உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سری لنکا میں بڑھ گیا بحران- ایک کپ چائے 100 روپے اور بریڈ کا پیکیٹ 150 روپے میں مل رہا، ڈالر کے مقابلے 46 فیصد گری کرنسی

    زبردست مہنگائی کی مار جھیل رہا ہے پڑوسی ملک سری لنکا۔

    زبردست مہنگائی کی مار جھیل رہا ہے پڑوسی ملک سری لنکا۔

    مارچ میں ہی ایک ڈالر کی قیمت 201 سری لنکن روپے سے بڑھ کر 295 سری لنکن روپے ہو گئی ہے۔ اس کی وجہ سے سری لنکا میں مہنگائی بڑھ رہی ہے۔ آج ہم آپ کو بتا رہے ہیں کہ ڈالر کے مقابلے کسی بھی ملک کی کرنسی کا تعین کیسے ہوتا ہے اور ڈالر کے مقابلے اس کرنسی کے کمزور ہونے سے کیا ہوتا ہے۔

    • Share this:
      کولمبو: ہندوستان کا جنوبی ہمسایہ ملک سری لنکا اپنی آزادی کے بعد سب سے شدید معاشی بحران کا سامنا کر رہا ہے۔ یہاں مہنگائی کی شرح 17 فیصد سے تجاوز کر گئی ہے۔ چائے کا ایک کپ بھی 100 روپے تک پہنچ گیا ہے۔ بریڈ کے ایک پیکٹ کے لیے 150 سری لنکن روپے ادا کرنے پڑتے ہیں۔ سری لنکا میں مہنگائی میں اضافے کی ایک بڑی وجہ ڈالر کے مقابلے سری لنکن روپے کا کمزور ہونا بھی ہے۔ مارچ کے مہینے میں ہی سری لنکن روپے کی قدر ڈالر کے مقابلے میں 46 فیصد تک گر گئی ہے۔

      مارچ میں ہی ایک ڈالر کی قیمت 201 سری لنکن روپے سے بڑھ کر 295 سری لنکن روپے ہو گئی ہے۔ اس کی وجہ سے سری لنکا میں مہنگائی بڑھ رہی ہے۔ آج ہم آپ کو بتا رہے ہیں کہ ڈالر کے مقابلے کسی بھی ملک کی کرنسی کا تعین کیسے ہوتا ہے اور ڈالر کے مقابلے اس کرنسی کے کمزور ہونے سے کیا ہوتا ہے۔

      کیسے طے ہوتی ہے ڈالر کے مقابلے دوسرے ملک کی کرنسی کی قیمت؟
      اگر کسی دوسری کرنسی کی قدر ڈالر کے مقابلے میں کم ہو جائے تو اسے اس کرنسی کا گرنا، ٹوٹنا، کمزور ہونا کہا جاتا ہے۔ انگریزی میں اسے کرنسی ڈیپریشی شن کہتے ہیں۔ ہر ملک کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر ہوتے ہیں، جہاں سے وہ بین الاقوامی لین دین کرتا ہے۔ اس ملک کی کرنسی کی چال کا فیصلہ زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی اور اضافے سے ہوتا ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      Sri Lanka میں بحران، چینی 290 تو چاول 500 روپے کلو، پٹرول پمپوں فوج تعینات، جانیے وجہ

      اگر ہندوستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں ڈالر امریکی روپے کے ذخائر کے برابر ہے تو روپے کی قدر مستحکم رہے گی۔ ہمارے ہاں ڈالر کم ہوگا تو روپیہ کمزور ہوگا، بڑھے گا تو روپیہ مضبوط ہوگا۔ اسے فلوٹنگ ریٹ سسٹم کہا جاتا ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      رمضان سے پہلے Saudi Arabia میں اونٹ کی نیلامی! اتنے کروڑ میں لگی بولی، جانیے خاصیت

      پوری دنیا میں ایک جیسا کرنسی ایکسچینج سسٹم
      فاریکس مارکیٹ میں روپے کے بدلے مختلف ممالک کی کرنسیوں کی شرح تبادلہ طے کی جاتی ہے۔ اگر ڈالر کے مقابلے روپے کی قیمت میں اتار چڑھاؤ آتا ہے تو اس کا براہ راست اثر فاریکس مارکیٹ پر نظر آتا ہے، کیونکہ اسی کی بنیاد پر ملک کے عوام بیرونی منڈیوں سے لین دین کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ سب سے پہلے برآمد کنندگان اور درآمد کنندگان متاثر ہوتے ہیں۔ ہر ملک کی اپنی فاریکس مارکیٹیں ہیں، لیکن سب ایک ہی طریقے سے کام کرتے ہیں۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: