உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    شادی کی اجازت نہ ملنے پر 128 لڑکیوں نے اہل خانہ کے خلاف عدالت سے کیا رجوع

    دبئي : ملک بھر میں شخصی امور کی عدالتوں میں ایسے 128 معاملے زیر غور ہیں ، جن میں سعودی لڑکیوں نے شادی کے لئے درخواست کی ہے ، جنہيں ان کے اہل خانہ نے اب تک ایسا کرنے سے باز رکھا ہے۔

    دبئي : ملک بھر میں شخصی امور کی عدالتوں میں ایسے 128 معاملے زیر غور ہیں ، جن میں سعودی لڑکیوں نے شادی کے لئے درخواست کی ہے ، جنہيں ان کے اہل خانہ نے اب تک ایسا کرنے سے باز رکھا ہے۔

    دبئي : ملک بھر میں شخصی امور کی عدالتوں میں ایسے 128 معاملے زیر غور ہیں ، جن میں سعودی لڑکیوں نے شادی کے لئے درخواست کی ہے ، جنہيں ان کے اہل خانہ نے اب تک ایسا کرنے سے باز رکھا ہے۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      دبئي : ملک بھر میں شخصی امور کی عدالتوں میں ایسے 128 معاملے زیر غور ہیں ، جن میں سعودی لڑکیوں نے شادی کے لئے درخواست کی ہے ، جنہيں ان کے اہل خانہ نے اب تک ایسا کرنے سے باز رکھا ہے۔


      وزارت انصاف کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شادی کے لئے سعودی لڑکیوں کی عرضیوں کی یہ تعداد گزشتہ چار مہینوں کے دوران موصول ہوئي ہے، جبکہ ایسے بے شمار معاملے ہیں جو سعودی عرب میں رائج سماجی روایات کی وجہ سے عدالتوں تک نہيں پہنچ پاتے ہیں۔


      منگل کے روز ایک مقامی روزنامہ میں شائع رپورٹ کے مطابق بہت سارے والدین اپنی بیٹیوں کو صرف اس بنا پر شادی سے باز رکھتے ہیں، کیونکہ جن نوجوانوں کی طرف سے ان کے رشتے کا پیغام آتا ہے وہ انہيں موزوں خیال نہیں کرتے ہیں۔


      وزارت انصاف کی رپورٹ میں بتایا گيا ہے کہ ملک بھر میں 10 عدالتوں میں ایسے معاملے زیر غور ہیں، جن میں مکہ مکرمہ اول مقام پر ہے ، جہاں 45 معاملے درج کئے گئے ہیں ، جبکہ ریاض دوسرے مقام پر ہے۔ مشرقی صوبہ میں 24 معاملے درج ہیں، مدینہ میں 13، القصیم میں سات، عسیر میں پانچ، تبوک اور حائل میں دو نیز جازان اور الابہا میں ایک ایک معاملے موصول ہوئے ہیں۔


      پیشہ ور وکیل اور تفتیشی بیورو کے سابق رکن ابراہیم البدوی کا کہنا ہے کہ موجودہ وقت میں زیادہ لڑکیوں کی طرف سے عرضیاں دی جارہی ہيں، کیونکہ وہ پہلے کے مقابلے میں اپنے حقوق سے زیادہ باخبر ہیں اور گھریلو تشدد کے معاملوں میں عدالتی فیصلوں کے سبب ان میں کافی بیداری آئی ہے۔


      انہوں نے کہا کہ وزارت انصاف یہ یقینی بنارہی ہے کہ والدین اور اہل خانہ، بالخصوص مرد حضرات گھر کی نوجوان لڑکیوں کو شادی کرنے سے نہ روک سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ قوانین کے تحت خواتین اپنے سرپرستوں کے بغیر عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹا سکتی ہیں۔

      First published: