ہوم » نیوز » عالمی منظر

12 سال کی بچی کی ختنہ کے بعد موت، والدین اور ڈاکٹر کی گرفتاری کا حکم

سنہ 2016 میں، مصرکے ارکان پارلیمنٹ نے ایف جی ایم ایکٹ میں ترمیم کی تھی جس میں اسے چھوٹے جرم کے زمرے سے ہٹا کر بڑے جرم کے زمرے میں لایا گیا۔

  • Share this:
12 سال کی بچی کی ختنہ کے بعد موت، والدین اور ڈاکٹر کی گرفتاری کا حکم
حکومت نے 2015 میں ایک سروے کیا تھا، جس میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ 87 فیصد مصری خواتین کا 15 سے 49 سال کی عمر میں ختنہ کیا ہوا تھا۔

جنوبی مصر (South Egypt) میں 12 سال کی ایک بچی کی ختنے  (FGM) کے بعد موت ہوگئی۔ ایک عدالتی بیان میں کہا گیا کہ بچی کے والدین اسے اس ڈاکٹر کے پاس لے گئے تھے جو ایف جی ایم کرتا تھا۔ مصر کی پارلیمنٹ میں سال 2008 میں ایک قانون پاس کیا گیاجس کے تحت خواتین کے ختنے پر پابندی لگ گئی۔ حالانکہ اپوزیشن پارٹی نے اس کا پرزور مخالفت کی تھی۔ ملک میں ختنہ جرم ہونے کے باوجود بڑے پیمانے پر اس کی صدیوں پرانی روایت چل رہی ہے۔

جمعرات کی رات استغاثہ دفتر سے ایک بیان جاری کرکے کہا کہ صوبہ آسائٹ میں بچی کی موت کے بعد مصرکے سرکاری وکیل نے بچی کے والدین اور ختنہ کرنے والے ڈاکٹر کو گرفتار کرنے کے احکامات جاری کیے۔

حکومت نے 2015 میں ایک سروے کیا تھا، جس میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ 87 فیصد مصری خواتین کا 15 سے 49 سال کی عمر میں ختنہ ہوا تھا۔

تدوین جینڈر ریسرچ سینٹر کے مینیجنگ ڈائریکٹر المے فہمی کہتے ہیں، 'مصر میں کئی اور لڑکیوں کو ختنہ کیلئے روکا جائے گا اور ان میں سے کئی لڑکیوں کی تب تک موت ہوتی رہیں گی جب تک کہ ملک میں اس کیلئے واضح اس کے لئے کوئی واضح حکمت عملی نہیں ہوگی اور اسے جرم نہیں مانا جائے گا۔

سنہ 2016 میں، مصرکے ارکان پارلیمنٹ نے ایف جی ایم ایکٹ میں ترمیم کی تھی جس میں اسے چھوٹے جرم کے زمرے سے ہٹا کر بڑے جرم کے زمرے میں لایا گیا۔ اس سے قبل مجرموں کے لئے دو سال تک کی جیل کا بندوبست کیا گیا تھا لیکن بڑے جرم کے زمرے میں آنے کے بعد اس کے لئے سخت سزا دینے کی دفعات ہیں۔ تاہم خواتین کے حقوق کی وکیل کا کہنا ہے کہ اس قانون میں اب بھی بہت ساری خامیاں ہیں۔ حالیہ برسوں میں لڑکیوں کی ختنہ کرنے کے بعد اموات کے کئی معاملے سامنے آئے ہیں۔

First published: Feb 01, 2020 10:59 AM IST