உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ممبئی دہشت گردانہ حملہ : مشتبہ افراد کی آواز کے نمونے سے متعلق درخواست مسترد

    اسلام آباد: ممبئی حملے کی سماعت کے دوران اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکومت کی اس درخواست کو مسترد کر دیا ہے ، جس میں 26/11 کے سرغنہ ذکی الرحمن لکھوی اور چھ دیگر مشتبہ افراد کی آواز کے نمونے مانگے گئے تھے۔

    اسلام آباد: ممبئی حملے کی سماعت کے دوران اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکومت کی اس درخواست کو مسترد کر دیا ہے ، جس میں 26/11 کے سرغنہ ذکی الرحمن لکھوی اور چھ دیگر مشتبہ افراد کی آواز کے نمونے مانگے گئے تھے۔

    اسلام آباد: ممبئی حملے کی سماعت کے دوران اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکومت کی اس درخواست کو مسترد کر دیا ہے ، جس میں 26/11 کے سرغنہ ذکی الرحمن لکھوی اور چھ دیگر مشتبہ افراد کی آواز کے نمونے مانگے گئے تھے۔

    • Agencies
    • Last Updated :
    • Share this:

      اسلام آباد: ممبئی حملے کی سماعت کے دوران اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکومت کی اس درخواست کو مسترد کر دیا ہے ، جس میں 26/11 کے سرغنہ ذکی الرحمن لکھوی اور چھ دیگر مشتبہ افراد کی آواز کے نمونے مانگے گئے تھے۔


      استغاثہ نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر کے مشتبہ افراد کی آواز کے نمونے کا مطالبہ کیا تھا ، جس کو وہ ہندوستانی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی طرف سے دئے گئے آواز کے نمونے سے ملانا چاہتے ہیں اور پھر ممبئی حملے کیس میں انسداد دہشت گردی عدالت کے سامنے سات مشتبہ افراد کے خلاف ثبوت کے طور پر اسے پیش کرنا چاہتے ہیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے پیر کو درخواست مسترد کر دی۔


      سال 2011 اور 2015 میں نچلی عدالت نے لکھوی کی آواز کے نمونے حاصل کرنے کے مسئلے کو اس بنیاد پر مسترد کر دیا تھا کہ اس طرح کا کوئی قانون نہیں ہے جو ملزم کے آواز کے نمونے حاصل کرنے کی اجازت دیتا ہو۔ استغاثہ کی درخواست میں کہا گیا تھا کہ ہندوستانی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے 2008 میں ممبئی حملے کے سلسلے میں مشتبہ افراد اور دہشت گردوں کے درمیان بات چیت ریکارڈ کی تھی ۔


      ریکارڈکی گئی بات چیت میں مشتبہ افراد کو دہشت گردوں کو ہدایت دیتے ہوا سنا گیا ہے ۔ استغاثہ کے وکلاء نے دلیل دی تھی کہ اس ہائی پروفائل کیس کی تحقیقات کو مکمل کرنے کے لئے نمونے ضروری ہیں۔

      First published: