فلسطین : مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کے حملہ میں 18 سالہ فلسطینی نوجوان کی موت

اسرائیلی فوج نے مغربی کنارے کے علاقے میں فائرنگ کی ، جس میں ایک 18 سالہ فلسطینی نوجوان کی موت ہو گئی ۔

Dec 01, 2019 05:10 PM IST | Updated on: Dec 01, 2019 05:12 PM IST
فلسطین : مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کے حملہ میں 18 سالہ فلسطینی نوجوان کی موت

فائل فوٹو، رائٹرز۔

اسرائیلی فوج نے مغربی کنارے کے علاقے میں فائرنگ کی ، جس میں ایک 18 سالہ فلسطینی نوجوان کی موت ہو گئی ۔ فلسطین کی وزارت صحت نے ہفتہ کو یہ اطلاع دی ۔ وزارت صحت نے مقامی سول سوسائٹی کے حوالہ سے بتایا کہ مارے گئے نوجوان کی شناخت 18 سالہ خالد بداوی مسلمه کے طور پر کی گئی ہے۔

مقامی ہلال احمر سوسائٹی کی ترجمان ارب الفقاحہ نے بتایا کہ الخلیل علاقہ کے بیت اویٰ میں یہ فائرنگ ہوئی ۔ شدید زخمی خالد بداوی مسلمہ کو علاج کے لئے نہیں لے جایا گیا جس کی وجہ سے اس کی موت ہو گئی ۔ ترجمان کے مطابق اسرائیلی سیکوریٹی فورسز نے زخمی نوجوان کو اسپتال لے جا رہی ایمبولینس کو آگے نہیں بڑھنے دیا۔ وقت پر علاج نہیں ملنے کی وجہ سے شدید زخمی فلسطینی نوجوان کی موت ہو گئی۔ ادھر اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ بیت اویٰ علاقہ میں تین افراد نے بم پھینکے اور توڑ پھوڑ کی جن کو ٹارگٹ کرکے گولیاں چلائی گئیں ۔ اس کے علاوہ دو افراد کو حراست میں بھی لیا گیا ہے۔

Loading...

اسرائیل میں نیتن یاہو کے خلاف شدید احتجاج

ادھر اسرائیل کے تل ابیب میں ہزاروں لوگوں نے وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے استعفی کیلئے احتجاج و مظاہرہ کیا اور ریلی نکالی ۔ اسرائیل کے اخبار’ هارٹز‘ کے مطابق ریلی میں مقررین نے نیتن یاہو کے خلاف چل رہی قانونی کارروائیوں پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے تقریریں کیں ۔ ان قانونی كارروئیوں کی وجہ سے وزیر اعظم سے استعفیٰ کی مانگ کی جا رہی ہے۔ مہنگے تحائف قبول کرنے کے معاملہ میں نیتن یاہو کے ملوث ہونے کی تحقیقات کے بعد اٹارنی جنرل اویچائی مینڈل بلیٹ نے ان پر بدعنوانیوں کے الزامات عائد کئے ۔ اخبار کے مطابق ریلی کو غیر سرکاری تنظیم ’موومنٹ فار کوالٹی گورنمنٹ‘ نے منعقد کیا اور اس میں قریب 5000 لوگ شامل ہوئے۔

یاہو کی حمایت میں بھی نکلی تھی ریلی

خیال رہے کہ کچھ دن پہلے تل ابیب میں نیتن یاہو کی حمایت میں بھی ایک چھوٹی ریلی نکالی گئی تھی۔ منگل کو ہونے والی اس ریلی میں تقریبا 2000 سے 3000 لوگ شامل ہوئے تھے ، جن میں سے بیشتر نیتن یاہو کی پارٹی کے کارکنان تھے ۔ اسرائیل کی سیاست میں نیتن یاہو کی پکڑ کچھ عرصے سے ڈھیلی پڑ گئی ہے ۔ اگر نیتن یاہو کی دائیں بازو کی پارٹی اور اپوزیشن بلیو اینڈ وائٹ اتحاد 11 دسمبر تک حکومت کی تشکیل کرنے میں کامیاب نہیں ہوتا ہے تو اسرائیلی پارلیمنٹ کو تحلیل کیا جا سکتا ہے۔

Loading...