உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Moqtada Sadr: بغداد میں صدارتی محل پر دھاوے، جھڑپوں کے دوران 12 افراد ہلاک

    صدر کے 12 حامیوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا ہے

    صدر کے 12 حامیوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا ہے

    Moqtada Sadr quitting politics: اے ایف پی کے نمائندے نے بتایا کہ قلعہ بند علاقے میں گولیاں چلائی گئیں جس میں سرکاری عمارتوں کے ساتھ ساتھ سفارتی مشن کے اہلکار بھی موجود تھے۔ بغداد میں ایک بڑھتے ہوئے سیاسی بحران کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • inter, IndiaBaghdadBaghdadBaghdadBaghdad
    • Share this:
      Moqtada Sadr quitting politics: پیر کے روز بغداد کے گرین زون میں مقتدی صدر (Moqtada Sadr) کے حامیوں کی جانب سے صدارتی محل پر دھاوا بولنے کے بعد 12 مظاہرین مارے گئے جب طاقتور شیعہ رہنما نے کہا کہ وہ سیاست چھوڑ رہے ہیں۔

      اے ایف پی کے ایک نامہ نگار اور عینی شاہدین نے بتایا کہ صدر کے پیروکاروں نے بغداد کے جنوب میں ناصریہ اور ہلہ کے شہروں میں سرکاری عمارتوں پر دھاوا بول دیا، مظاہرے بعد میں ملک کے دیگر حصوں میں پھیل گئے، ہلہ نامی شہر میں کچھ سڑکیں بھی بند کر دی گئیں۔

      افراتفری کا ماحول:

      اے ایف پی کے نمائندے نے بتایا کہ قلعہ بند علاقے میں گولیاں چلائی گئیں جس میں سرکاری عمارتوں کے ساتھ ساتھ سفارتی مشن کے اہلکار بھی موجود تھے۔ بغداد میں ایک بڑھتے ہوئے سیاسی بحران کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی۔ عراق میں مہینوں سے نئی حکومت، وزیر اعظم یا صدر کے بغیر افراتفری کا ماحول ہے، جس کی وجہ سے عام زندگی بھی متاثر ہے۔

      عراق میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن (UNAMI) نے اس پیش رفت کو بڑے خطرہ قرار دیا ہے اور تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو واقعات کے نہ رکنے والے سلسلے کا باعث بن سکتے ہیں۔

      طبی ماہرین نے اے ایف پی کو بتایا کہ صدر کے 12 حامیوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا ہے اور 270 دیگر مظاہرین زخمی ہوئے ہیں۔ عینی شاہدین نے کہا کہ اس سے قبل صدر کے وفاداروں اور حریف شیعہ بلاک کے حامیوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ فوج نے شام 7:00 بجے سے ملک بھر میں کرفیو کا اعلان کیا اور بعد میں سیکورٹی فورسز نے دارالحکومت میں گشت شروع کیا۔

      وہ مناظر جو سری لنکا حکومت مخالف مظاہروں کی یاد دلاتے ہیں:

      شاندار محل کے اندر مظاہرین ایک میٹنگ روم میں کرسیوں پر بیٹھے، کچھ مظاہرین نے عراقی جھنڈے لہرائے اور اپنی تصویریں کھینچیں اور دوسرے باغ کے ایک سوئمنگ پول میں نہاتے ہوئے نظر آئے، یہ مناظر سری لنکا میں گزشتہ ماہ ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں کی یاد تازہ کرتے ہیں۔

      یہ بھی پڑھیں: 


      عراق گزشتہ سال اکتوبر میں انتخابات کے بعد سے سیاسی تعطل کا شکار ہے، جس کی وجہ شیعہ دھڑوں کے درمیان اتحاد کی تشکیل پر اختلاف ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: