سینیٹ میں بھی چلے گی ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی کارروائی

ٹرمپ پر دراصل اقتدار کے غلط استعمال اور پارلیمنٹ کے کام میں رکاوٹ پیدا کرنے کے الزامات کو لے کر 18 دسمبر کو ایوان میں مواخذہ چلانے کی منظوری دی گئی تھی۔

  • UNI
  • Last Updated: Jan 16, 2020 01:12 PM IST
  • Share this:
سینیٹ میں بھی چلے گی ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی کارروائی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

واشنگٹن۔ امریکہ کے ایوان زیریں کے ممبران پارلیمنٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف سینیٹ (ایوان بالا) میں مواخذے کی سماعت کی تجویز کے حق میں ووٹ دیا ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق، 435 ارکان والی ایوان زیریں میں ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی کارروائی سینیٹ میں چلائے جانے کے حق میں 228 جبکہ مخالفت میں 193 ووٹ پڑے، جس کے بعد امریکی ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پلوسی نے بدھ کو پولنگ کرانے اور مواخذے کی سماعت کی تجویز کو سینیٹ کے پاس بھیجنے کی بات کہی تھی۔


ٹرمپ پر دراصل اقتدار کے غلط استعمال اور پارلیمنٹ کے کام میں رکاوٹ پیدا کرنے کے الزامات کو لے کر 18 دسمبر کو ایوان میں مواخذہ چلانے کی منظوری دی گئی تھی، جس کے بعد اب اس معاملہ کو لے کر سینیٹ میں بھی بحث کی جائے گی جس میں اگرچہ ریپبلکن پارٹی کے ممبران پارلیمنٹ کا دبدبہ ہے۔ اس فیصلے کو لے کر  پلوسی نے جمعرات کو پریس کانفرنس میں کہا ’’آج ہم تاریخ بنائیں گے۔ ہم تاریخ میں ایک دہلیز کو پار کرنے جا رہے ہیں جس میں امریکی صدر کے خلاف طاقت کے غلط استعمال کو لے کر فیصلہ کیا جائے گا‘‘۔


وہائٹ ہاوس: فائل فوٹو، یو این آئی
وہائٹ ہاوس: فائل فوٹو، یو این آئی


قابل ذکر ہے کہ ٹرمپ پر 2020 کے صدارتی انتخابات میں ممکنہ حریف بائیڈن اور ان کے بیٹے کے خلاف بدعنوانی کی تحقیقات کے لئے یوکرین کی حکومت پر دباؤ بنانے کا الزام ہے۔ بائیڈن کے بیٹے یوکرین کی ایک توانائی کمپنی میں بڑے افسر ہیں۔  ٹرمپ اور یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے درمیان گزشتہ سال 25 جولائی کو ٹیلی فون پر ہونے والی بات چیت اس مواخذے کے لئے ایک اہم ثبوت مانی جا رہی ہے۔ امریکہ کے 45 ویں صدر ٹرمپ ملک کی تاریخ کے تیسرے ایسے صدر ہیں جن کے خلاف مواخذے کی منظوری دی گئی ہے۔
First published: Jan 16, 2020 01:12 PM IST