ہوم » نیوز » عالمی منظر

Capitol hill violence: ٹرمپ کے NSA دیں گے استعفیٰ، وہائٹ ہاؤس اسٹاف کے 4  عہدیداران نے دیا استعفی

کیپیٹل میں ہوئے تشدد کے بعد ڈونالڈ ٹرمپ ( Donald Trump) سے جڑے کئی افسران نے استعفیٰ دینا شروع کر دیا ہے۔ ان افسران میں ٹرمپ کے نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر (NSA) رابرٹ اوبرائن (Robert O'Brien) بھی شامل ہیں۔

  • Share this:
Capitol hill violence: ٹرمپ کے NSA دیں گے استعفیٰ، وہائٹ ہاؤس اسٹاف کے 4  عہدیداران  نے دیا استعفی
کیپیٹل میں ہوئے تشدد کے بعد ڈونالڈ ٹرمپ ( Donald Trump) سے جڑے کئی افسران نے استعفیٰ دینا شروع کر دیا ہے۔ ان افسران میں ٹرمپ کے نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر (NSA) رابرٹ اوبرائن (Robert O'Brien) بھی شامل ہیں۔

کیپیٹل میں ہوئے تشدد کے بعد ڈونالڈ ٹرمپ ( Donald Trump)  سے جڑے کئی افسران نے استعفیٰ دینا شروع کر دیا ہے۔ ان افسران میں ٹرمپ کے نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر (NSA)  رابرٹ اوبرائن (Robert O'Brien)  بھی شامل ہیں۔ سی این این CNN کی خبر کے مطابق وہائٹ ہاؤس کے 4 ٹاپ افسران نے ابھی تک ٹرمپ سے رابطہ کرکے استعفی دینے کی پیشکش کی ہے۔ یہ سبھی کیپیٹل میں ہوئے تشدد اور الیکٹورل ووٹوں کی گنتی روکنے کے واقعے سے ناراض ہیں۔ تشدد کے بعد ہاؤس آف ریپرزینٹیٹو (HOR) کی اسپیکر نینسی پیلوسی نے کہا، ہم بغیر ڈرے اپنا کام جاری رکھیں گے۔


رابرٹ اوبرائن (Robert O'Brien) کے علاوہ ڈپٹی نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر میٹ پاٹیںگر، ڈپٹی چیف آف اسٹاف کرس لنڈیل نے بھی دونالڈ ٹرمپ کو استعفیٰ  سونپ دیا ہے۔ حالانکہ اسے فی الحال پبلک نہیں کیا گیا ہے۔ برائن نے ایک بیان میں کہا، میں نے صبح ہی نائب صدر مائیک پینس سے بات کی ہے۔  وہ ایک بہادر آدمی ہے اور مجھے ان کے ساتھ کام کرنے پر فخر ہے۔ بدھ کے روز امریکہ میں پارلیمنٹ کے دونوں ایوان جو بائیڈن کی جیت  پر مہر لگانے کے لئے  جمع ہوئے۔ گنتی کے دوران صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے سیکڑوں حامی پارلیمنٹ عمارت (Capitol hill ) میں داخل ہوئے۔ اس دوران  ایک گولی بھی چلائی گئی اور ایک خاتون  سمیت چار لوگوں کی موت ہوگئی۔


نائب صدر مائیک پینس بھی ڈونالڈ ٹرمپ سے خفا

امریکی صدر کے انتخاب کی جیت پر مہر لگانے کیلئے کانگریس یعنی امریکی پارلیمنٹ کا مشترکہ سیشن بلایا جاتا ہے۔ اس کی صدارت نائب صدر کرتے ہیں اور کرسی پر مائیک پینس تھے۔ ٹرم حامیوں کی حرکت سے بیحد خفا نظر آئے۔ انہوں نے کہا، یہ امریکی تاریخ کا سب سے پہلا کالا دن ہے۔ تشدد سے جمہوریت کو دبایا جا یا ہرایا نہیں جاسکتا۔ یہ امریکی عوام کے بھروسے کا مرکز تھا، ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ صرف پینس ہی نہیں کہیں ریبلکیکن سینیٹر بھی اس تشدد سے ناراض نظر آئے اور کہا کہ یہ دیکھ کر امریکہ کی آنے والی نسلیں ہمارے بارے میں کیا سوچیں گی۔
کانگریس کا مشترکہ اجلاس ، امریکی پارلیمنٹ کو صدر الیکٹ الیک کی فتح پر مہر لگانے کے لئے کہا گیا ہے۔ اس کی سربراہی نائب صدر اور مائک پینس کرسی پر کررہے ہیں۔ ٹرمپ اپنے حامیوں کے اقدامات سے بہت ناراض تھے۔ انہوں نے کہا- یہ امریکی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے۔ جمہوریت کو دبا. یا تشدد سے نہیں ہرایا جاسکتا۔ یہ امریکی عوام کے اعتماد کا مرکز تھا ، اور ہمیشہ رہے گا۔ صرف پینس ہی نہیں ، ریپبلکن سینیٹرز بھی اس تشدد سے ناراض ہوئے اور کہا کہ اسے دیکھ کر امریکہ کی آنے والی نسلیں ہمارے بارے میں کیا سوچیں گی۔


جو بائیڈن نے تشدد کو بتایا غداری۔۔۔
واشنگٹن میں صدارتی انتخابات کے نتائج کی توثیق کے اجلاس کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں نے ہنگامہ کیا۔ٹرمپ کے حامیوں کے ہجوم نے امریکی کیپیٹل ہل عمارت کے باہر ہنگامہ آرائی شروع کردی۔ اس دوران ڈرمپ کے حامیوں اورپولیس کے بیچ جھڑپ ہوئی۔جس میں ایک خاتون سمیت 4 افراد کی موت ہوگئی جبکہ کئی افراد زخمی ہوئے ہیں ۔اس معاملے میں 13 افراد کو حراست میں لے لیاگیاہے۔پولیس نے کچھ ہتھیار بھی ضبط کیے ہیں۔اس معاملے کی چہار جانب سے مذمت کی جارہی ہے۔امریکی صدر الیکٹ جو بائیڈن نے امریکی کیپیٹل ہل میں ٹرمپ کے حامیوں کی ہنگامہ آرائی کو غداری قرار دیا ہے ۔
Published by: Sana Naeem
First published: Jan 07, 2021 12:24 PM IST