میانمار میں پرتشدد کارروائیوں کی وجہ سے 22 ہزار روہنگیا مسلمان بنگلہ دیش میں پناہ لینے پر مجبور

اقوام متحدہ۔ گزشتہ ہفتے تقریباً بائیس ہزار روہنگیا مسلمان میانمار میں جاری پرتشدد کارروائیوں کی وجہ سے فرار ہو کر بنگلہ دیش میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔

Jan 11, 2017 11:11 AM IST | Updated on: Jan 11, 2017 11:11 AM IST
میانمار میں پرتشدد کارروائیوں کی وجہ سے 22 ہزار روہنگیا مسلمان بنگلہ دیش میں پناہ لینے پر مجبور

فائل فوٹو: رائٹرز

اقوام متحدہ۔ گزشتہ ہفتے تقریباً بائیس ہزار روہنگیا مسلمان میانمار میں جاری پرتشدد کارروائیوں کی وجہ سے فرار ہو کر بنگلہ دیش میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ میانمار کی شورش زدہ ریاست راخین سے فرار ہو کر بنگلہ دیش میں پناہ لینے والے روہنگیا مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ یہ اطلاع پیر کے روز اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر برائے ہیومینیٹیرین امور کی جانب سے جاری کردہ ہفتہ وار رپورٹ میں دی گئی ہے جس کے مطابق گزشتہ برس اکتوبر سے اب تک راخین سے فرار ہو کر بنگلہ دیش پہنچنے والے روہنگیا مسلمانوں کی تعداد 65 ہزار تک پہنچ چکی ہے۔

یہ رپورٹ ایک ایسے موقع پر سامنے آئی ہے، جب اقوام متحدہ کے مندوب برائے انسانی حقوق ینگی لی بارہ روز تحقیقاتی دورے پر میانمار پہنچے ہوئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پانچ جنوری تک میانمار سے بنگلہ دیش ہجرت کرنے والوں کی اس تعداد میں روز بہ روز اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بنگلہ دیش پہنچنے والے یہ روہنگیا مختلف عارضی مہاجر کیمپوں، خیمہ بستیوں اور مقامی افراد کے گھروں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا الزام ہے کہ میانمار کی فوج روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام، لوٹ مار اور جنسی زیادتیوں میں ملوث ہے۔

میانمار کی نوبل امن انعام یافتہ رہنما آن سانگ سوچی کو اسی تناظر میں شدید بین الاقوامی تنقید کا سامنا بھی ہے۔ بین الاقوامی امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ اب جب کہ میانمار پر آن سانگ سوچی کی جماعت کی حکومت ہے، سوچی اس انسانی بحران کو حل کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہیں۔

Loading...

Loading...