ہوم » نیوز » عالمی منظر

امریکی فوج کو نشانہ بناکر چار راکٹوں سےعراقی ایر بیس پر کیے گئے حملے، 4عراقی پائلٹ زخمی

پچھلے دو ہفتوں میں ، البلاد ایئر بیس پر تعینات بیشتر امریکی پائلٹ پہلے ہی وہاں سے چلے گئے ہیں۔جس کی وجہ امریکہ اور ایران کے مابین بڑھتی کشیدگی کو بتایاگیاہے۔

  • Share this:
امریکی فوج کو نشانہ بناکر  چار راکٹوں  سےعراقی ایر بیس پر کیے گئے حملے، 4عراقی پائلٹ زخمی
پچھلے دو ہفتوں میں ، البلاد ایئر بیس پر تعینات بیشتر امریکی پائلٹ پہلے ہی وہاں سے چلے گئے ہیں۔جس کی وجہ امریکہ اور ایران کے مابین بڑھتی کشیدگی کو بتایاگیاہے۔

بغداد کے شمال میں ایک عراقی ایر بیس پر چار راکٹوں سے کیے گئے حملے میں چار عراقی پائلٹ زخمی ہوگئے۔ فوجی ذرائع نے حملہ کی تصدیق کی ہے۔ جبکہ سیکیورٹی فورسز نے بتایا ہے کہ پائلٹ کے زخمی ہونے کی جانکاری دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے دو ہفتوں میں ، البلاد ایئر بیس پر تعینات بیشتر امریکی پائلٹ پہلے ہی وہاں سے چلے گئے ہیں۔جس کی وجہ امریکہ اور ایران کے مابین بڑھتی کشیدگی کو بتایاگیاہے۔


عراق سے امریکی فوج کے انخلا کے اعلان کے بعد ہوا حملہ


عراق کے سبکدوش وزیر اعظم عادل عبدل مہدی نے بغداد میں ایک وفد امریکہ بھیج کر اپنی فوج سے دستبرداری کے اعلان کے تین دن بعدیہ حملہ گیا کیا ہے۔ مہدی نے کہا تھا کہ امریکہ کے پاس اپنی فوج واپس لینے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔ نومبر میں مہدی نے حکومت مخالف مظاہروں کے بعد استعفیٰ دے دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ عراق چاہتا ہے کہ امریکہ اپنی فوجیں یہاں سے واپس لیے جائے تاکہ صورتحال مزید خراب نہ ہو کیونکہ امریکہ اور ایران کے مابین تناؤ میں کافی حد تک اضافہ ہوا ہے۔ان کے یہ ریمارکس امریکی فضائی حملے میں ایران کے ایک اعلی جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے کچھ دن بعد سامنے آئے تھے۔ بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر پہنچنے کے فورا ًبعد ہی جنرل کو نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے میں ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا کے ایک عراقی کمانڈر ابو مہدی المہندیس بھی جاں بحق ہوئے تھے۔


ایران کے جنرل قاسم سلیمانی کی فائل فوٹو۔(تصویر:اے ایف پی)۔


امریکی ایئر بیس پر بڑھتے ہوئے حملے

حالیہ مہینوں میں ، امریکی فوجیوں کی تعیناتی کیمپوں پر راکٹوں اور مارٹروں سے اکثر حملے ہوتے رہتے ہیں۔ اگرچہ ان حملوں میں زیادہ تر عراقی فوجی زخمی ہوئے ہیں ، تاہم ایک امریکی ٹھیکیدار بھی گذشتہ ماہ ہلاک ہوگیا تھا۔جنرل سلیمانی کی ہلاکت کے بعد امریکہ اور ایران کے مابین تناؤ میں اضافہ ہوا ہے۔ جوابی کارروائی میں ایران نے یوکرین کا مسافر بردار طیارہ گرادیا۔ اسی کے ساتھ ہی ایران نے امریکہ کے ساتھ جوہری معاہدہ ختم کرنے کا اعلان بھی کیا تھا۔ سلیمانی کی موت کے بعد سے ہی ایران نے عراق میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔
First published: Jan 13, 2020 08:29 AM IST