உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کابل دھماکوں سے جڑے کیرل کے 14 لوگوں کے تار، دو پاکستانی بھی حراست میں: رپورٹ

    کابل دھماکوں سے جڑے کیرل کے 14 لوگوں کے تار، دو پاکستانی بھی حراست میں: رپورٹ

    کابل دھماکوں سے جڑے کیرل کے 14 لوگوں کے تار، دو پاکستانی بھی حراست میں: رپورٹ

    Kabul Airport Blast: خفیہ رپورٹ کے مطابق، کیرلا کے 14 لوگ افغانستان میں اسلامک اسٹیٹ کے خراسان ماڈیول کا حصہ ہیں۔ یہ لوگ 2014 میں ملپ پورم، کاسرگوڑ اور کنور ضلع سے بھاگ کر موسل میں آئی ایس آئی ایس سے وابستہ ہوگئے تھے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: افغانستان (Afghanistan) کی راجدھانی کابل (Kabul) میں ایئرپورٹ پر دھماکہ کرنے والے دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ آف خراسان پروونس (ISKP) میں کیرلا کے 14 لوگ شامل ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ ان لوگوں کو طالبان نے بگرام جیل سے رہا کیا تھا۔ اس کے علاوہ ترکمانستان کے سفارت خانہ (Turkmenistan Embassy) پر حملے کی کوشش کر رہے دو پاکستانیوں کے بھی حراست میں ہونے کی خبر ہے۔ کابل ایئر پورٹ پر ہوئے دھماکہ میں 13 امریکی فوجیوں سمیت 200 سے زیادہ لوگوں کی موت ہوگئی تھی۔

      ہندوستان ٹائمس کی رپورٹ کے مطابق، کیرلا کے 14 رہائشی افغانستان میں آئی ایس کے پی کا حصہ بنے ہیں۔ یہ سمجھا جا رہا ہے کہ ان 14 کیرل کے باشندوں میں سے ایک نے اپنے گھر سے رابطہ کیا تھا، جبکہ 13 کا اب تک کوئی پتہ نہیں ہیں۔ سال 2014 میں موصل میں خود کو اسلامک اسٹیٹ کہنے والے دہشت گرد تنظیم کا قبضہ ہونے کے بعد ملپ پورم، کاسرگوڑ اور کنور اضلاع سے ایک گروپ جہادیوں کے ساتھ شامل ہونے کے لئے ہندوستان چھوڑ کر بھاگ گیا تھا۔ ان میں سے کچھ فیملی آئی ایس کے پی کے تحت افغانستان کے ننگرہار صوبہ میں رہنے لگے تھے۔

      رپورٹ کے مطابق، ہندوستان اس بات کو لے کرفکر مند ہے کہ طالبان اور اس کے ساتھی ان شدت پسند کیرل کے باشندوں کا استعمال کرکے ہندوستان کی شبیہ کو نقصان پہنچائیں گے۔ حالانکہ، طالبان نے ابھی تک اس معاملے پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے، لیکن خفیہ رپورٹس دکھاتی ہیں کہ 26 اگست کو کابل ایئرپورٹ پر دھماکہ ہونے کے بعد ہی ان پاکستانی شہریوں سے آئی ای ڈی برآمد ہوا تھا۔

      رپورٹ میں افغانستان سے آرہی رپورٹس کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ کابل حقانی نیٹ ورک کے کنٹرول میں ہے، کیونکہ پاکستان کی سرحد سے متصل ننگہار صوبہ میں زادران قبیلے کا اثر ہے اور اس کے علاوہ جلال آباد - کابل میں وہ موثر ہیں۔ ہندوستان ٹائمس کی رپورٹ کے مطابق، آئی ایس کے پی پہلے بھی ننگہار صوبہ میں حقانی نیٹ ورک کے ساتھ کام کرچکا ہے۔

      کہا جا رہا ہے کہ پاکستان حقانی نیٹ ورک کی مدد کے ساتھ عالمی سطح پر منظوری حاصل کرنے کے مقصد سے طالبان پر 12 رکنی کمیٹی بنانے کا دباو ڈال رہا ہے، لیکن ملا یعقوب کے حامیوں کا گروپ اس کے لئے خواہاں نہیں ہے۔ وہیں، افغانستان کے پڑوسی ملک طالبان کے ساتھ اپنے کسی تعلقات پر غوروخوض کرنے سے پہلے 31 اگست کو امریکہ کے باہر جانے کا انتظار کر رہے ہیں۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: