உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    دولت اسلامیہ نے افغانستان میں 30 عام شہریوں کو موت کے گھاٹ اتارا

    فائل فوٹو

    فائل فوٹو

    ہرات۔ افغانستان کے دور افتادہ غور صوبہ میں دولت اسلامیہ کے مشتبہ جنگجووں نے اپنے ایک کمانڈر کے قتل کا انتقام لینے کے لئے 30 شہریوں کا اغوا کرکے انہیں قتل کردیا۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      ہرات۔ افغانستان کے دور افتادہ غور صوبہ میں دولت اسلامیہ کے مشتبہ جنگجووں نے اپنے ایک کمانڈر کے قتل کا انتقام لینے کے لئے 30 شہریوں کا اغوا کرکے انہیں قتل کردیا۔ یہ اطلاع ایک صوبائی افسر نے دی ۔ افغانستان کی پولیس نے غور صوبہ میں کل اپنی کارروائی میں دولت اسلامیہ کے ایک کمانڈر کو مار ڈالا تھا ۔ اس کا بدلہ لینے کےلئے دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں نے صوبائی راجدھانی کے نزدیک 30 شہریوں کا اغوا کرلیا اورا ن سبھی کو گولی مارکر قتل کردیا۔ یہ اطلاع صوبائی گورنر کے ایک ترجمان عبدالحئی خطیبی نے دی۔


      کمانڈر کے قتل کے بعد جنگجوؤں نے صوبائی راجدھانی فیروز کوہ کے نزدیک حملہ کیا۔ غور صوبہ افغانستان کے مغربی حصہ میں ہے۔ یہ صوبہ دولت اسلامیہ کا مرکز نہیں رہا ہے۔ اب تک د ولت اسلامیہ کی بیشتر سرگرمی مشرقی صوبہ ننگرہار میں مرکوز رہی ہے۔ ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ٹوئیٹر پر پیغام بھیج کر کہا ہے کہ طالبان نے جو دولت اسلامیہ کے کٹر مخالف ہیں کہا ہے کہ وہ غور میں عام شہریوں کی اموات کے لئے ذمہ دار نہیں ہے۔

      First published: