உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    انڈونیشیا کے اسٹیڈیم میں بھگدڑ سے 32 بچے ہلاک، اب بھی درجنوں کے متاثر ہونے کی اطلاع

    ’’ہم نے ان سے کہا کہ ان کے خلاف کارروائی کریں‘‘

    ’’ہم نے ان سے کہا کہ ان کے خلاف کارروائی کریں‘‘

    یہ المیہ اس وقت سامنے آیا جب ہوم ٹیم اریما ایف سی کے شائقین نے اپنے تلخ حریف پرسیبا سورابایا سے 3-2 سے ہارنے کے بعد کانجوروہان اسٹیڈیم کی پچ پر دھاوا بول دیا۔ عینی شاہدین کے مطابق پولیس نے بھری چھتوں میں آنسو گیس شروع کر کے جواب دیا

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • inter, IndiaIndonesia Indonesia
    • Share this:
      ایک اہلکار نے پیر کو بتایا کہ انڈونیشیا کے اسٹیڈیم کی تباہی میں کم از کم 32 بچے ہلاک ہوئے، اسی دوران حکومت نے فوری پولیس کو حکم دیا کہ وہ فٹ بال کی تاریخ کی مہلک ترین آفات میں سے ایک کے مجرموں کی شناخت کرے۔ ہفتے کی رات ملنگ شہر میں پیش آنے والے اس سانحے میں کل 125 افراد ہلاک اور 323 دیگر زخمی ہوئے۔ افسران نے بھرے اسٹیڈیم میں پچ پر حملے کو روکنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کی، جس سے بھگدڑ مچ گئی۔

      وزارت برائے بااختیار خواتین و اطفال کے ایک اہلکار نے پیر کے روز بتایا کہ افراتفری میں پھنسے درجنوں بچے اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ہمیں موصول ہونے والے تازہ ترین اعداد و شمار سے حادثے میں مرنے والوں کی تعداد 125 ہیں۔ ان میں سے 32 بچے تھے، جن میں سے سب سے کم عمر تین یا چار سال کی عمر کے بچے تھے۔ پولیس کے خلاف غصہ بڑھنے کے بعد انڈونیشیا کے چیف سیکورٹی منسٹر محمود ایم ڈی نے اعلان کیا کہ تحقیقات کے لیے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی گئی ہے۔

      انہوں نے ایک نشریاتی بیان میں کہا کہ ہم قومی پولیس سے آئندہ چند دنوں میں جرائم کا ارتکاب کرنے والے مجرموں کو تلاش کرنے کے لیے کہتے ہیں۔ ہم نے ان سے کہا کہ ان کے خلاف کارروائی کریں اور ہمیں یہ بھی امید ہے کہ قومی پولیس ان کے حفاظتی طریقہ کار کا جائزہ لے گی۔

      یہ بھی پڑھیں: 


      یہ المیہ اس وقت سامنے آیا جب ہوم ٹیم اریما ایف سی کے شائقین نے اپنے تلخ حریف پرسیبا سورابایا سے 3-2 سے ہارنے کے بعد کانجوروہان اسٹیڈیم کی پچ پر دھاوا بول دیا۔ عینی شاہدین کے مطابق پولیس نے بھری چھتوں میں آنسو گیس شروع کر کے جواب دیا، جس سے تماشائیوں کو چھوٹے دروازوں کی طرف دوڑنا پڑا جہاں بہت سے لوگوں کو روند دیا گیا یا دم گھٹ گیا تھا۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: