہ ہندستان نے چین کے ساتھ جنگ کو ملتوی کیا ہے۔ دونوں ممالک جنگ کی کگار پر تھے۔

  • Share this:
ایکسکلوزو:  چیف لیفٹیننٹ جنرل وائی کے جوشی کا انٹرویو، ہندستان نے چین کے ساتھ جنگ کو ٹالا، ہم جنگ کی کگار پر تھے
دونوں ممالک جنگ کی کگار پر تھے۔

لداخ میں ایل اے سی (LAC) پر تقریبا ایک سال سے جاری کشیدگی کے بعد چینی فوج  (China) اب پیچھے جا رہی ہے۔ یہ ہندستان کی بڑی اسٹریٹجک جیت مانی جا رہی ہے۔  اس درمیان ہندستانی فوج  (Indian Army)  کے  ناردن کمانڈ کے چیف لیفٹیننٹ جنرل وائی کے جوشی (Lieutenant General Yogesh Kumar Joshi) نے اس ہندستان۔چین مسئلے پر رد عمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے صاف طور پر کہا کہ ہندستان نے چین کے ساتھ جنگ کو ملتوی کیا ہے۔ دونوں ممالک جنگ کی کگار پر تھے۔

سی این این نیوز 18CNN-News18  سے ایکسکلوزو بات چیت میں لیفٹیننٹ جنرل وائی کے جوشی نے کہا، مشرقی لداخ میں چین کے ساتھ تقریبا نو ماہ سے جاری کشیدگی کے دوران کئی اتار چڑھاؤ آئے لیکن چین۔ہندستان گزشتہ سال 31 اگست کو جنگ کے قریب آگئے تھے۔ ایسا تب ہوا تھا جب ہندستان نے کیلاش رینج کے پہاڑوں پر 29 اور 30  اگست کو پاؤں جما لئت تھے یہ حکمت عملی کے طور پر مضبوط رھا۔ ہندستان کے اس اچانک سے  اٹھائے گئے قدم سے چین پریشان ہو گیا تھا۔ چینی فوج نے اس کیلئے ہندستان کے خلاف آپریشن شروع کئے۔


ناردن آرمی کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل وائی کے جوشی نے کہا، گلوان وادی مسئلہ ہو چکا تھا ور لال ریکھا کھینچی جا سکی تھی۔ ہمیں اپنی طرح سے مہم کو انجام دینے کیلئے پوری طرح سے آزاد تھے۔ اس لمحہ جب آپ دشمن کو اوپر آنے کی کوشش کرے ہوئے دیکھتے ہیں۔ میرے ٹینک مین، گنر، راکیٹ لانچر سب یہی دیکھ رہے تھے۔ ان کیلئے سب سے آسان کام اس وقت تھا جو وہ کرنے کیلئے تربیت یافتہ ہیں۔ ٹریگر کو کھینچے۔ اس کیلئے کسی ہمت کی ضرورت نہیں ہے لیکن ہمت کیلئے سب سے مشکل چیز ہے کہ کھلی فائرنگ نہ کی جائے، ٹریگر کو نہ کھینچا جائے۔ اس لئے ہمیں بہت واضح ہونا چاہئے کہ ایک وقت تھا جب جنگ واقعی میں ٹل گیا تھا۔ ہم جنگ کی کگار پر تھے۔


31 اگست 2020 کو جب چینی فوج کیلاش رینج پر اپنا قبضہ کرنا چاہ رہی تھی اسی وقت صورتحال کافی کشیدہ ہوگئی تھی۔ انٹرویو کے دوران ناردن آرمی کمانڈر نے چین کی طرف ہوئی اموات کا جائزہ بھی لیا۔ انہوں نے یہ تعداد تقریبا 45 بتائی۔ یہ پہلی مرتبہ ہے جب فوج نے چینی فوجیوں کے مرنے کی تعداد پر بات چیت کی۔

فوج نے بتایا کہ چینی فوجن کے ساتھ کیسے مسئلے کو سلجھایا گیا۔ مشرقی لداخ میں ہندستان اور چین (India-China Standoff) کے درمیان جاری تنازعہ کے بیچ اب کئی جگہوں پر (disengagement) کس عمل شروع ہو گیا ہے۔ گزشتہ سال مئی سے آمنے۔سامنے رہیں ہندستان اور چین کی فوج اب دھیرے۔دھیرے طے کئے گئے پوائنٹس سے پیچھے ہو رہی ہیں۔ ایسے میں لیفٹیننٹ جنرل وائی کے جوشی نے اہم جانکاری شیئر کی ہے


شمالی لداخ (Northern Ladakh) میں مئی 2020 سے چین اور ہندستان کے درمیان جاری تنازعہ پر ناردن کمانڈ کے چیف لیفٹیننٹ جنرل وائی کے جوشی (Lieutenant General Yogesh Kumar Joshi) نے کہا کہ گلوان وادی (Galwan Valley) کی جھڑپ کے بعد پچاس چینی فوجیوں کو گاڑیوں کے ذریعے لے جایا گیا تھا۔ جوشی نے کہا کہ اس گلوان کی جھڑپ میں چینی فوج کے کافی لوگ مارے گئے تھے۔ جوشی نے کہا کہ چینی فوجی 50 سے زیادہ جوانوں کو گاڑیوں میں لے جا رہے تھے لیکن وہ زخمی تھے یا مرے اس کے بارے میں کہنا مشکل ہے۔ جوش نے کہا کہ روسی ایجنسی TASS نے 45 چینی جوانوں کے مارے جانے کی بات کہی ہے اور ہمارا اندازہ بی اسی کے آس۔پاس کے۔
بتادیں کہ 2020 جون میں مشرقی لداخ میں گلوان وادی (Galwan Valley) میں ہندستان اور چینی فوجیوں کے درمیان خونی جھڑپ مین تقریبا بیس ہندستانی جوان شہید ہو گئے تھے۔ اس واقعے میں چین کے بھی کئی فوجی مارے گئے تھے لیکن چین نے اسے لیکر کوئی آفیشیل اعدادوشمار جاری نہیں کیا تھا۔ جوشی نے بتایا کہ 10 فروری کو پینگونگ تسو میں ڈس انگیجمینٹ کا عمل چل رہا ہے۔ دونوں فوجیں اسے چار اسٹیپ میں مکمل کریں گی۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک دونوں فریق بختر بند گاڑیاں، ٹینک ڈس انگیج کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا تیسرے چوتھے مرحلے میں کیلاش رینج ریزانگ میں پیدل فوج کے جوان ہٹیں گے۔ جوشی نے آگے کہا کہ دونوں ممالک کے فوجی افسران ایک دوسرے سے بات کر رہے ہیں۔ اگر کوئی شک ہوتا ہے تو اس پر بات کرتے رہیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ امید تو نہیں تھی لیکن جو ہندستانی فوج نے اگست میں کیا اس کی وجہ سے یہ ٹرننگ پوائنٹ تھا۔ اس کے بیچ چینی فوج لیول پر آئی اور پھر (disengagement) کی شروعات ہوئی۔

29-30 اگست کو ہندستان۔چین کے درمیان کیا ہوا تھا؟
جوشی نے اگست میں ہوئے تنازعہ کو لیکر کہا کہ ہمارے جوانوں نے 29-30 اگست کو ریجان لا کی اونچائی والے علاقوں میں قبضہ کر لیا۔ ہمارے ٹینک پورے علاقے میں قبضہ کر چکے تھے۔ ہمارے ٹینک اوپر تھے اور چین کی جانب سے بھی ٹینک آ رہا تھا۔ ٹینک کے ٹیلی اسکوپ میں ہمارے جوان دیکھ رہے تھے کہ چینی ٹینک آرہے ہیں۔ ایسی صورتحال میں جوانوں کو سیدھے فائرنگ کی اجازت ہوتی ہے لیکن ہم نے صبر و تحمل سے کام لیا اور علاقے پر قبضہ بنائے رکھا۔ ہاں ٹینشن ضرور تھی لیکن ہم نے جنگ جیسی صورتحال پیدا نہیں ہونے دی۔

اتنی اونچائی پر ٹینک سوچا نہیں تھا
لیفٹیننٹ جنرل وائی کے جوشی (Lieutenant General Yogesh Kumar Joshi) نے کہا، کسی نے کچھی سوچا نہیں ہوگا کہ اتنی اونچائیوں پر ٹینک ہوں گے۔ میں نے اپنی پوری زندگی لداخ میں، بریگیڈ، ڈویژن، شریک علاقوں کی کمان سنبھالنے میں گزارا۔ 5 مئی سے پہلے میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ ایسے حالات ہوں گے جس میں مشرقی لداخ میں اس طرح کا موومینٹ ہو رہا ہے۔ فورس، گولہ بارود، کوچ، توپ سب کچھ ہم ایل او سی کے پاس لیک گئے یہ انتہائی ناقابل تصور تھا۔ جوانوں نے پوری ہمر کے ساتھ اس کام کو انجام دیا۔
Published by: Sana Naeem
First published: Feb 18, 2021 06:22 PM IST